آج سترہ اگست ہے۔۔ نئے گھر میں پہلی بار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سترہ اگست ہے۔

ہمارے لئے بہت اہم دن!

بچپن سے ہی ہمارے گھر میں سترہ اگست بہت اہم رہا۔ پہلے ہم سب چودہ اگست کی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے اور اس کے فوراً بعد ہماری پراسرار سرگرمیاں شروع ہو جاتیں۔ سب بہن بھائی سر جوڑ کے بیٹھے ہوتے، سرگوشیوں میں گفتگو ہوتی، کون کیا کرے گا؟ کا فیصلہ ہو رہا ہوتا۔

اماں یہ سب دیکھتیں اور زیر لب مسکراتی رہتیں۔ خوب جانتی تھیں کہ کیا کھچڑی پک رہی ہے کہ ایسا ہر برس ہوتا تھا۔

سترہ اگست ہماری اماں کا جنم دن تھا!

ہماری تیاریاں چپکے چپکے جاری رہتیں، کیک اور موم بتیوں کا انتظام کیا جاتا۔ ہر بچہ اپنے جیب خرچ سے بچائے ہوئے روپوں سے تحفہ خریدتا۔ شال،سوٹ، خوشبو یا پھر کچن کی کوئی چیز۔ ہم تحفہ دینے میں ہمیشہ بازی لے جاتے کہ وظیفہ پاتے تھے اور جیب بھاری ہی رہتی تھی۔

اماں کو شام کو بہانے سے تیار کروایا جاتا اور پھر ایک سرپرائز کے ساتھ موم بتیوں بھرا کیک لایا جاتا۔ کیک کٹتا، موم بتیاں بجھتیں اور تالیوں کی گونج میں ہم سالگرہ مبارک گاتے۔ ابا اس ساری کارروائی کو مسکرا مسکرا کے دیکھتے رہتے۔ پھر تحفے کھولے جاتے جو ہم سب نے نیلے پیلے کاغذوں میں باندھے ہوتے۔ ہر چیز اماں کو بے حد پسند آتی اور وہ مصنوعی ناراضگی سے کہتیں، لو بھلا اس سب کی کیا ضرورت تھی۔

برسہا برس سالگرہ منائی جاتی رہی۔ ہم بڑے ہوئے تو ہماری جگہ ہمارے بچوں نے لے لی۔ اماں کا سب نواسے نواسیوں، پوتے پوتیوں سے بہت محبت کا رشتہ تھا۔ انہوں نے سب پہ محبت کھلے دل سے لٹائی بھی، اور بدلے میں پائی بھی۔ سب بچے وہی کچھ کرتے اور اسی جوش وخروش سے کرتے، جیسے ہم کرتے آئے تھے اور اماں کو خوب مزا آتا۔ وہ سب سے چھوٹے بچے کو اپنے ساتھ کھڑا کرتیں اور اس کے ہاتھ میں چھری پکڑا کے اپنا ہاتھ اوپر رکھتے ہوئے کیک کاٹتیں۔

پھر اماں الزائمر کا شکار ہو گئیں۔ رفتہ رفتہ وقت اور زمانے سے ناطہ توڑ بیٹھیں۔ لیکن ہم نے سترہ اگست ہمیشہ ویسے ہی منایا۔ وہ وہیل چیئر پہ بیٹھی ہوتیں، ان کو اسی طرح تیار کروایا جاتا۔ کیک پہ موم بتیاں لگائی جاتیں اور وہ بار بار پوچھتیں، یہ کیا ہے؟ ہم موم بتیاں بجھانے کو کہتے اور وہ حیران ہو کے ادھر ادھر دیکھتیں کہ بجھانا کسے کہتے ہیں؟ کیک کاٹنے کے لئے چھری ہاتھ میں دیتے تو وہ کہتیں، اس کا کیا کروں؟ اور ہماری طرف اجنبی نظروں سے دیکھتیں۔ وہ سترہ اگست ہی نہیں، اپنے آپ کو بھی بھلا بیٹھی تھیں، اب وہ کسی اور دنیا میں رہتی تھیں۔

ہم سب کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور ہم ایک دوسرے سے اپنے آنسو چھپاتے۔ ہمیں ماضی یاد آجاتا کہ اماں کی یادداشت بہت تیز تھی، ہر بات یاد رکھتیں، اور اس کو موقع محل کے مطابق استعمال بھی کرتیں۔

اماں کو اپنی تاریخ پیدائش خوب یاد رہتی تھی اور وہ اس پہ بہت نازاں تھیں کہ ان کے والد نے سب بچوں کی پیدائش کا دن اپنے ہاتھ سے ایک رجسٹر میں لکھا تھا۔ اس زمانے کے لحاظ سے یہ تھوڑی انوکھی بات تھی کہ لوگ تاریخ پیدائش کو موسموں اور تہواروں کی مناسبت سے یاد رکھتے تھے۔

ایک دفعہ اماں میرے ساتھ آنکھوں کا معائنہ کروانے ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ ہم ڈاکٹرز کسی بزرگ سے عمر پوچھتے ہوئے عموماَ کسی اہم دن کا حوالہ دیتے ہیں جیسے قیام پاکستان، پینسٹھ کی جنگ وغیرہ۔ ڈاکڑ صاحب اماں سے کہنے لگے، اماں جی! کچھ یاد ہے جب پاکستان بنا، آپ کس عمر میں تھیں؟

اماں نے عینک کے شیشوں کے پیچھے سے ڈاکٹرصاحب کو گھورا اور کہنے لگیں، بیٹا میری تاریخ پیدائش سترہ اگست انیس سو بتیس ہے، باقی کا حساب خود لگا لو۔

ابھی پاکستان سے فون تھا!

‘ آج سترہ اگست ہے ‘

کیا اہتمام کیا ہے؟ ہم نے پوچھا،

‘ پھول ہیں، مٹھائی ہے، موم بتیاں ہیں اور اگر بتیاں’

‘ میرا سلام عرض کرنا اور بہت سا پیار بھی۔ اور کہنا کہ نادم ہوں، آپ کے جدا ہونے کے بعد ابھی تک حاضر نہیں ہو سکی’ ہم نے نم آنکھوں سے کہا!

اس برس اماں کی سالگرہ ان کی قبر پہ منائی جا رہی ہے۔ یہ پہلی سالگرہ ہے ان کے منوں مٹی کے نیچے دفن ہونے کے بعد۔ وہ چاند چہرہ اوجھل ہو چکا مگر ہمارے دلوں میں تو یاد زندہ ہے نا سترہ اگست کی۔

قبر پہ پھولوں کی چادر چڑھائی جائے گی، موم بتیاں روشن ہوں گی، اگر بتیوں کی خوشبو پھیلے گی اور قبرستان میں کیک کی بجائے مٹھائی تقسیم ہو گی اور ہم سب کا سلام عرض کیا جائے گا۔

ہم جانتے ہیں اماں کو بھی انتظار ہو گا ہم سب کا، وہ دور کہیں سے ہمیں دیکھ رہی ہوں گی۔ جانتیں ہیں نا کہ بچے جنم دن منانے ضرور آئیں گے، نئے ٹھکانے پہ پہلا جنم دن!

کیا ہوا، اگر وہ دنیا سے اٹھ چکیں، دنیا میں ان کی چھوڑی ہوئی اولاد تو ہے نا جسے سترہ اگست بھی یاد ہے اور جدا ہونے والی ماں بھی۔ اور یہ اولاد جب تک زندہ رہے گی، سترہ اگست مناتی رہے گی۔ یہ ماں کی یادوں کا قرض ہے جو ہمیں چکانا ہے۔

جنم دن مبارک اماں !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •