سوال بستی میں چھپے مفرور شخص کی حکایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’کیا یہی سوال نامی بستی ہے؟ ‘

’آ جاؤ آ جاؤ کیا تمہیں بھی نکال دیا ہے؟ ‘

’ہاں، انہوں نے مجھے شہر بدر کر دیا ہے۔ ‘

’یہاں کچھ شہر سے نکالے ہوئے باسی رہتے ہیں۔ لیکن تم تو ابھی بالکل نوجوان ہو تمہیں کیوں نکال دیا؟ ‘

’میں نے اسکول میں ایک سوال پوچھا تھا۔ ‘

’پھر؟ ‘

’جب میرے استاد نے اور میرے گھر والوں نے اس کا جواب نہیں دیا تو میں نے بھرے بازار میں ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کروہ سوال پوچھ لیا۔ ‘

’کیا تمہیں اپنے سوال کا جواب مل گیا؟ ‘

’نہیں پہلے تو کچھ لوگ مجھے گھورنے لگ گئے۔ پھر چند جیالے آگے بڑھے اور مجھ پر آوازیں کسنے لگے۔ کسی نے کہا کہ میں ان کے مذہب کے خلاف ہوں، کوئی چلایا کہ میں ان کی روایات کا مذاق بنا رہا ہوں، ایک نے مجھے غدار قرار دے دیا، ایک دوسرا میرے کان کے پاس آ کر چنگھاڑا کہ میں ملک دشمن ہوں۔ ‘

’پھر تم نے کچھ کہا؟ ‘

’جی، میں نے وضاحت کی کہ میں نے کسی مذہب مسلک روایت یا قانون کے خلاف کچھ نہیں کہا ہے۔ صرف ایک سوال پوچھا ہے تو مجمع میں ایک جیالا چیخا کہ سوال پوچھنا قانون کے خلاف ہے۔ میں نے پوچھا کہ کون سا قانون۔ ‘

’کیا تمہیں انہوں نے کسی قانون کا حوالہ دیا؟ ‘

’وہی لوگ جو مجھ پر الزامات عائد کر رہے تھے پنجائیت لگاکر بیٹھ گئے اور منصف بن گئے، مجھے شہر بدر کی سزا سنا دی۔ ‘

’کیا کوئی تمہاری حمایت میں بولا؟ ‘

’دوچارلوگوں کی آنکھوں میں ہمدردی ضرور تھی۔ اُس شہر کے لوگ صرف وہی کہتے ہیں جو دن رات ان کو سنایا جاتاہے اور اسی میں مست رہتے ہیں۔ نہ وہ اپنی سوچ سے بولتے ہیں، دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں۔ ‘

’چلو کوئی فکر کی بات نہیں تم صحیح جگہ پہنچ گئے ہو۔ ‘

’لیکن اس بستی میں کون کون سے لوگ رہتے ہیں؟ کیا آپ سب لوگوں نے بھی کوئی سوال پوچھا تھا؟ ‘

’یہاں کے بیشتر لوگ ادیب، شاعر، فلسفی، مصور، موسیقار، گلوکار ہیں ان کے فن یا سوچ میں کوئی سوال تھا یا کوئی ایسا پیغام جو اُن شہر کے لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ یہاں یہ سب اب بہت سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ فضاؤں میں موسیقی کی دھنیں بکھیرتے ہیں۔ جو چاہے کہتے ہیں، لکھتے ہیں، ظلم کو بیان کرتے ہیں، مصوِّ ر نت نئے شاہکار تراشتے ہیں، یہاں کسی فکر یا سوال پر پابندی نہیں ہے۔ ‘

’تو کیا میں بھی اس طرح کی زندگی یہاں گزار سکتا ہوں؟ ‘

’ہاں! لیکن تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ شہر کے لوگ اس بستی پر پھر ایک نہ ایک دن حملہ کریں گے۔ ‘

تو پھر یہ ہمیں مار ڈالیں گے؟ ’

’کچھ کو ضرور ماریں گے۔ باقیوں کو یہاں سے بھگا دیں گے۔ لیکن کچھ لوگ یہاں مستقل رہتے ہیں۔ ‘

’مستقل رہتے ہیں! وہ کیونکر ان حملوں کا شکار نہیں بنتے؟ ‘

’ابھی تمہیں یہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ‘

’پھر لوگ یہاں اتنے پر سکون کیوں نظر آ رہے ہیں؟ ‘

’یہ سکون نہیں ہے بلکہ ہمارا جنون ہے۔ ہم اپنے فن یا دھن کے عشق میں مگن ہیں۔ ہما رے اندر اضطراب ہے، ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے، ہمار ی روحیں بے چین ہیں۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو جنگ و جدل اور ظلم اور نفرت کا شکار ہیں۔ ہم ان کے ساتھ چلتے ہیں، ان کے ساتھ سوتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ ہنستے اور روتے ہیں۔ ‘

’مجھے اس طرح کی زندگی منظور ہے۔ میں ہمیشہ آپ لوگوں کے ساتھ رہوں گا جب تک کہ یہ شہر والے مجھے زندہ رہنے دیتے ہیں۔ یہاں کوئی بجلی نہیں ہے، کوئی بلب نظرنہیں آرہا پھر بھی اتنا سندر اجالاہے۔ اُس شہر میں ہر طرف سجی روشنیوں کے با وجود اندھیرا تھا۔ وہاں کتنا شور تھا، بات چیت کم اور شور زیادہ۔ یہ، یہ، یہ آوازیں کیوں آرہی ہیں؟ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں۔ ‘

’میرا خیال ہے کہ یہ لوگ تمہیں تلاش کررہے ہیں۔ تمہیں توانہوں نے شہر بدر کر دیا تھا تو پھر یہ لوگ تمہارے پیچھے کیوں آ رہے ہیں؟ ‘

’میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ پنجائیت نے مجھے موت کی سزا سنائی تھی لیکن میں ایک دوست کی مدد سے قید خانے سے بھاگ نکلا۔ ‘

’تم اس درخت کے پیچھے غار میں چھپ جاؤ وہ تمہیں نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔ ‘

’انہیں سو فیصد یقین ہے کہ میں آپ لوگوں کے پاس آ گیا ہوں۔ مجھے واپس جانے دیں ورنہ وہ سوال بستی کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ ‘

’یہ تو تباہ ہوتی رہتی ہے لیکن پھر دوبارہ بس جاتی ہے۔ کچھ لوگ مار د ئے جاتے ہیں، آہستہ آہستہ نئے لوگ ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ‘

’نہیں، میں ضرور واپس جاؤں گا اب مجھے ان کا کوئی ڈر نہیں۔ میں نے یہاں آزادی کی ہوا میں کچھ سانس لے لئے ہیں اور یہ ہمیشہ کے لئے میرے اندر رچ بس گئے ہیں۔ میں نے درد بھرے اور سرکش نغموں کو سن لیا ہے۔ یہاں کی موسیقی کی دھنیں، شاعروں اور ادیبوں کی تحریریں جن کو سنے اور پڑھے بغیر ہی میں نے محسوس کر لیا ہے، میرے من میں سما گئی ہیں۔ اب میری زبان پر کوئی پہرے نہیں ہیں۔ اوراب میں بغیر زبان اور بغیر قلم کے بھی سوال پوچھ سکتاہوں۔ وہ میرے جسم کو سزا دے سکتے ہیں لیکن میرے من کو نہیں۔ ‘

’یہ باتیں بعد میں کر لیں گے۔ یہ لوگ بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اب تم فوراً اس غار میں چھپ جاؤ ورنہ یہ لوگ تمہارے ساتھ وہی کریں گے جو میرے ساتھ ہو چکا ہے۔ ‘

’اور آپ کیا یہی کھڑے رہیں گے؟ وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔ آپ بھی میرے ساتھ غار میں چھپنے کے لئے آئیں۔ ‘

’نہیں مجھے چھپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ‘

’وہ کیوں؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔ ‘

’وہ میرے جسم کو بہت پہلے قتل کر چکے ہیں۔ ‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •