سر ظفراللہ خان، کلیمنٹ اٹیلی اور مسئلہ کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(کشمیر پر میرے پہلے مضمون میں استاذی المحترم وجاہت مسعود نے کچھ حصوں کو ہائی لائٹ کیا تھا۔ زیادہ معاملات میں خاکسار کا موقف وہی تھا جو وجاہت صاحب کا۔ میری کم علمی اور کم مائیگی کا قصور ہوسکتا ہے کہ میرے الفاظ مافی الضمیر کی مناسب وضاحت نہ کرسکے۔ صرف ایک موضوع پر میرا موقف بوجوہ مختلف ہے جو ضبط تحریر میں لا رہا ہوں۔ ایک چھوٹی سی گذارش ساتھ کرتے ہوئے کہ وجاہت مسعود میرے محترم بڑے بھائیوں کی طرح ہیں اور ان کا مطالعہ بہت وسیع اور نظر بہت گہری ہے۔ میری یہ معروضات ان سے بحث نہیں بلکہ طالب علمانہ انداز میں سیکھنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے)۔

کشمیر پر خلاف توقع پہلی قرارداد منظور ہونے پر ہندوستانی وفد نے اپنی حکومت سے مشورہ کرنے کے لئے اجلاس کے التوا کی درخواست کر دی۔ انگلستان کی طرف سے سر نوئیل بیکر وزیر برائے کامن ویلتھ سلامتی کونسل میں نمائندہ تھے اور پاکستانی موقف کے حامی بھی۔ وہ اس کوشش میں تھے کہ وزیراعظم انڈیا پنڈت جواہر لال نہرو اس قرارداد کو قبول کرلیں اور فوری طور پر استصواب رائے کی طرف آجائیں۔ جبکہ ”ہندوستانی وفد اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مجلس امن صرف قبائلیوں اور رضاکاروں کو ریاست سے واپس کرانے اورا ٓزاد کشمیر کے لوگوں کے لڑائی سے ہاتھ روکنے کا انتظام کردے۔ باقی سب ان پر چھوڑ دیا جائے وہ سب انتطام کرلیں گے۔ “ (تحدیث نعمت مصنفہ محمد ظفراللہ خان صفحہ 536)

”عین اس مرحلے پر سرگوپالا سوامی آئینگرنے بولنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر انہوں نے فرمایا ہمیں اپنی حکومت کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی ہے کہ ہماری واپسی تک اجلاس ملتوی کیا جائے۔ اراکین مجلس اس درخواست پر حیران بھی ہوئے اور آزردہ بھی۔ ۔ ۔ مثلاً کولمبیا کے مندوب نے کہا صاحب صدر آپ کو اور اراکین مجلس کو یاد ہوگا کہ ابھی چند دن ہوئے ہندوستان کے فاضل نمائندے نے شکوے کے طور پر کہا تھا کہ کشمیر جل رہا ہے اورمجلس امن ستار بجا رہی ہے۔ کیا میں ہندوستان کے نمائندے سے دریافت کرنے کی جرات کرسکتا ہوں کہ اب کیا کشمیر کو جلانے والی آگ ٹھنڈی ہوگئی ہے؟ اور اگر نہیں تو اب کون ستار بجا رہا ہے؟“ (تحدیث نعمت ص 537)

سلامتی کونسل کی کاروائی ملتوی ہونے پر سر ظفراللہ خان اور چوہدری محمد علی انگلستان چلے گئے، جہاں انہوں نے وزیر خارجہ Ernest Bevin اور وزیراعظم Clement Attlee سے ملاقاتیں کیں۔ سر ظفراللہ خان کے مطابق انہوں نے وزیر خارجہ کو صاف گو انسان پایا اور وزیراعظم اٹیلی کے متعلق ملاقات سے پہلے ہی بتادیا کہ ان پر Sir Stafford Cripps کا برا اثر ہے۔ سر ظفراللہ خان وزیر اعظم اٹیلی سے اس وقت سے واقف تھے جب یہ سائمن کمشن کے رکن تھے۔ لکھتے ہیں کہ ”مجھے یہ بھی یاد تھا کہ انہوں نے ا ٓزادی ہند کے قانون کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرتے وقت قائداعظم کے متعلق اپنی تقریر میں شکوہ کیا تھا کہ انہوں نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کا گورنر جنرل بنانے کی تجویز منظور نہ کی۔ لارڈ ماونٹ بیٹن جو وزیراعظم کے منظور نظر تھے اب ہندوستان کے گورنر جنرل تھے۔ “ (ص 538)

 وزیراعظم اٹیلی اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ پاکستان اس قرارداد پر مصرر نہ ہو۔ سر ظفراللہ خان ان کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر اعتراضات اٹھاتے رہے، یوں ملاقات حسب توقع کامیاب نہ رہی۔

نیویارک میں اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر سر نوئیل بیکر پر وزیراعظم اٹیلی کا دباؤ اور اختلاف بڑھ گیا، یہاں تک کہ اجلاس کے دوران ہی نوئیل بیکر وزارت سے استغفیٰ دینے کی پوزیشن میں آگئے۔

سرظفراللہ خان مزید لکھتے ہیں کہ ”وزیراعظم اٹیلی جو شروع ہی سے تحریک پاکستان کے حق میں نہ تھے اور جو قائد اعظم سے بھی بغض رکھتے تھے نہایت آسانی سے ادھر مائل ہوگئے اور اپنی پہلی ہدایت کے خلاف اور اپنے رفیق کار وزیر امور کامن ویلتھ کے مشورے کے خلاف پہلا موقف بدل لیا جس کے نتیجے میں نہ صرف پہلی مجوزہ قرارداد کی بجائے ایک نسبتاً کمزور قرارداد مجلس امن میں پیش کی گئی بلکہ مجلس امن کی ساری فضا ہی بدل گئی۔ “ (ص 540)

Cement Attlee
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •