کیادنیا جنگ کی منتظر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی حقوق کے کچھ کارکنوں نے ظلم کے وہ پہاڑ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے جو آزادی کی خواہش رکھنے والے کشمیریوں پر ڈھائے جارہے ہیں مگر کشمیر میں پانچ دن گزار کر واپس لوٹنے والے اکانومسٹ ژان دریز، نیشنل ایلائنز آف پیپلز موومنٹ کے ویمل بھائی، سی پی آئی ایم ایل پارٹی کی کویتا کرشنن اور ایپوا کی میمونہ ملاح دلی کے پریس کلب آف انڈیا کے درجنوں کیمروں کے سامنے وہ سب کچھ دکھانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اس کی وجہ سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں، مطلب صاف ظاہر ہے کہ بھارت سرکار کی کوشش ہے کہ وہ دنیا سے جتنا ہوسکے سچ چھپالے۔

بھارت سرکار اپنے میڈیا اور صحافیوں کو خرید سکتی ہے، تالے لگا سکتی ہے مگر کچھ زبانیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کٹ جاتی ہیں مگر سچ کو دنیا کے سامنے لاکر ہی رہتی ہیں۔ غیر جانبدار صحافی، لکھاری، دانشور اور سیاستدان حق ادا کرتے رہیں گے چاہے انہیں اس کے لیے بھاری نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑ جائے۔ آخر وادی کشمیر میں ایسا کیا ہو رہا ہے کہ جسے دنیا سے چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر عالمی میڈیا کی کچھ رپورٹس بغور پڑھی جائیں اور ان کے نیوز پیکجز دھیان سے دیکھے اورسنے جائیں تودنیا کو یہ سمجھنے میں ذرا بھی مشکل نہیں پیش آئے گی کہ بھارت اتنے سالوں سے معصوم کشمیریوں سے ان کا حق چھینتا آ رہا ہے اور اب وہ آخری حد تک پہنچ چکا ہے اس کے لیے وہ ظلم کے سبھی ضابطے آزما رہا ہے۔

عالمی میڈیا سے وابستہ ایک صحافی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کشمیریوں سے بات کرنے کی کوشش کی مگر پہلے تو انہیں کوئی ایسا بندہ تلاش کرنے میں ہی مشکل پیش آئی کیوں کہ مکمل کرفیو ہونے سے لوگ سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر نہ ہونے کے برابر ہیں، ہرطرف ہو کا عالم ہے، مشکل سے اگر کوئی کشمیری مل جائے تو پھر وہ سہما ہوا ہے، ڈرا ہوا ہے، اس کے چہرے پر خوف اتنا ہے کہ وہ کچھ بتاتا نہٰیں اور اگر کوئی شخص بات کرتا ہے تو وہ پھر یہی کہ اگر آپ کو کچھ بتائیں گے تو اس کا مطلب صاف ہے اور یہ مطلب ہے ان کی ”موت“ اور خوشی سے مرنا کوئی بھی نہیں چاہتا۔ اِدھر آپ ہماری آواز دنیا کو سنائیں گے اور اُدھر شام سے پہلے ہی ہمارا خون بہا کر ہماری آواز ہی بند کردی جائے گی یعنی اب وادی میں بولنے والے کو صرف گولی سے ہی خاموش کرایا جا رہا ہے۔

کویتا نامی انسانی حقوق کی کارکن کے بقول وادی میں ہر طرف چند الفاظ ہی سنائی دیتے ہیں اوروہ یہ ہیں۔ ”بربادی، بندوق، زیادتی، قبرستان اور ظلم“ ان الفاظ کو پڑھنے اور سننے کے بعد کشمیر کی صورتحال کا چشم تصورسے خود ہی اندازہ لگالیں کہ بھارت سرکار اس خوبصورت خطے کو کس طرح لہو رنگ کر رہی ہے۔ دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر جگانے کی ضرورت ہے کیوں کہ مسئلہ کشمیر صرف مسلمانوں کا ہی نہیں پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، یہاں انسانیت کو برباد ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے، یہاں پر بندوق کا بے دریغ استعمال روکنے کی ضرورت ہے، نہتے کشمیری عوام پر زیادتی کرنے والوں کے ہاتھ روک کر اس وادی سے ظلم ختم کرنے اور اسے قبرستان بننے سے بچانے کی ضرورت ہے۔

اُن این جی اوز کو بھی کشمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو جانوروں کے حقوق پر تو کام کرتی ہیں مگر کشمیر میں اشرف المخلوقات کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور ان کی آنکھیں بند اور ہاتھ آگے نہٰیں بڑھ رہے۔ ایسی تنظیموں کو جاگنے کی ضرورت ہے جو عورت کو حقوق دلانے کی دعویدار ہیں مگر انہیں کشمیری لڑکیوں کی عزتیں بچانے کی فکر نہیں، ان تنظیموں کو کشمیری ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچانے میں اپنا کردار نبھانے کی بھی ضرورت ہے۔

مگر مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لیے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور افغانستان میں طالبان کے خلاف سالوں لڑ کر تھکا ہارا امریکہ مذمتی بیانات سے آگے نجانے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ دنیا کے اس چوہدری کو بھی ان بیانات سے باہر نکل کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے کہ ”ہم کشمیر کے معاملے کاباریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی تنازعے پر نظر ہے“ کیا دنیا اس دن کی منتظر ہے کہ جب دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے میدان میں اتریں گی؟ اس کا انجام کتنا خوفناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •