کشمیر۔ تو آزاد باد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور بات ہے کہ گاؤں کے چوہدری بڑے دانشمند ہواکرتے ہیں۔ ان کے بیٹے کو کھلی چھٹی ہوتی ہے کہ وہ جس کی مرضی لے دے کر دیں۔ اس کے پاس غریب کی عزت پامال کرنے کا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔ اور اگرکوئی بیگناہ فریاد لے کر چوہدری صاحب کی بیٹھک میں حاضر ہوتا ہے تو چوہدری صاحب دکھا وے کے لئے ہی سہی، اپنے پاؤں کی جوتی اتار کر بیٹے کی ٹھکائی کرنے کے علاوہ ہلکی پھلکی دوچار گالیوں سے بھی نواز دیتے ہیں۔ غریب بیچارہ چوہدری صاحب کے انصاف کو دیکھ کر خوشی خوشی واپس چلا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کیا دنیا کے چوہدری امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ ایسا تو نہیں کیا؟ امریکہ نے وزیرِاعظم عمران خان کوامداد کا لالی پاپ تھمانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنارع پر اپنا ثالثی کردار ادا کرنے اور کشمیر میں ظلم و ستم بند کرنے پر بھارت پر دباؤ ڈالنے کی یقین دہانی کروائی۔ اس کے علاوہ وہی ٹرمپ جس نے عمران کے وزیرِاعظم بننے کے وقت اسے ”پلے بوائے“ کا خطاب دیا تھا، اب اس نے عمران کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔

ملک میں عمران کے دورے کو بڑا کامیاب قرار دیا جا رہا تھا۔ جیسے ہی عمران خان خوشی خوشی پاکستان واپس پہنچے، بھارت نے اپنا ردعمل دکھاتے ہوئے جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لئے آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا۔ جس سے بھارت کے لوگوں کو یہ حق مل گیا کہ وہ اب مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکتے ہیں۔ اور وہاں مستقل رہ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس آرٹیکل کے خلاف جموں و کشمیر میں سخت مزاحمت ہوئی اور نہتے کشمیر یوں کی ان گنت جانی قربانیوں کے ساتھ ساتھ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ تمام دنیا میں رہنے والے کشمیری سرتاپا احتجاج بن گئے۔

پاکستان میں جس کی کشمیر شہ رگ ہے، مشترکہ ایوان کا ہنگامی اجلاس شروع ہو گیا جہاں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ 14 اگست یوم آزادی کشمیر یوں سے یکجہتی کا دن منانے اور 15 اگست بھارت کے یوم آزادی کے موقعہ پر یوم سیاہ منایا گیا۔ اس مشترکہ ایوان کے اجلاس میں حزب اقتدار اور حزب مخالف کے درمیان ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتے اور حکومت کو کمزور دیکھ کر افسوس بھی ہوا۔ ایک طرف پاکستان کی سالمیت کا خطرہ تو دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن میں قومی یکجہتی کا فقدان۔

حکومت اپوزیشن سیاسی لیڈروں سے جیل بھرو کی مہم پر کار بند رہی۔ جب کہ خارجہ پالیسی اور کشمیر کے تنازعہ پر دنیا بھر کے ممالک سے ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے تجربہ کار اپوزیشن کی خدمات حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جس کی کوشش شاہ محمود قریشی نے مظفر آباد کے احتجاج میں اپوزیشن لیڈرز کے اجلا س میں شامل ہو کر کی۔ اگراس سارے پس منظر کو عمران خان کے امریکہ کے دورے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران اور ٹرمپ میں بہت سی قدریں مشترک ہیں۔

مثلاً جلد باز ی، یوٹرن۔ امریکہ کے لوگ حیران تھے کہ کل تک توٹرمپ پاکستان کے بارے میں کچھ اچھے خیالات کا اظہار نہیں کر رہا تھا۔ امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کو باعزت نکال کر لے جانے کے لئے پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان سے Do more کا مطالبہ کرتا رہا۔ ان کی امیدیں پور ی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان امریکہ کے دل میں جگہ نہ بنا سکا۔ امریکہ کے مبصرین حیران تھے کہ عمران کے واشنگٹن کے دورہ کے موقع پر ٹرمپ نے جلد بازی میں کیسے اتنے زیادہ وعدے کر لئے۔

اب جب کہ عمران کے دورے کو کافی دن گزر چکے ہیں مگرتا حال کوئی خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ بہرحال عمران خان نے ایک بار پھر ٹرمپ کو فون کرکے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ اب وقت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں پہنچ چکا ہے۔ مطلب پاکستان نے سلامتی کونسل میں بڑا معرکہ سر کر لیا۔ سلامتی کونسل کشمیریوں کی خودارادیت تسلیم کرتی ہے۔ یاد رہے کہ 1965 کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ہے۔

کشمیری بھی پہلے سے زیادہ پْر عزم دکھائی دے رہے ہیں۔ مگر یہاں بھی عرصہ دراز سے کمزورخارجہ پالیسی کا تذکرہ کیا جا رہا تھا۔ شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ کے فرائض سنبھالنے اور کوششوں کے باوجود اسلامی ممالک کی حمایت حاصل نہیں کر سکا سوائے ایران اور چند عرب ممالک کے۔ وہ عرب ممالک جن کا کاروبار بھارت کے ساتھ ہے، وہ کیونکر پاکستان کی حمایت کریں گے۔ البتہ چین نے کشمیر کے تنازعہ پرپاکستان کی کھل کر حمایت کی ہے۔

اسی طرح یورپ، روم اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ برطانیہ کا موقف اب تک کھل کر سامنے نہیں آیا۔ بھارت کی کئی سیاسی پارٹیوں خصوصاً کانگرس نے مودی کے اس غیر انسانی اور کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور ان کی خود ارادیت کو ختم کرنے کی کوشش کو سخت نا پسند کیا ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ آرٹیکل 370 کے خلاف محفوظ فیصلے کو حالات نا ساز ہونے کی وجہ سے نہیں سنا سکی۔ اب جب کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پہنچ چکا ہے، اس وقت پاکستان کو زیادہ سے زیادہ دوسرے ممالک کی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان کو اپنی اندرونی سیاسی فضا کو درست رکھنے اور اپوزیشن کا تعاون حاصل کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ پچھلے 72 سالوں سے بھارت نے جموں و کشمیر کے بیگناہ معصوم نہتے مرد و زن پر ظلم و ستم کی انتہائی کر دی ہے۔ مگرجو قومیں قربانیاں دینا جانتی ہیں، ان سے کوئی آزادی کا حق نہیں چھین سکتا۔ اور کشمیری توایسی قربانیوں کے عادی ہو چکے ہیں جو آزادی حاصل کرنے کی شرط ہوتی ہیں۔ دشمن اس وقت پاکستان کو کشمیر کاز سے پیچھے ہٹانے کے لئے سرحدوں پرجنگی حالات پیدا کر نے کی کوششوں میں ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں دہشت گردوں نے اپنی سر گرمیاں تیز کر دی ہیں۔ بھارت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی انتہائی کوششیں کر چکا ہے مگراب بھارت کو اس صورت حال کا سامنا ہے۔ پاکستان ان کی گیڈر بھبکیوں سے مغلوب ہونے والانہیں۔ پاکستان ایک اٹیمی طاقت ہے اوراینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر کے عوام آزاد ریاست کے قیام کے لئے ان گنت قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت نے جموں و کشمیر کی آزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ اور ہر ظلم آزما کر دیکھ لیاہے لیکن ناکام رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •