مردہ ضمیر کا عذاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور کی دولت عطا کی اور معاشرے کو اس کا گہوارہ بنایا۔ لیکن جب میں نے شعور کی سیڑھی پر قدم رکھاتو انتہائی دردناک چیخیں آہ و فغاں اور شور و غل میری عقل کی سماعتوں سے ٹکرایا۔ یہ اس معاشرے کی چیخیں تھیں جہاں فحاشی و عریانی عام ہے اور اخلاق و کردار برہنہ پا سائبان کی تلاش میں ہے۔ جہاں عزت، دولت کی محتاج ہے۔ جہاں حسینیوں کا خون یزیدیوں کے ہاتھوں کربلا کے خارزاروں میں بہتا ہے اور کوفی تماشا دیکھتے ہیں۔

جہاں مشرقی روپ میں مغربی روایات نبھائی جاتی ہیں۔ جہاں علم بکتا اور انصاف خرید لیا جاتا ہے۔ جہاں بدن کے تیشے سے زندگی کی نہر کھودی جاتی ہے۔ جہاں انصاف کے رکھوالوں کی تنی گردنوں تک فریادی کی رسائی نہیں ہوتی۔ جہاں جاگیردارانہ خون جب جوش مارتا تو صنف نازک مردہ روحوں کو جسموں کے غاروں میں بند کر لیتی ہے۔ جہاں غربت کے ہاتھوں خواہشات کا قتل ہوتا ہے۔ جہاں بھوک باپ کو بچوں پر چھری چلانے پر مجبور کردیتی ہے اور صاحب ثروت کے گوداموں میں رزق حشرات کی خوراک بنتا ہے۔

جہاں عدالتیں انصاف نہیں ذلت بانٹتی ہیں۔ جہاں قوم کی عزت، غیرت اور حرمت کو گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ جہاں آباء کے مرقدوں کا سودا کیا جاتا ہے۔ جہاں قوم کی تخلیق کار ہستی استاد کو بدترین ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جہاں امن کے نام پر جنگ کا سامان کیا جاتا ہے۔ جہاں کامیابی ڈگریوں کی محتاج ہوتی ہے۔ جہاں نفرت کی تپش معصومیت کے پھولوں کو پژمردگی کی چادر اوڑھا دیتی ہے۔ جہاں روایات زندگیوں کا سودا کرتی ہیں۔

جہاں بارود بو کر خون سے آبیاری کی جاتی ہے۔ جہاں لاکھوں انسانوں کا خون شفق کی سرخی میں گھل جاتا ہے مگر راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ جہاں مادہ پرستی کے سامنے انسانیت ہار جاتی ہے۔ جہاں مجبوریاں ماں کی مامتا کو کھا جاتی ہیں۔ جہاں حکمران خود کو خدا سمجھتے ہیں۔ جہاں غیر ذمہ دارانہ رویے زندگی کے چراغوں کو گل کر دیتے ہیں۔ جہاں بے مروتی کے ناخن حالات کے دیے زخموں کو نوچ ڈالتے ہیں۔ جہاں مزدور تلخئی ایام سے مر جاتا ہے۔ جہاں عقیدے بیچ دیے جاتے ہیں۔ جہاں بے حسی ہر سو ناچتی ہے اور خودغرضی رقص کرتی ہے۔

ابھی یہ آہ و پکار جاری تھی کہ مردہ ضمیروں کے لاتعداد لاشے بکھرے نظر آئے جنہیں وقت کا گورکن دفنا رہا تھا

اور یہ حقیقت مجھ پر عیاں ہو گئی کہ جہاں ضمیر مردہ اور بے حسی عام ہو جائے وہاں کسی اور عذاب کی ضرورت نہیں رہتی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریطہ زید کی دیگر تحریریں
ریطہ زید کی دیگر تحریریں