17 اگست، بیگم شفیقہ ضیاء الحق نے کہا، مجھے سب پتہ ہے کون کرا رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1988، یہ 17 اگست کی سہ پہر تھی، بھادوں کا حبس فضا کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا، راولپنڈی میں بینک روڈ پر نوائے وقت کے رپورٹنگ روم میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر طارق وارثی داخل ہوئے اور لہجے میں گہری سوچ اور تشویش پیدا کرتے ہوئے کہا، ”ایک وی آئی پی فلائیٹ لاپتہ ہے، اللہ خیر کرے“ سب رپورٹر ان کی طرف متوجہ وہ گئے، کہنے لگے، ”آف دی ریکارڈ یہ ہے کہ طیارے میں صدر جنرل ضیاءالحق سوار تھے، لیکن جب تک اعلان نہ ہو کسی سے ذکر نہ کریں“۔

یہ پرنٹ میڈیا کا زمانہ تھا، ٹیلی وژن صرف ایک تھا وہ بھی سرکاری، ریڈیو بھی سرکاری، نہ بریکنگ نیوز، نہ ٹکر، نہ بیپر، نہ ماہرانہ رائے نہ آج کل جیسا دھوم دھڑکا، تب خبر کو خبر کی طرح ہی ٹریٹ کیا جاتا تھا، اب تو خبر کا سرا پکڑ کر رپورٹر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور کچھ دیر بعد پتہ چلتا ہے کہ معاملہ تو کچھ بھی نہ تھا۔

شام کو سرکاری اعلان جاری ہوا، خیرپور ٹامیوالی میں ٹینکوں کی ایکسرسائز دیکھنے کے بعد واپسی پر بستی لال کمال قریب سی 130 تباہ ہوا ، سی 130 میں سوار صدر جنرل محمد ضیاءالحق، متعدد جرنیل و سینئر فوجی افسران بشمول ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ اور ”پریشر ککر“ کے خالق بریگیڈئر صدیق سالک بہاولپور کے باہر خیر پور ٹامیوالی میں جاں بحق ہو گئے، طیارے میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل بھی سوار تھے۔

سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان نے قائم مقام صدر کا منصب سنبھال لیا، جی ایچ کیو میں عسکری قیادت کا اجلاس ہوا جس میں وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ نے فیصلہ کیا کیا ملک میں جاری جمہوری عمل کا تسلسل قومی مفاد میں جاری رکھا جائے۔

خیر پور ٹامیوالی سے سی 130 کے ملبے میں سے نکالی گئی مسخ شدہ لاشیں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال پہنچائی گئیں، مرحوم صدر کی لاش کو ان کے ڈینٹل سرجن نے دانتوں میں کی گئی قطع برید سے شناخت کیا۔ سول و عسکری قیادت کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ مرحوم صدر کو پورے قومی اعزاز کے ساتھ فیصل مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے۔

19 اگست کو جنرل ضیاء الحق کا جنازہ ایوان صدر اسلام آباد سے ایک فوجی ایمبولنس کے ذریعے بلیو ایریا کے راستے فیصل مسجد تک پہنچایا گیا، تمام راستہ سوگواروں کے ہجوم سے اٹا پڑا تھا، میں نے ایک موٹر سائیکل پر سوار یہ راستہ جنازے کے ساتھ ساتھ سروس روڈ پر طے کیا۔ کلثوم پلازہ کے قریب سر پر قرآن اٹھائے ایک دیہاتی خاتون میت گاڑی کے پیچھے بھاگنے لگی وہ گاڑی کو ہاتھ لگانے کی خواہش مند تھی، یہی نہیں سینکڑوں لوگ گاڑی کے آگے اور پیچھے دوڑ رہے تھے جبکہ ہزاروں لوگ فیصل مسجد کے پہلو میں واقع میدان میں منتظر تھے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات جاری تھیں اور اینکر اظہر لودھی کمنٹری کرتے ہوئے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے، مجھے اس دعوے میں کوئی مبالغہ آرائی نظر نہیں آتی کہ ضیاءالحق کے جنازے میں دس لاکھ افراد نے شرکت کی، خود میں نے فیصل مسجد کے سامنے نیول ہیڈ کوارٹر کی جانب ڈھلوان پر کھڑے ہونے جگہ بمشکل حاصل کی، یہاں سے مجمع پر نظر بھی ڈال سکتا تھا، فیصل مسجد کے صحن اور سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ فیصل مسجد کے چھت کی خطرناک ڈھلوانوں پر چڑھ کر بیٹھے تھے، جنازے میں قائم مقام صدر غلام اسحاق خان، مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک تھے، امریکی سابق وزیر خارجہ جارج شلز نے بھی مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ کہانی نیا موڑ تب لیتی ہے جب میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے چند روز بعد میں ان کے داماد ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ اس وقت کے آرمی ہاؤس پہنچا، مقصد جنرل ضیاء الحق کے اہل خانہ سے ملنا تھا جنہیں آرمی ہاؤس خالی کرنے کا حکم مل چکا تھا، ضلع کچہری راولپنڈی سے ملحق ایوب پارک کی جانب یہ ایک چھوٹی سی عمارت تھی جس میں شان و شوکت نام کو نہ تھی، جنرل ضیاء الحق نے اقتدار کے گیارہ سال یہیں پر گزارے، گھر میں داخلے پر ڈرائنگ روم میں پہلا سامنا جنرل ضیاء الحق کی چہیتی بیٹی زین ضیاء کے ساتھ ہوا جس کی خصوصی ذہنی صحت کے پیش نظر جنرل ضیاء الحق نے ملک میں خصوصی بچوں کے اداروں کے قیام پر توجہ دی، زین ضیاء ہر بات کے جواب میں صرف ایک ہی جملہ بول رہی تھی، ”اللہ کی مرضی“۔

قریب ہی جنرل ضیاء الحق کی والدہ بیٹھی تھیں جنہیں جنرل ضیاء کی زندگی میں بے پناہ اہمیت حاصل تھی، صبر و تحمل کا پہاڑ بزرگ خاتون خاموش تھیں، ان کے پاس جنرل ضیاء کی بیٹی بیٹھی تھیں جن کا نام عینی تھا، گھر میں سامان کی پیکنگ ہو رہی تھی، پوری فیملی یہاں سے منتقلی کی تیاری میں تھی، آگے جنرل ضیاء الحق کا بیڈ روم تھا جہاں بیگم شفیقہ ضیاء الحق بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھی تھیں، وہ برہم تھیں اور مسلسل بول رہی تھیں، میں نے ایک دو سوال کیے تو پھٹ پڑیں، وہ پنجابی بول رہی تھیں، ”ابھی تو قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی کہ حکم آ گیا ہے، گھر خالی کرو، کہاں جائیں ہم لوگ، کہاں رہیں ہم جا کر (ان دنوں اعجاز الحق کا ویسٹریج والا گھر زیر تعمیر تھا) ۔

بیگم شفیقہ ضیاء الحق مسلسل بول رہی تھیں، سب جانتی ہوں کون وہاں کیوں نہیں گیا، کون راستے سے واپس ایا، ہمیں کیوں نکالا جا رہا ہے، سب جانتی ہوں، یہ ایک بڑا ہی فکر انگیز لمحہ تھا میں ایک ایسی خاتون کی بے بسی دیکھ رہا تھا جس کے شوہر نے گیارہ سال پاکستان پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کی اور ان گیارہ برسوں میں بیگم شفیقہ ضیاء الحق اختیار اور طاقت کا استعارہ تھیں، لیکن اب وقت نے کروٹ بدل لی تھی، یہ تو صرف ایک مثال ہے، مملکت خداداد کے 73 سالوں میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں لیکن کوئی سبق نہیں سیکھتا، پتہ نہیں کیوں؟ آپ کو پتہ ہو تو کمنٹ میں ضرور لکھیئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •