’موسیقی اپنے دم پر ہٹ ہوتی تھی‘ : خیام کی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا ملک اپنی آزادی کے ساٹھ برس پورے کرنے جا رہا ہے اور میں بھی موسیقار کے روپ میں اپنے کیرئر کے ساٹھ برس پورے کرنے جا رہا ہوں۔
میں نے اپنا کیرئر 1947 میں شروع کیا۔ پہلے پان۔ چ برس میں ’شرما جی‘ کے نام سے میوزک دیتا رہا۔ اس کے بعد اپنے اصلی نام خیام سے کام کیا۔
اس دور میں دلیپ کمار، راج کپور، اور دیو آنند جیسے اداکار ہوئے۔ میں نے ان لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ ’فٹ پاتھ‘ فلم میں دلیپ کمار صاحب اور ’پھر صبح ہوگی‘ میں راج کپور کے ساتھ کام کیا۔

’شام غم کی قسم‘ اور ’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘ اسی دور کے گیت ہیں۔ وہ بڑے شاعروں کا دور تھا۔ آج میں سوچتا ہوں تو اچھا لگتا ہے کہ اتنے بڑے شاعروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
دیو صاحب بھی بڑے اداکار تھے، ان کی فلموں کا میوزک بھی بہت بہترین اور ایک خاص طرح کا ہوتا تھا۔ ان کے گانوں میں مغربی موسیقی کی جھلک زیادہ دیکھنے کو ملتی تھی۔

وقت کے ساتھ چیزیں بدلیں۔ ’کبھی کبھی‘ ایک بدلے ہوئے زمانے کی ہی فلم ہے۔ ’کبھی کبھی‘ بہت ہی میوزکل فلم تھی۔ یش چوپڑا جی ہمارے سب کے پسندیدہ فلم کار ہیں لیکن اس فلم میں اگر ساحر لدھیانوی کے گیت نہ ہوتے اور میرا میوزک نہیں ہوتا تو فلم پر اثر پڑتا۔

ہمارے یہاں جو پہلے فلمیں بنتی تھیں ان کے موضوعات بہت اچھے ہوتے تھے۔ ان میں میوزک بھی غضب کا ہوتا تھا۔ ایک کہانی کے لیے اسی طرح کا میوزک بنایا جاتا تھا اور اس کا پورا ٹریٹمنٹ ایک ہی طرح کا ہوا کرتا تھا۔

ابھی تکنیک سے ساتھ ترقی بھی ہوئی لیکن میوزک کا معیار گرا ہے۔
ہماری فلموں میں کمرشل فلموں کے نام پر کچھ بھی پیش کیا جا رہا ہے اور مغربی تہذیب پوری طرح ہماری فلموں پر حاوی ہو چکی ہے۔ فلموں میں اخلاقیات اور تہذیب کی قیمت کم ہو رہی ہے۔

اب تو فلموں میں آئٹم نمبر ہونے لگے ہیں۔ فلم پردے پر اچانک ہی کوئی گانا ہو جاتا ہے جس کا فلم کی کہانی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔
پہلے موسیقی اپنے دم پر ہٹ ہوا کرتی تھی۔ اسے کسی طرح کے پروموشن کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب کی موسیقی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے۔ وہ سب ایک طرح کی لگتی ہے۔

لتا جی کے ساتھ میں نے کئی گانے بنائے۔ ویسے تو بہت سے گانے ہیں اور سب مجھے اچھے لگتے ہیں لیکن مجھے ایک گانا یاد ہے ’رضیہ سلطانہ‘ فلم کا ’اے دل نادان۔ ‘

’رضیہ سلطانہ‘ کمال امروہی صاحب کی فلم تھی۔ ویسے تو یہ گانا سیدھا سا گانا تھا اور دھن بھی آسان تھی۔ لیکن اس کو گانے کے لیے آواز کے جادو کی ضرورت تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ لتا جی نے محنت کے ساتھ گانا گایا۔ اسے اتقاق ہی کہیں گے کہ کمال صاحب کی فلم ’محل‘ کے گانے سے ہی لتا جی انڈسٹری میں مقبول ہوئیں۔

امراؤ جان کے نغمے بھی کافی مقبول ہوئے۔ اس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ امراؤ جان کے گانے کلاسیکی ہیں۔ اس فلم کی موسیقی میں نے تیار کی تھی اور گانے کے لیے میں نے آشا بھونسلے کا انتخاب کیا تھا۔ میں نے اس فلم میں ان کی آواز تراشی تھی۔
اس بات کو آشا جی بھی قبول کرتی ہیں کہ اس فلم میں ان کی آواز الگ انداز میں سنائی دیتی ہے حالانکہ انہوں نے خود محنت بہت کی تھی۔
14 اگست 2007

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10111 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp