ریاست مدینہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماج نامہ

ازکار رفتہ سے جڑے ہمارے تمام سوچیں ایک ایک کرکے ختم ہوئے ہیں۔ اب ریاست مدینہ کے طرف سوچنا محال ہوکر فساد کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یوں ریاست مدینہ کے خواب خیالات میں تبدیل ہوکر چکنا چور ہوئے۔ خلافت کا نظام دھندلا چکا ہے اب اس کے تانے ملانا اگرناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ کیونکہ ایسا کوئی نظام اب دنیا میں کہی وجود نہیں رکھتا ہے۔ اس مد میں نظام سوچنے، عمل کرنے اور کوشش پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

مسلمان عملاً اللہ کے حکم قران کے بغیر دوسرے نظام کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں اور جو مسلمان قران کے حکم کے خلاف جائے گا وہ دراصل کافرتصور ہوتا ہے۔ اس لئے ایسا نظام بنانا ہوتا ہے جہاں خدا ئے تعالی کے احکام نافذ ہوسکیں۔ میں سمجھتا ہوں ایسا نظام قائم کرنا ہر ایک مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ صرف بنیادی ارکان کی ادائیگی اسلامی نظام کو بنانے میں کچھ بھی مدد نہیں کرسکتی ہیں۔ کسی ولی اللہ اور ہادی آنے کے انتظار میں چودہ سو سال گزر گئے۔

نظام کے لئے کچھ تلخ تجربات اس ضمن میں کیے بھی گئے لیکن کچھ اپنے حماقت اور جہالت سے ناکام ہوئے تو دوسرے طرف عالمی سازشیں کام آئی۔ کہ وہ اپنے نظام کے مخالف کسی دوسرے نظام کو نہیں مانتے ہیں۔

ایسے وقت میں جہاں مادہ پرست سرمایہ دارانہ جمہوریت اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ کھڑاہو ا ہے۔ ریاست مدینہ کا خواب دیکھنا بے شک ایک بہترین خیال ہوسکتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ریاست مدینہ سے مسلمانوں کا رومان اور دل جڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ قصہ پارینہ ہے جو کہ چودہ سو سال ہوئے زمین میں دفن ہوچکا ہے۔ تاہم اس کی چنگاری اب بھی باقی ہے اس کے لئے کوشش کرنا اور اس کے لئے نظریاتی ٹیم ورک بنانا اہم ہوگا۔ نظریات میں اہم آہنگی پیدا کرنا اور از سر نو اس کے داغ بیل ڈالناضروری ہے۔

ریاست مدینہ کا نظام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ابتدائی طور پر نافذ کیا گیا تھا جو کہ چار خلفاء راشدین کے دور تک باوجود اس کے کہ دارالخلافہ تبدیل ہوتا رہا اپنے مخصوص انداز سے جاری رہا۔ دراصل یہ ابتدائی نظام تھا جس کو مکمل ہونا تھا۔ اس لئے اس نظام میں فی زمانہ تبدیلی ناگزیر تھی تاہم اس کو پنپنے نہیں دیا گیا اور اس نظام کو اپنے ابتدائی دنوں میں ہی دفن کردیا گیا۔ مذکورہ نظام دراصل برابری، مساوات، اخوت اور بھائی چارے کا نظام تھا اور ہے۔

جہاں اقامت الصلوہ اور ایتائے الزکوہ کا فریضہ ادا کیا جانا ہوتا ہے۔ اسلامی نظام میں ت زکوہ ریاست کو ادا کردیا جاتا ہے اور جس کا مقصد معاشرے کے محروم طبقات کو متمول طبقات کے اسائش زندگی کے برابر لانا ہوتا ہے۔ بر سبیل تذکرہ اسلام میں مال گننے، ذخیرہ آندوزی وغیرہ اور نجی ملکیت کی ایک خاص حد کے علاوہ ممانعت ہے۔ جہاں پر تفرقہ بازی کی سخت ترین ممانعت ہوتی ہے۔ جہاں قل العفو کا دستور ہوتا ہے۔ میرے خیال سے اپ اس نطام کا جو بھی نام رکھ لیں لیکن اسلام اور خلافت ملوکیت، جاگیر داری اور سرمایہ داری ہے اور نہ ہی سیکولر ازم، لبرل ازم اورکمیون ازم وغیرہ ازم ہائے ہیں۔

ایک نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ جہاں اس نظام میں پر قرآنی قوانین کی جزئیات متعین نہیں ہو وہاں پر معروضی حالات اور واقعات کے بہ نسبت بائی لاز بنائے جاتے ہیں۔ البتہ قرآنی قوانین غیر متبدل قوانین ہوتی ہے۔ حکومت کا قیام باہم صلا و مشورہ سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ اولوالامر یعنی حکمران جسے آج کل کی زبان میں مقننہ، عدالت اور انتظامیہ کہتے ہیں یہ لوگ امت کی بحالی اوروحدت کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ معاشرتی ڈھانچہ اس طرح بنایا جاتا ہے کہ اس میں امیر اور غریب کا امتیاز ختم کیا جا سکیں۔ یہ نظام معاشرے کے افراد اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں اپنے مکمل شکل میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اور اس کی صورت گری عالم اور فاضل کریں گے لیکن در اصل یہ ایک سماجی، سیاسی، عدالتی اور معاشی نظام وغیرہ ہوتا ہے۔

ریاست مدینہ قرآنی اصولوں پر قائم کیا ہوا نظام تھا۔ جس کا دستور قرآن کریم اورحکمران باہم مشاورت سے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر فیصلے کیے جاتے تھے۔ جہاں غربت کے خاتمے اور معیشت کو سنبھالا دینے اور نظام کے تانے بانے بنے جاتے تھے۔ خلفائے راشدین کے بعد جو دوسرے خلفاء اور امرا اور اشرافیہ آئے وہ ملوکیت کے نمائندے ثابت ہوئے۔ اس لئے اس کو اسلامی ریاست نہیں کہا جاسکتا ہے اس پر سب مفکرین کا اتفاق ہے۔

متذکرہ نظام میں جاگیرداری اور شرفا ء کو حیثیت دیا گیا۔ اسلام جو غلامانہ رسوم کو ختم کرنے کے لئے آیا تھا وہ دوبارہ رائج رکھاگیا۔ بزور دوسرے ریاستوں کو غلام بنا کر جزیہ اور ٹیکس کے لئے ملایا گیا۔ باہمی سازشوں سے کبھی ایک خلیفہ اور کبھی دوسرے خلیفہ کو خدا کا نائب تصور کیا گیا۔ اسلام اور قران کی من مانی تاویلات کی گئی۔ جو سلسلہ آج تک جاری وساری ہے۔ ہم آج بھی جمعہ کے خطبات میں سلطان ظل اللہ کا خطبہ سنتے آرہے ہیں۔

دین الہی کو دوسرے ماخذات کے تابع بنا کر من مانی انسانی تشریحات کیے گئے اور اس کو ہی اصل دین مانا اور سمجھا گیا۔ در اصل یہی سے وہ خرابی بسیار پیدا ہوئی۔ جس کا خمیازہ مسلمان اب تک بگتے آرہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں تفرقے پیدا ہوئے۔ مذہبی جنونیت اور شدت پسندی اور قدامت پسندی عود کر اگئی۔ تفاوت اور اختلافات کے لئے جوازات گھڑے گئے۔ جو دین انسانیت کا درس دینے آیا تھا اور جو لکم دینکم ولی دین والا نظریہ رکھتا تھا وہ مذہبی پیشوائیت نے مسلمانوں کودوسرے مذاہب ادیان سے بیزار بنا دیا۔

اسلام وہ دین تھا جو دوسرے ادیان کی تصدیق کے لئے آیا تھا۔ یہ وہی ادیان تھے جس میں وحدانیت، جنت دوزخ، معاملات، معاشیات، اقتصادیات اور عبادات کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ تاہم دوسرے ادیان میں مذہبی پیشوائیت نے انسانی دست درازی کرکے آسمانی کتابوں میں تحریفات کرکے اپنی ذہنی، خیالی، ظنی، من چاہی تاویلات وغیرہ ڈال دیے۔ جس کی وجہ سے مذکورہ ادیان من و عن قابل عمل نہیں ہوسکی۔ لیکن اس ادیان میں اب بھی اس طرح کے روایات اور احکام ملتے ہیں جو کہ قرآن کریم کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔

ان سب کو دوبارہ پڑھ کر یورپ دوبارہ نشاط ثانیہ کے قابل ہوا۔ ترقی کی، پیشوائیت کو چرچ تک محدود کیا۔ سیاست کو مذہب سے جدا کیا گیا۔  ضروری ہے کہ موافق امور میں وحدت لایا جایا جائے جو کہ مروج انسانی روایات اور سائنس کے ساتھ ہم آہنگ ہے کی دعوت دینا امن و سلام کی طرف دعوت تصور ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس ان مذاہب کے ماننے والوں نے دین الہی سے دوری کے سبب اور شخصی تاویلات کو مشعل راہ بنایا جس سے یورپ میں تو امن اور معیشت مضبوط ہوگیا لیکن دوسرے ترقی پذیر ممالک ان ترقی یافتہ ممالک کے دست درازی سے محفوظ نہیں ہوسکی۔

اودھم مچایاگیا۔ لاکھوں لوگوں کاقتل و قتال کیا گیا۔ حتی کہ ایٹم بم گرائے گئے تو دوسری طرف مسلمان ممالک کے وسائل پر جابرانہ قبضے کیے گئے۔ اس کے برعکس اسلام رواداری اور عالمگیریت کا سبق دیتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان برائے نام مسلمان ممالک میں ایسا ملک دکھائی نہیں دیتا جو کہ ان کے باج گزار اور ٹیکنالوجی میں ان کی محتاج نہیں ہو۔ قریبا تمام مسلمان ممالک غلامی کا طوق گردن پررکھ کر  دہائی دے رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اس کا حل اسلام اورریاست مدینہ ہی دیتا ہے اورجو وحدت کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •