عامر خان ایک ”حقیقی ہیرو“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان کی فلمی صنعت کا جادو بھی کیا غضب کا ٹھہرا ہے کہ جس نے سالہا سال سے اپنی رنگین، چکا چوند کرنیوالی جھلملاتی روشنیوں، متحرک اور دلفریب دنیا کے سحر میں کروڑوں عوام کو جکڑا ہوا ہے۔ پردہ سکرین پر غیر حقیقی دنیا بسائے، ناممکن کو ممکن بنانے والے خوبرو ہیرو اورہیروئین ملک کی غریب اور روزمرہ کے مسائل سے جھونجتی غریب عوام کو کچھ گھنٹوں کے لئے ہی سہی دکھ اور پریشانیوں سے آزاد کر دیتے ہیں، ایسا کم ہی ہوا ہے کہ پردہ اسکرین پر عوام کو اپنی زندگیوں کا عکس اور حالات کے خلاف سوچنے اور لڑنے کی ہمت پیدا ہوئی ہو۔

اس طرح بالعموم عوام اور فلمی ہیرو ہیروئین کے درمیان ایک سراب جیسا ہی رشتہ ہوتاہے، تاہم گزشتہ دو دھائیوں سے ایک فلمی ہیرو نے فلم میں اپنے غیر روایتی کرداروں، فلموں کی پروڈکشن اور ڈائریکشن کے علاؤ ہ ٹی وی اسکرین پہ ”ستے میو جیو تے (یعنی سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے )“ ٹاک شو کے ذریعہ نہ صرف عوام کو چونکایا بلکہ ذہنوں کو جھنجھوڑ کر انہیں اپنے حالات پہ سوچنے اور عملی طور پہ کچھ کرنے پر بھی آمادہ کیا۔ یہ ہیرو نہ صرف فلمی بلکہ عظیم سماجی شخصیت کے طور پہ بھی پہچانا جاتا ہے اور اس کو دنیا عامر خان کے نام سے جانتی ہے۔

اس کا قد پانچ فٹ چھ انچ، عمر چون سال، سالانہ ایک فلم میں کام کرتا ہے۔ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ عامر کی فنی قامت نمایاں اور جوان تر ہوتی جا رہی ہے۔ وہ کس طرح عوام کے دلوں میں رچ بس گیا ہے؟ ان گنت عوامی ایوارڈز کے علاوہ اس کی فنی عظمت کا اعتراف حکومت نے پدما شری 2003 اور پدما بھوشان 2010 جیسے ایوارڈز دے کر دیا۔ تو بین الاقوامی سطح پر فلم ”لگان“ کی آسکر ایوارڈ کی نامزدگی ہوئی، بلاشبہ عامر کان اس درجہ پہ فائز نظر آتا ہے کہ جہاں دوسرے فنکار مشکل سے ہی پہنچ پاتے ہیں۔

بلندی پہ پہنچنے والے عامر خان کی کامیابی کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کے بچپن میں جھانکنا ہو گا۔

غیر روایتی عامر خان نے قدرے روایتی قدامت پرست مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ چودہ مارچ 1965 کو باندرا (بمبئی) کے ہولی فیملی ہسپتال میں پیدا ہوا۔ والدہ زینت اور والد طاہر حسین نے بیٹے کو عامر محمد حسین خان کا نام دیا۔ (عامر کے علاوہ انہیں مزید تین اولادیں فیصل، نگہت اور فرحت بھی ودیعت ہوئیں۔ )

عامر کا فلم میں آنا اتفاق نہیں تھا۔ اس کے والد اور چچا ناصر حسین خان دونوں ہی فلمیں بناتے اور ہدایتکاری کرتے۔ طاہر خان کی مقبول فلمیں ”انامیکا“ ، ”کارواں“ ، ”مدہوش“ اور ”تم میرے ہو“ وغیرہ ہیں۔

والد کی فلموں میں مصروفیت نے عامر کو اپنی ماں سے بہت قریب کر دیا۔ جو دوسروں کا خیال رکھنے والی، حساس، محبتی اور نرم دل خاتون ہیں۔
عامر بچپن میں بہت شریر تو تھے مگر کسی کو تکلیف نہیں دیتے۔ ان کی شخصیت نے ماں کی نرم دلی کو اپنایا، جبھی وہ دوسروں کے دکھ پر آسانی سے رو دیتے ہیں۔

عامر کو کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ وہ منتظر رہتے کہ کوئی ملے اور انہیں مزے مزے کی کہانیاں سنائے۔ جب ان کے والد اسٹوڈیو سے گھر لوٹتے تو ان کے پاس فلم کی کہانی ہوتی۔ عامر کو کیا پتہ تھا کہ ایک دن وہ بھی ان کہانیوں کا کردار بن جائیں گے۔ 1973 میں جب ان کی عمر آٹھ سال کی تھی تو ان کی پہلی فلم ”یادوں کی بارات“ ریلیز ہوئی۔ گو اس وقت عامر کو شوٹنگز میں کام کرنا پسند نہیں تھا۔ مگر بڑے ہونے تک عامر کو سینما سے ازحد دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔

لڑکپن میں سائیکلنگ اور پتنگ بازی کرنے والے عامر خان نے مہاراشٹر صوبہ کی سطح پر لان ٹینس چمپین شپ بھی جیتی ہے۔ گوکالج میں وہ اکثر کلاسز چھوڑ دیتے مگر تاریخ کے مضمون میں گہری دلچسپی تھی۔ ان کی طبیعت کا تجسس ہر چیزجاننا چاہتا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایکٹر نہ ہوتے تو ٹیچنگ یا اسپورٹس میں ہوتے۔ ان کاکہنا ہے کہ ”جو کام آپ کو خوشی دے وہی کرناچاہیے“ ۔ لہذا عامر نے فلم سے وابستہ ہو کر وہ کیا جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا

گانے کے یہ بول عامر خان کی 1988 میں ریلیز ہونے والی فلم ”قیامت سے قیامت“ تک کے ہیں۔ جو گویا ایک ایسی پیش گوئی کی صورت میں ہیں جو سو فیصد درست ثابت ہوئی ہے۔ 1988 میں ”قیامت سے قیامت“ اور 1989 میں ”راکھ“ ، عامر خان کی ان دونوں فلموں کو اسپیشل جیوری فلم ایوارڈ ملا۔ اور اس کے بعد تو گویا عامر نے کبھی مڑ کے نہیں دیکھا اور ہم نے دیکھا کہ اس کا نام بطور اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسر فلموں کی کامیابی کی ضمانت بن گیا۔

اگر یہ کہا جائے کہ عامر خان اچھی کہانیاں اور عمدہ موضوعات کے شکاری ہیں تو بیجا نہ ہو گا۔ پیپلی لائیو، دھوبی گھاٹ، تلاش، دنگل، پی کے اور ”تارے زمیں پر“ چند نام ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بالی وڈ میں باکمال فنکاروں کی کمی نہیں حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان کی زرخیز اور کشادہ گود میں دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت پروان چڑھی ہے اور یہاں باکمال اداکاروں، ہدایتکاروں، کہانی نویسوں وغیرہ کی کمی نہیں مثلاً محبوب (مدر انڈیا) ، راجکپور (آگ) ، گوندنہالانی (آکردش، ارت ستیہ) ، بمل رائے (دو بیگا زمین) ، گرودت (پیاسا، صاحب، بی بی اور غلام) ، شیام بینگل (انکور) ، ستیہ جیت رائے (شطرنج کے کھلاڑی) ، راجکمار ہیرانی (تھری ایڈیٹس) ، وغیرہ جیسے باصلاحیت ہدایت کاروں کی طویل فہرست ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عامر خان کی جگہ ان بڑے عظیم ہدایتکاروں کے درمیان کہاں سماتی ہے؟ کسی سے بھی مقابلہ کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ عامر خان کے تخلیقی دھاروں کے کئی رخ ہیں۔ وہ محض اداکار ہی نہیں ہدایتکار، پروڈیوسر، ٹی وی اینکر وغیرہ بھی ہیں جبکہ مندرجہ بالا فہرست میں گرودت اور راجکمار جیسے چند ہی فنکار ہیں جو بیک وقت کئی جہتوں پر عمل پیرا رہے۔ لیکن جو مقام عامر نے حاصل کیا وہ بہت نمایاں ہے۔ آخر وہ کون سی خوبیاں ہیں جو عامر کو دوسروں کے مقابلے میں ممتاز کرتی ہیں؟ اور ”حقیقی ہیرو“ کے درجہ پہ فائز کرتی ہیں۔ مضمون کے بقیہ حصہ میں ہم ان کی ان چیدہ چیدہ صلاحیتوں کا ذکر کریں گے جو ان کو نمایاں کرتی ہیں۔

دیکھا جائے تو ابتداء ”مصالحہ“ فلموں سے احتراز کرتے ہوئے وہ جلد ہی مقصدی فلموں کی جانب مائل ہوگئے۔ اداکاری کے ساتھ ہدایتکاری اور پروڈکشن کا شعبہ بھی اپنا لیا۔ ساتھ ہی مالی منفعت اور ذاتی شہرت کو خالصتا اپنا معیار نہ بناتے ہوئے اپنا مرکز سماج کی فکری ارتقاء اور بہتری کو بنایا۔ اس طرح کم از کم سن دو ہزار کی ابتداءً میں وہ اپنے حدف میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ وہ چاہے ”تھری ایڈیٹس“ اور ”پی کے“ کی کامیڈی ہو یا ”تارے زمین پر“ اور ”تلاش“ جیسی حساس موضوعات پہ بنی فلمیں وہ ہر طور اپنا پیغام دینے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ جو انہوں نے فنون لطیفہ کی نزاکتوں اور جمالیاتی حسن کو زک پہنچائے بغیر بہت سلیقہ سے دیا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کی کون سی چیدہ چیدہ صلاحیتیں ہیں جو ان کو دوسروں سے نمایاں کرتی ہیں۔

1۔ پراعتماد اور خطرہ مول لینے والے :۔ عامر کی پراعتماد طبیعت انہیں بظاہر پر خطر فیصلہ کرنے سے نہیں روکتی۔ یہ فیصلے خواہ نجی زندگی سے متعلق ہوں یا پروفیشنل زندگی سے متعلق۔ مثلاً نوجوانی میں انہیں پڑوس کی لڑکی رینا دتہ پسند تھی جس کا تعلق ہندو مذہب سے تھا۔ عامر مسلمان اور رینا ہندو مگر عامر نے ٹھان لیا تھا کہ شادی رینا سے ہی ہو گی۔

بالآخیر اپنی اکیسویں سالگرہ پہ انہوں نے رینا کو رشتہ دیا اور چھپ کر شادی کر لی۔ یہ سال تھا 1986۔ اس شادی سے ان کی دو اولادیں جنید خان اور ایرا خان ہیں۔ شادی 2001 میں اختتام پذیر ہوئی تو 2005 میں دوسری شادی کرن سے ہوئی جس سے اس کا بیٹا آزاد ہے۔ جس کا نام اپنے بزرگ مولانا ابوالکلام آزاد پہ رکھا گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •