مولانا مودودی کے بیٹے کی کتاب اور انکشافات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎ ”آفتابِ علم و عرفان سید ابوالاعلیٰ مودودی“ کے عنوان سے مولانا مودودی کے بیٹے سید حسین فاروق مودودی کی تصنیف منظر عام پر آئی ہے۔ مطبع کا نام عفاف پرنٹر اردو بازار لاہور ہے۔ کتاب پر ”ترجمان القرآن پبلی کیشنز 5۔ اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور“ کا نام بھی درج ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مولانا مرحوم کے خاندان اور جماعت اسلامی کے درمیان نزاع کی تفصیل ہے تاہم اس میں کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں جو ہمارے ملک کی سیاست، نظام اور ہماری قومی اخلاقیات کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔

‎جنرل ضیاء الحق کے حوالے سے سید حسین فاروق مودودی لکھتے ہیں۔ ”مولانا مودودی اپنے خداداد فہم کے باعث جنرل ضیاء سے نالاں اور بددل ہو گئے۔ وہ جان گئے تھے کہ اسلام کی ترویج و ترقی کے لئے جس خلوص کی ضرورت ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ضیاء کے اقدامات بے فائدہ ہوں گے۔ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ ایسے موقع پر مولانا کی بنائی جماعت جس کی آبیاری انہوں نے خون جگر سے کی تھی وہی جماعت اسلامی جنرل ضیاء کے عہد حکومت میں اور بعد ازاں افغان جنگ کی سرخیل بن کر بے پناہ مالی منفعت میں حصہ دار بنی۔ لوگوں کے جوان بچے مارے گئے اور نام استعمال ہوا جہاد اور اسلام کا مگر نہ کہیں باران رحمت کی گھٹا اٹھی اور نہ ہی کوئی روئیدگی ممکن ہوئی“

‎آگے چل کر لکھتے ہیں

‎ ”جماعت کے نظام اور روایات میں بتدریج انحطاط کا اندازہ مولانا (ہمارے والد) کو ہوتا جا رہا تھا۔ قیادت کا ایک معتدبہ حصہ اب انہیں اپنے ہدف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ جماعت میں امارت کے لئے انتخاب کی غرض سے ہر قسم کی کنوینسنگ انتہائی قابل اعتراض اور ممنوع تھی بلکہ اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن یہ سب کچھ بھلا دیا گیا۔ جب غلام اعظم صاحب کے کامیاب ہونے کا واضح امکان تھا تو نتائج تبدیل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح بقول میاں صاحب کے چودھری رحمت الٰہی صاحب کی جگہ قاضی حسین احمد صاحب کی کامیابی ممکن بنائی گئی اوریہ سب انجینئیرڈ انتخاب کا نتیجہ تھا۔ بعدازاں موجودہ امیر جماعت سراج الحق کا انتخاب بھی اسی طرح ممکن ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ مقتدر حلقوں کو منور حسن صاحب قبول نہیں تھے جس کی وجہ غالباً ان کے بعض بیانات تھے جس میں مسلح افواج بمقابلہ طالبان کا تذکرہ آیا تھا۔ ان انتخابات میں پوسٹل بیلٹ کے تقریباً تین سو سے زائد ووٹوں کے لفافے ہی غائب ہو گئے اور ناظم انتخابات جناب عبدالحفیظ صاحب جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے کو سراج الحق صاحب کی کامیابی کا اعلان کرنے پرمجبور کیا گیا۔ یہ بات انہوں نے خود عبدالوحید سلیمانی صاحب کو انتہائی دکھ کے ساتھ بتائی تھی۔ جہاں سے مجھ تک پہنچی۔ (سلیمانی صاحب حکیم محمد عبداللہ جہانیاں والے کے صاحبزادے تھے اور رکن جماعت تھے )“ (صفحات 138 تا 140 )

‎مولانا مودودی مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ صاحب کتاب لکھتے ہیں

”ملک کے اطراف و اکناف سے مولانا سے استعفیٰ واپس لینے کی بے شمار اپیلیں کی جانے لگیں۔ کراچی کے ایک اہم صاحب علم رکن جماعت جناب مصباح الاسلام فاروقی، جو صاحب تصنیف و صاحب قلم بھی تھے جماعت یعنی مولانا کی قائم کردہ ’اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی‘ سے وابستہ تھے، نے شدید احتجاج کیا اور اس حوالہ سے ایک پمفلٹ لکھ کر شائع کیا۔ اسلامی اکیڈمی کے انتظامی سربراہ جناب منور حسن تھے انہوں نے فی الفور مصباح الاسلام فاروقی صاحب کی تنخواہ اور مراعات منقطع کر دیں اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا ’اب تم اگر گھٹنوں کے بل چل کر بھی آئے تو کچھ نہیں ملے گا‘ (صفحہ 140 )“

‎حکومتی مراعات کے حوالے سے سید حسین فاروق مودودی رقم طراز ہیں۔ ”مولانا اصحاب اقتدار سے ذاتی یا سماجی روابط قائم کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ افسوس کہ یہ روایت اکابر جماعت جو مولانا کے بعد جماعت کے ذمہ داران مقرر ہوئے برقرار نہ رکھ سکے۔ خود میاں صاحب نے اپنے صاحبزادے کی شادی کے موقع پر دعوت ولیمہ میں صدر جنرل ضیاء الحق کو مدعو کیا۔ یوں جماعت مارشل لا کی بی ٹیم بھی کہلائی۔ میاں صاحب نے جنرل ضیا سے اپنے بعض اعزہ کے لئے ضرورتاً سفارش بھی دو ایک مواقع پر کی۔ ایک بار جنرل صاحب نے بالآخر ناگواری کا اظہار بھی کیا“ (صفحہ 145 )

”پلاننگ کمیشن کے چیئرمین اور منسٹری کا عہدہ جنرل ضیا نے جماعت کے کوٹے کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دیا تھا۔ اس عہدہ سے قبل بھی جنرل ضیاء الحق نے خورشید صاحب پر نوازشات شروع کر دی تھیں۔ ان کو پی آئی اے کی انکوائری کروانے کی ذمہ داری گئی جو انہوں نے اپنے ادارے آئی پی ایس کے تحت کروائی۔ اس انکوائری کے عوض ایک خطیر رقم موصوف کو ادا کی گئی۔ اس کی فائل میں نے خود دیکھی تھی جس پر ایک افسر نے نوٹ لکھا تھا کہ یہ بالکل ’فیک‘ ‎اور بچگانہ سی انکوائری ہے۔ لگتا ہے کہ گھر بیٹھ کرتیار کی گئی چنانچہ اس پر کوئی پیمنٹ ‎نہ کی جائے جس کو کاٹ کر جنرل ضیاء نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ فوراً ادائیگی کی جائے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ایک نہایت قیمتی پلاٹ بھی پروفیسر خورشید کو بالکل مفت الاٹ کیا گیا جہاں پر اب آئی پی ایس کی بلڈنگ موجود ہے“ (صفحہ 149 )

”ایک واقعہ کا ذکر مجھ سے محمد صلاح الدین صاحب ( جسارت اور تکبیر کے ایڈیٹر) نے کیا جس کی تصدیق جناب الطاف حسن قریشی نے بھی کی۔ میاں نواز شریف کی پہلی وزارت عظمی کے دوران ایک ملاقات کے سلسلے میں وزیر اعظم کے دفتر میں جناب صلاح الدین الطاف حسن قریشی اور غالباً مصطفی صادق داخل ہو رہے تھے تو وزیر اعظم کے دفتر سے قاضی حسین احمد، پروفیسر خورشید اور جماعت کے ایک اور معروف رہنما باہر نکل رہے تھے نکلنے والے تینوں حضرات کے ہاتھوں میں بڑے سائز کے بریف کیس تھے صلاح الدین صاحب سے ملاقات میں نواز شریف نے بتایا کہ انہوں نے تینوں کو بہت بڑی رقم فراہم کی ہے“ ( صفحہ 150 )

‎ جماعت کی طلبہ تنظیم جمعیت کے حوالے سے بھی حسین فاروق مودودی نے کچھ واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔

”قیام پاکستان کے بعد جن دنوں جمعیت طلبہ کے قیام کے لئے جماعت کی شوریٰ میں مشاورت ہو رہی تھی، ایک موقع پر مولانا امین احسن اصلاحی نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ آپ لوگ یہ کیا غضب کرنے لگے ہیں؟ کیا اب طالب علموں کے ہاتھوں سے کتابیں لے کر انہیں اپنے سیاسی پمفلٹ تھمائیں گے؟ یہ بہت غلط بات ہو گی۔ اصلاحی صاحب کے اعتراض پر میاں طفیل صاحب برہم ہوئے اور جذباتی انداز میں کہا کہ یہی نوجوان تو ہماری آئندہ سیاسی تگ و دو کی اصل طاقت ہوں گے۔ بعد کے حالات سے ثابت ہو گیا کہ مولانا اصلاحی کا استدلال بجا تھا۔“ (صفحہ 145 )

”ابا جان مرحوم کی زندگی ہی میں پنجاب یونیورسٹی میں اس وقت کے سٹوڈنٹس یونین کے صدر حافظ محمد ادریس صاحب نے جمعیت کے دوسرے لڑکوں کے ہمراہ اس وقت کے وی سی علامہ علاء الدین صدیقی کے گھر میں زبردستی گھس کر توڑ پھوڑ کروائی اور محترم استاد کے ساتھ زیادتی اورگالم گلوچ کی جس کی تفصیل دوسرے روز تمام اخبارات کی ہیڈ لائن بنی۔ اس کے جواب میں ہمارے والد مرحوم نے علاء الدین صدیقی صاحب سے بذات خود معافی مانگی اور اخبارات میں جو بیان ان کا چھپا اس میں انہوں نے کہا کہ جمعیت نے میری زندگی بھر کی تربیت اور سارے کام اور محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ ان کے بعد کے ادوار میں جناب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یونیورسٹی کے امتحان دیتے ہوئے کتابوں سے نقل کرتے ہوئے پائے گئے جبکہ ان کے دونوں طرف جمعیت کے مسلح لڑکے کھڑے ہوتے تھے۔ اس دور کے کچھ اساتذہ اور طلبہ اب بھی زندہ ہوں گے جو اس منظر کی شہادت دے سکتے ہیں“

”زبردستی اساتذہ کا ٹرانسفر اور طلبہ کا ایڈمشن اور دوسری من مانی کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے بہت سے اساتذہ اور طلبہ نے امیر جماعت اور نعیم صدیقی صاحب سے شکایات کرنی شروع کیں، بے شمار خطوط روزانہ موصول ہونے لگے جس پر نعیم صدیقی صاحب نے اشارات میں لکھنا شروع کیا۔ اشارات کا شروع دن سے یہی مقصد رہا تھا کہ ارکان کو ہدایات، اصلاح اور رہنمائی فراہم کی جائے۔ اس وقت قاضی صاحب کی امارت کا دور شروع ہو چکا تھا۔ بقول نعیم صدیقی صاحب کے ایک دن صبح کے وقت اچانک ان کے گھر قاضی صاحب مرحوم آ دھمکے۔ نعیم صدیقی ان دنوں منصورہ میں جماعت کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیرتھے اور ترجمان القرآن کے مدیر تھے۔ دعا سلام کے بعد انتہائی تحکمانہ انداز میں حکم دیا کہ آئندہ ماہ سے ترجمان کے اشارات وہ خود لکھیں گے اور آپ یہ جماعت کا فلیٹ بھی خالی کر دیں اور یہ حکم صادر کر کے بغیر کسی دعا سلام کے ان کی نشست گاہ سے چلے گئے“ (صفحہ 182 تا 184 )

‎حسین فاروق مولانا مودودی کا بیٹا ہونے کے ناتے ”اندر“ کے آدمی ہیں۔ ان کے بیانات اور الزامات درست ہیں یا غلط، بہر طور سنگین ضرور ہیں۔ جماعت اسلامی آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کے نزدیک ایک قابل قدر جماعت اور امیدوں کا مرکز ہے حسین فاروق مودودی صاحب کے الزامات کا مسکت جواب دینا ان لاکھوں پاکستانیوں کے دل کی آوازہو گی۔ جماعت کے اصحاب حل و عقد اپنی ذمہ داریاں بہتر سمجھتے ہیں مگر منطقی طور پر انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ یہ مقدمہ امریکی عدالت میں بھی دائر کیا جا سکتا ہے جہاں حسین فاروق مقیم ہیں اور جہاں جماعت کا بھی مضبوط سیٹ اپ موجود ہے۔ لمحہ موجود میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ

‎؎ کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیے
‎لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ الگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •