کیا حکمران آئین شکنی کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کریں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گلگت کے دورہ کے دوران خبردار کیا ہے کہ پاک فوج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کا عزم کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ افواج پاکستان پوری طرح چوکنا ہیں۔ اور تمام تر چیلنجز کے باوجود دشمن کو منہ توڑجواب دیا جائے گا۔

یہ انتباہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب مقبوضہ کشمیر کے بارے میں آئینی ترمیم کے ذریعے بھارتی حکومت نے علاقے میں سنسنی خیزی، تصادم اور اشتعال کی فضا پیدا کی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت بھارت کے غیر آئینی اور انسان دشمن ہتھکنڈوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خود اپنے ہی ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے اور آزادی اظہار پر نت نئی قدغن عائد کررہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی غیر آئینی تقرری نے ایک نئے سیاسی اور قانونی تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں لگ بھگ تین ہفتوں سے مکمل لاک آؤٹ کی صورت حال ہے۔ فون، موبائل اور انٹر نیٹ سروسز بند ہونے کے علاوہ بھارتی لیڈروں کو بھی کشمیر جاکر وہاں کے لوگوں سے ملاقات کرنے یا حالات کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگرس کے سربراہ راہول گاندھی دیگر کانگرسی لیڈروں کے ہمراہ آج صبح سری نگر پہنچے تھے۔ تاہم مقامی حکام نے انہیں ائیرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی اور پہلی پرواز سے واپس نئی دہلی بھیج دیا گیا۔ کانگرسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر کشمیر میں حالات ’معمول ‘ کے مطابق ہیں تو حکومت ہر قسم کی مواصلت اور روابط پر پابندی عائد کرتے ہوئے وہاں کیا چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔

نریندر مودی کی حکومت نے کشمیر میں مواصلاتی رابطے منقطع اور کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ تازہ دم فوجی دستوں کی مدد سے پوری ریاست کو قید خانہ میں تبدیل کرکے 5 اگست کو بھارتی آئین کی ان شقوں کو ختم کیا تھا جن کے تحت کشمیریوں کو بھارتی فیڈریشن میں خصوصی حقوق حاصل تھے۔ اسی کے ساتھ ہی لوک سبھا میں اپنی غیر معمولی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دو وفاقی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کا بل بھی منظور کرلیا تھا۔ اس وقت سے کشمیری لیڈر قید میں ہیں اور کشمیری عوام کو گھروں میں بند کیا گیا ہے۔ جب بھی کرفیو میں کسی قسم کی نرمی دی جاتی ہے یا کہیں پر بھی عوام کو گھروں سے باہر نکلنے کا موقع ملتا ہے تو سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔ ابھی تک کشمیریوں کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی لیکن جب بھی یہ موقع ملا تو یہ آوازیں نریندر مودی کی پالیسیوں اور بھارتی جنتا پارٹی کے ہندو انتہا پسندانہ ایجنڈے کو مسترد کریں گی۔ اسی خوف کی وجہ سے بھارتی حکومت کشمیر میں پابندیاں نرم کرنے کا حوصلہ نہیں کرتی۔

اس صورت حال میں پاکستانی حکومت کی تشویش جائز اور درست ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں علاقے کی کشیدہ صورت حال پر بھارتی اور پاکستانی وزرائے اعظم سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور نریندر مودی کے حالیہ دورہ پیرس کے دوران فرانسیسی صدر میکرون نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلےاور وہاں عائد پابندیوں کے بارے میں نئی دہلی حکومت کو دو ٹوک اور واضح پیغام نہیں دیا گیا۔ ان حالات میں پاکستان، سفارتی محاذ پر خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ گو کہ پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ روزانہ کی بنیاد پر بھارت کے خلاف سخت بیان دے رہے ہیں اور علاقے میں جنگ کے خطرہ کا اعلان کرکے اقوام عالم کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن آج متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کے طاقت ور ولی عہد شیخ محمد بن زید النیہان نے نریندر مودی کو یواےای کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’آرڈر آف زید‘ عطا کر کے، دنیا، ریجن اور اسلامی دنیا میں پاکستانی حکومت کی مجبوری اور بھارت کی قوت و اثر ورسوخ کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

دریں حالت پاکستان یک طرفہ طور سے جنگ اور کشمیریوں پر مظالم کے علاوہ، وزیر اعظم عمران خان کے لفظوں میں بھارت میں ہندو فسطائی اور نازی ہتھکنڈے اختیار کرنے والی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عمران خان نے بار بار متنبہ کیا ہے کہ بھارت کی موجودہ ہندو انتہا پسند حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا اقدام کرسکتی ہے۔ لیکن یہ پکار صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہے۔ ایسے میں اگر واقعی کشمیر میں کسی اچانک احتجاج یا خوں ریزی کی وجہ سے دنیا کو کسی قسم کی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب ہو۔ اس طرح دنیا کے طاقت ور ممالک کشمیر میں عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کو بھلا کر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ رکوانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح اندیشہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

پاکستان کسی صورت مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے چنگل میں دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ تاہم بھارتی لیڈروں کو اس انتہائی اقدام سے روکنے کے لئے پاکستانی حکومت کے پاس سفارتی کوششیں کرنے یا متبادل سیاسی اقدامات کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ پاکستان ان دونوں شعبوں میں کوئی نئی جہت تلاش نہیں کر پایا۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف اگرچہ سرحدوں کا دفاع کرنے اور وطن کی حفاظت کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور اہل پاکستان کا بچہ بچہ اس عزم و ارادہ میں ہر طرح سے ان کے ساتھ بھی ہے۔ لیکن اگر اس انداز گفتگو سے جذباتیت کو نکال کر دیکھا جائے تب ہی پاکستان کو درپیش اندیشوں اور خطرات کا حقیقی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی کوئی سرحدی جھڑپ یا جنگ ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کی معیشت کو شدید ضرب لگے گی۔ مشکل مالی حالات کی وجہ سے پاکستان کے لئے یہ صدمہ ناقابل تلافی ہو گا۔ پاکستان اور ہندوستان کے پاس چونکہ کثیر تعداد میں ایٹمی ہتھیار بھی ہیں، اس لئے بڑی طاقتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ اس قسم کا کوئی تصادم طویل نہ ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی مختصر اور محدود فوجی تصادم بھی پاکستان کے نقطہ نظر سے نہایت مہلک اور خطرناک ہوسکتا ہے۔

حکومت نے حالیہ ہفتوں میں بھارتی چیلنج سے نمٹنے کے لئے بلند بانگ سیاسی بیانات دے کر کام چلانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن کسی بھی بھارتی جارحیت کو پیش از وقت روکنے یا کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں مناسب سفارتی اور سیاسی امداد فراہم کرنے کے لئے گراؤنڈ ورک نہیں کیا گیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال بھارتی اقدامات کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے۔ اس اجلاس کے دوران حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں نے بھارت کے خلاف حکمت عملی پر غور سےزیادہ ایک دوسرے کے ساتھ حساب برابر کرنے کی کوشش کی۔ حکومت اور وزیر اعظم بار بار یہ واضح کرچکے ہیں وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

عمران خان کے اس طرز عمل کی بنیادی وجہ ان کا یہ سیاسی نعرہ ہے کہ وہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کردیں گے اور ہر ’چور‘ کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ایک برس کی حکومت کے دوران معاشی، سماجی اور خارجی شعبوں میں مسلسل ناکامیوں کے بعد تحریک انصاف کی باقی ماندہ مقبولیت بدعنوانی کے خلاف  کے نعرے پر ٹکی ہوئی ہے۔ عمران خان اس نعرہ سے کسی طور دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی بھی مقصد سے اپوزیشن سے مفاہمت کے لئے پیش رفت کی تو ان کی رہی سہی ساکھ اور مقبولیت بھی خاک میں مل جائے گی۔ حالانکہ وزیر اعظم خود یہ اعلان بھی کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کی وجہ سے ہی قید ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نواز شریف سے لے کر آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کی حراست، دراصل حکومت کی ساکھ برقرار رکھنے کی واحد وجہ بن چکی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور بھارتی ہٹ دھرمی میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ عمران خان اپنے طریقہ میں کوئی نرمی پیدا کریں گے تاکہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے قومی اتحاد اور یک جہتی کا عملی مظاہرہ سامنے آ سکے۔ لیکن وزیر اعظم ایک طرف مودی پر فسطائی ہتھکنڈے اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں لیکن سیاسی لیڈر ہوں یا میڈیا کی صورت حال، ان کی اپنی حکومت سخت گیر اور غیر جمہوری اقدامات سے ہر سیاسی مخالف آواز کو دبانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب ملک کا آئین بھی تحریک انصاف کی نام نہاد منتخب حکومت کی دستبرد اور سیاست سے محفوظ نہیں ہے۔

صدر مملکت نے جمعرات کو وزارت پارلیمانی امور کی سفارش پر الیکشن کمیشن کے دو نئے ارکان نامزد کر دیے۔ یہ دونوں ارکان اپوزیشن کی مشاورت کی آئینی ضرورت پوری کئے بغیر نامزد کئے گئے۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے ان دونوں ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر نے یہ اقدام آئین کی شقوں 214 اور 213 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا ہے۔ اب وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی یہ دہائی تو دے رہے ہیں کہ ایک اہم آئینی ادارہ نامکمل ہے۔ یہ صورت حال پیدا نہیں ہونی چاہئے تھے۔ لیکن وفاقی کابینہ کے کسی ہوش مند رکن یا تحریک انصاف کے کسی رکن پارلیمنٹ کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وزیر اعظم کی قیادت میں ملک میں سیاسی اختلاف کو جس طرح ذاتی دشمنی اور نفرت میں تبدیل کیا جارہا ہے، اس کا ملک کی ساکھ اور سماج پر کیا اثر مرتب ہو گا۔

الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی مدت اس سال جنوری میں ختم ہوگئی تھی اور وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر سے مشاورت و ملاقات کے ذریعے 45 روز کے اندر نئے ارکان نامزد کرنا تھے۔ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملنے اور ان سے مشاورت کو اپنی سیاسی ساکھ کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے ملک کا مفاد اور آئینی تقاضوں کو داؤ پر لگا دینا بہتر سمجھا ہے۔ جس ملک کی سرحد پر دشمن دستک دے رہا ہو اور جس کی حکومت ہمسایہ ملک کو نازی اور فاشسٹ قرار دے رہی ہو، اس کے اپنے غیر آئینی رویے کیا ملک کی عالمی شہرت اور مفاد کے لئے نقصان دہ نہیں ہوں گے؟

سرحدوں یا سفارتی محاذ پر بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے اب ابھی اگر ذاتی انا اور سیاسی مفاد کو فراموش نہ کیا گیا تو پاکستان کی سفارتی تنہائی میں بھی اضافہ ہو گا اور ملک کے اندر سماجی اور سیاسی محاذ آرائی، نفرت اور شدت پسندی کے رجحانات کو توانا کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1259 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali