گھروندے بنانے والے کے لئے نمکین آنسو
گھروندہ گھر کا خواب ہوتا ہے۔ گھر کا آنگن امنگوں کی جنت ہوتی ہے۔ گھر کا معمار نہ رہے تو گھر ویران ہو جاتے ہیں۔ ویران بستیاں پھر آباد نہیں ہوتیں۔ وہاں سے انسانیت کی بربادی کے شواہد اکھٹے کر کے خون آشام تاریخ لکھی جاتی ہے۔ یادوں کے کینوس پر چند بکھرے مناظر ہیں۔ منظر یاد آتے ہیں تو آبگینے چھلک پڑتے ہیں۔ صبح سویرے کالج کے لئے پیدل جانا ہوتا تھا۔ رومال میں کتابیں باندھتا۔ گھر سے نکلتا تو کونے پر ایک پانچ سالہ بچہ ننگے پیرمٹی سے کھیلتا ملتا۔ اسے گھروندے بنانے کا جنون تھا۔ گھڑی کی سوئیاں ابھی سات بجا رہی ہوتیں اور جلیل (فرضی نام) کوئی پندرہ بیس گھروندے تعمیر بھی کر چکا ہوتا۔ میں دل بہلانے کو پوچھتا۔ جلیل کیا کر رہے ہو؟ وہ سر جھکائے جواب دیتا (کور جوڑوم) گھر بنارہا ہوں۔ اتنے سارے گھر! یہ کس کے ہیں جلیل؟ پھر وہ تفصیل بتاتا۔ یہ دادا کا ہے۔ یہ دادی کا ہے۔ یہ ابا کا ہے۔ یہ بھائی کا ہے۔ یہ پھپھو کا ہے۔ یہ چچا کا ہے۔ یہ فلاں کا ہے۔ یہ فلاںکا ہے۔ یہ آپ کا ہے۔ جلیل بہت سخی معمار تھا۔ اس نے جتنے بھی گھروندے تعمیر کئے ہوتے وہ اتنے ہی تقسیم کر دیتا۔ میں پوچھتا، جلیل اور تمہارا گھر؟ وہ آخر میں بناﺅں گا۔ سب سے بڑا سب سے خوبصورت۔
شام کو کالج سے واپس آتا تو جلیل کونے پر بیٹھا ملتا۔ اس کے ہاتھ میں سینے پرونے والی ایک سوئی ہوتی اور وہ اپنے پاﺅں سے کانٹے چن رہا ہوتا۔ مدتیں ہو گئے ۔ جانے ہماری دھرتی سے بادل ناراض کیوں ہیں۔ بارش نہیں برستی۔ زمین پیاسی ہو تو کانٹے اگا دیتی ہے۔ ننگے پیر گھروندے بناتے بناتے جلیل کے پاﺅں میں سینکڑوں کانٹے چبھ جاتے۔ وہ مسمارگھروندوں کے پاس بیٹھا پاﺅں سے کانٹے چن رہا ہوتا۔ جلیل یہ گھر کس نے گرائے؟ وہ ویران آنکھوں سے دیکھتا۔ جانے پاﺅں میں سوئی چھبن کا درد ہوتا یا اپنے گھروندے مسمار ہونے کا دکھ، اس کی آنکھیں بھر آتیں۔ وہ بھرائی آواز میں کہتا۔ سکول کے بچوں نے۔ جلیل روز گھروندے بناتا۔ سکول کے بچے روز سکول سے واپسی پر اس کے گھروندے مسمار کرتے۔ ہر شام وہ مسمار گھروندوں کے پاس بیٹھ کر ان کا ماتم کرتا۔ آبادی اور بربادی کا یہ کھیل کئی ناغوں کے ساتھ کم و بیش دو سال چلا۔ ان د و برس میں میرے اور جلیل کے درمیان کم و بیش سینکڑوں بار ان سوال و جواب کا تبادلہ ہوا تھا۔ یہ اب ہماری دوستی کی نشانی تھی۔ مجھے وہ جب بھی ملتا تو میں پوچھتا۔ جلیل کیا کر رہے۔ وہ جواب دیتا (کور جوڑوم) گھر بنارہا ہوں۔
بچپن شتابی سے نکل گیا۔ وقت نے کروٹ لی۔ شہر بدلنا پڑا۔ پھر ملازمت میں مصروف ہوا۔ کبھی کبھی گاﺅں جاتا تو جلیل سے راہ چلتے کہیں ملاقات ہوتی۔ وہ اب بڑا ہو چکا ہو تھا۔ چہرے پر نورانی داڑھی کا ایک ہالہ سا بن گیا تھا۔ یوں جیسے دسویں روز کے چاند کے گرد ایک ہالہ بنتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک مدرسے میں پڑھتا ہے۔ مجھے جب بھی ملتا تو سلام کی بجائے میں اس سے پوچھتا۔ جلیل تمہارا گھر بن گیا؟ وہ دھیرے سے مسکراتا۔ کچھ شرما کر جواب دیتا۔ وہ میں آخر میں بناﺅں گا۔ سب سے بڑا سب سے خوبصورت۔
وقت سرکتا رہا۔ سرکار کی مزدوری میں میرا تبادلہ اپنے شہر ہوا۔ رات کو اکثر گھر لوٹتے جلیل مجھے کبھی شہر کے باہر سڑک کے کنارے مسجد میں مل جاتا یا پھر گاﺅں کی طرف پیدل چل رہا ہوتا۔ میں اسے لفٹ دیتا۔ وہ دروازہ کھول کر بیٹھ جاتا۔ سلام کرتا۔ اور خاموش رہتا، پرسکون، بے آواز۔ ان ملاقاتوں میں کبھی گاڑی میں کوئی سی ڈی بج رہی ہوتی۔ تو میں جلیل سے گلوکار کا پوچھتا۔ کبھی میں اس سے سیاست پر سوال کرتا۔ کبھی کسی سماجی موضوع کو چھیڑتا۔ ہر سوال پر جلیل کا ایک ہی جواب ہوتا۔ ( واللہ کہ خبر یم) معلوم نہیں۔ جلیل کو نہیں پتہ تھا کہ عامر خان کون ہے۔ وہ امیتابھ بچن کو نہیں جانتا تھا۔ اس نے سلطان راہی کا نام نہیں سنا تھا۔ وہ ضیاءالحق سے ناواقف تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سردار داﺅد کون تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ بھارت پاکستان کے مشرق میں ہے یا مغرب میں۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ برصغیر کس چیز کا نام ہے۔ وہ اس سے واقف نہیں تھا کہ ریاست کس چیز کو کہتے ہیں۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کب آئی اور دوسری جنگ عظیم کب ہوئی۔ وہ محمد بن قاسم کو نہیں جانتا تھا۔ وہ سید احمد شہید سے واقف نہیں تھا۔ وہ اس قطعی نابلد تھا کہ ملا عمر سے پہلے افغانستان کا حکمران کون تھا۔ ان ہزاروں سوالوں میں ایک دن اس نے صحیح جواب دیا۔ میں نے پوچھا پرویز مشرف کون ہے؟ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ پرویز مشرف پاکستان کا بادشاہ (باچا) ہے۔ ہاں! اسے معلوم تھا کہ نماز میں فرائض کیا ہیں۔ وضو میں سنت کتنے ہوتے ہیں۔ ذکر کے فضائل کیا ہیں۔ اس کے علاوہ جلیل ایک کورا کاغذ تھا۔
کل رات گاﺅں سے ایک فون آیا۔ بتانے والے بتایا کہ جلیل کا انتقال ہوا۔ کیسے؟ کہاں؟ کیوں؟ جنازہ کب ہے؟سوال کے جھکڑ چلنے لگے۔ بتانے والا شاید درد کے شدت سے پرسکون تھا۔ تھوڑی خاموشی کے بعد بولا۔ صرف اطلاع آئی ہے کہ افغانستان میں خود کش دھماکہ کیا ہے۔ نہ جنازہ ہوا۔ نہ قبر ملی۔ نہ جسد کا پتہ ہے۔ بس اتنا معلوم ہوا کہ خودکش دھماکہ کیا ہے۔ گاﺅں میں فاتحہ جاری ہے۔ میں نے پوچھا کہ تعزیت کے لئے کس وقت فون کرنا چاہیے۔ بتانے والا کرب میں تھا۔ اس نے کہا ضرورت نہیں ہے۔ پوچھا کیوں ضرورت نہیں ہے؟کہنے لگا۔ کچھ سفید پوش آئے تھے۔ مبارک باد دی تھی۔ تقاریر ہوئی تھیں کہ شہید کا غم نہیں مناتے۔ وہ باپ کا کاندھا تھپکا مبارکباد دے رہے تھے۔ اب تعزیت کیا کرنی۔
افتادگان خاک کے نالوں کے جواب کب آتے ہیں۔ پکار پکار کر گلے رندھ گئے۔ لکھ لکھ کر پوریں گھس گئیں۔ سوال اب بے معنی ہیں۔ سوال پوچھتے ہیں تو جواب کو نظر ئیے کی خمیر میں گوندھ کر حب الوطنی کو باڑھ پر رکھاجاتا ہے۔ ایمان کو ترازو کی باٹ پر رکھ کر ہلکے ہونے کا فتوی صادر ہوتاہے۔ جلیل تو ایک کوار کاغذ تھا۔ اسے افغانستان کس نے بھیجا؟ اسے خود کش حملے پر کس نے اکسایا؟اس کی موت پر مبارکباد کون دے رہے تھے؟ خودکش حملے میں مرنے والوں کا قصور کیا تھا۔ اسے یہ راستہ کس نے دکھایا؟ ایک پل پیچھے مڑ کر دیکھ تو لیجیے کہ گزشتہ پینتیس سالوں میں ہم نے کتنی لاشیں اٹھائیں؟چند خود سروں کی ضد نے لکیر کے دونوں جانب کتنے گھر اجاڑے؟ راستے کا انتخاب تو منزل کا نشان ہوتا ہے۔ ہمارا راستہ خون کے دریا پر سے کیوںگزرتا ہے؟ کیوں! ایسا پامال سوال ہے جو ہمارے اجداد گزشتہ پینتیس برس سے پوچھ رہے ہیں۔ افغانستان کی بھٹی گرم ہوئی تو ہمارے اجداد خوفزدہ تھے کہ آتش گل کہیں چمن کو جلا نہ دے۔ آتش گل نے کئی بار چمن کو جلا ڈالا مشکل مگر یہ ہوئی کہ شمشیرزن و ثناخواں شرر بار رہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے طاﺅس و رباب کے تار توڑ دئیے۔ گلشن کے ہزاروں پھول مرجھا گئے۔ افغانستان قبرستانوں سے آباد ہوا۔ اب ایک نئی جنگ کی تیاری ہے۔ آپ ایک نئی جنگ کا بازار گرم کیجیے ۔ دیکھتے ہیں کہ جنگ سے آنگن میں پھول کھلنے کا خواب کیسے پورا ہوتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ برہان الدین ربانی سے لے کر حامد کرزئی تک آپ سب کا ہاتھ پکڑ کر ہمیں باورکراتے رہے کہ یہ ہمارے اصلی دوست ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارا پرچم کتنی بار کابل کی سڑکوں جلا۔ آپ بھول گئے ہوں گے مگر ہمیں تو یاد ہے کہ 14نومبر2001 سے 24 نومبر2001 تک ہمارے طیارے گلگت اور چترال سے پرواز کرکے ہر رات قندوز میں محصور کچھ سایوں کو پاکستان لاکر اتارتے رہے۔ یہ کون تھے؟ شاید نامعلوم افراد۔ انہیں کس نے بھیجا تھا؟ نامعلوم افراد نے۔ آپ اپنی غلطی کبھی تسلیم نہ کیجیے ۔ دوسروں پر احسان فراموشی کا الزام لگاتے رہیں۔ آپ کے اس بھیانک خواب کی تعبیر میں ہمارے قبرستان آباد رہیں گے۔ مگر اب تو قبریں بھی آباد نہیں ہوتیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ رام دہائی جرم ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ لہو کس نے گرایا۔ ہمارے جسموں میں تشدد سہنے کی تاب نہ سہی مگر ہمارے ذہن تشدد سے تسخیر نہیں ہوں گے۔ لہذا ہم خاموش ہیں کیونکہ بدھا نے کہا تھا کہ خاموشی میں نروان ہے۔
دکھ صرف ایک ہے۔ ہماری مائیں پہلے جنازوں سے لپٹ کر روتی تھیں۔ ہماری مائیں چھوٹے چھوٹے پتھروں پر درود پھونک پھونک کر کچی قبروں پر پھیلا دیتی تھیں۔ ہماری مائیں ٹوٹے گھڑے اپنے بچوں کی تربت کے سرہانے رکھ کر ہر شام ان میں پانی بھرنے جاتی تھیں تاکہ پیاسے پرندے ان کے بچوں کی تربت سیراب ہو سکیں۔ دکھ یہ ہے کہ ہماری مائیں اب خلاﺅں میں گھورتی ہیں۔ ان کی آنکھیں ویران ہوتی ہیں۔ ان کے جگر گوشوں کا نشان مٹ جاتا ہے۔ اب وہ ٹوٹے گھڑوں میں پانی نہیں بھر سکتیں۔ درد یہ ہے کہ جلیل گھروندوں کا معمار تھا۔ اسے تازہ بستیاں آباد کرنی تھیں۔ تنے اعصاب کے سوداگروں نے اسے بستی کی ویرانی کا سبب بنا دیا۔ جس کو ایک گھر بنانا تھا آخر میں۔ سب سے خوبصورت سب سے بڑا ۔ اسے قبر نصیب نہ ہو سکی۔ طاقتوروں کی طاقت سلامت پر ایک دن ہماری زمین پر بارش ضرور برسے گی۔ ان کا نظریہ سلامت پر ایک دن یہاں کانٹوں کی فصل سوکھ جائے گی۔ تب تک وہ خون پیتے رہیں۔ ہم آنسو پیتے رہیں گے۔ ایک دن ان کو معلوم ہو گا کہ خون کا رنگ لال ہوتا ہے۔ ایک دن وہ جان سکیں گے کہ آنسو نمکین ہوتے ہیں۔ نمکین آنسوگلے کے پار اترتے ہیں تو سینے میں بہت جلن ہوتی ہے۔
