کچلاک اور کابل حملے اور اختر مینگل کا گلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اختر مینگل کا گلہ برحق۔ ہمارے میڈیا نے ان کی جماعت کے ایک اہم رہ نما کے قتل کو تقریباََ نظر انداز کیا۔ مقتول سردار نوروز خان کے جان نشین اور سیاسی وارث تھے۔ ان کے قافلے پر خضدار میں حملہ ہوا۔ مذکورہ خاندان کی چوتھی نسل کا ایک پڑپوتا بھی اس کی نذر ہوگیا ۔ جو قتل ہوا ہے اس کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔

اختر مینگل کو مگر یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ میرے نوجوان ساتھیوں کی اکثریت کو خبر ہی نہیں کہ سردار نوروز خان کون تھے۔ٹویٹر کے ذریعے اپنے تعصبات اور غم وغصے کا مسلسل اظہار کرنے والوں کے پاس تاریخ کی کوئی کتاب پڑھنے کی فرصت نہیں۔ان کی بے پناہ تعداد کو جغرافیہ کا واجبی علم بھی میسر نہیں ہے۔بلوچستان کا نقشہ شہروں کے نام لگائے بغیر ان کے سامنے رکھ دیں توہرگز بتا نہیں پائیں گے کہ خضدار کہاں واقعہ ہے۔صحافیوں کے دفاع کے لئے ان دنوں آزادیٔ صحافت کی ’’محدودات‘‘ کا ذکر بھی ہوسکتا ہے۔

سیلف سنسرشپ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ہماری اکثریت ’’لفافہ‘‘ کی تہمت سے بھی پریشان ہوچکی ہے۔بچ بچاکر لکھنے اور بولنے کی عادت مگر ذہن کو بالآخر کاہل بنادیتی ہے۔جن معاملات کا تفصیلی ذکر ممکن ہے ان کی جانب بھی نگاہ نہیں اُٹھتی۔ کالم لکھتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ جب وہ سوشل میڈیا پر نظر آیا تو کتنے لوگ اسے پسند کریں گے اور پڑھنے کے بعد دوسروں تک Share کرنے کی زحمت اٹھائیں گے۔ بلوچستان کا ذکر سوشل میڈیا پر Ratings نہیں لیتا۔

پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر کا میڈیا ان دنوں Hypeکاغلام بن چکا ہے۔ریاستوں کی دائمی اشرافیہ Narrativeکو اپنے مکمل کنٹرول میں رکھنے کو بضد ہے۔ریاستی بیانیوں کے مابین برپا جنگوں میں انفرادی کاوشوں سے اہم ترین معاملات پر توجہ دینا اب ممکن نہیں رہا۔اگست 2019کے آغاز میں مودی سرکار نے بھارتی ا ٓئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ سے جنوبی ایشیاء میں ایک نیا بحران پیدا کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال ٹھوس وجوہات کی بناء پر ہماری بھرپور توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستانی ہی نہیں بی بی سی اور نیویارک ٹائمز جیسے عالمی رسائی کے حامل صحافتی ادارے بھی اس کے تفصیلی ذکر کو مجبور ہیں۔

پاکستانی صحافیوں کو تاہم مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنی توجہ کو زوم آئوٹ کرتے ہوئے ان معاملات کوبھی جانچنا ہوگا جو کئی حوالوں سے آرٹیکل 370کی تنسیخ کی بدولت رونما ہورہے ہیں۔عوامی جمہوریہ چین مثال کے طورپر یقینا ہمارا یار ہے۔اس کی بدولت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیرکی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں خواہ ’’بند کمرے‘‘ کے اجلاس میں لیکن تشویش کا اظہار کرنے کو مجبور ہوئی۔سوال مگر یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا چین نے فقط پاکستان کی محبت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا۔ میرا جواب نفی میں ہے۔

لداخ کو ماضی کی ریاست جموں وکشمیر سے کاٹ کر براہِ راست دلی کے کنٹرول میں لاتے ہوئے مودی سرکار نے ہمارے گلگت بلتستان کے بارے میں اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے۔چین اس سے فقط CPEC کی وجہ سے ہی لاتعلق نہیں رہ سکتا۔لداخ کے ہمسایے میں تبت بھی ہے۔وہاں کا ایک دلائی لامہ ہوتا ہے جو کئی برسوں سے بھارت میں جلاوطن ہوا بیٹھا ہے۔پاکستان کے میڈیا میں لداخ سے جڑے پہلو مگر کماحقہ انداز میں نمایاں نہیں ہوئے۔اس حقیقت کا بھی ادراک نظر نہیں آرہا کہ 5 اگست 2019 کے روز لئے اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر فقط پاک،بھارت قضیہ نہیں رہا۔ عوامی جمہوریہ چین بھی اب اس معاملے کا Legitimateفریق بن گیا ہے۔

باہمی مذاکرات کے ذریعے صرف پاکستان اور بھارت ہی اس قضیے کا حل تلاش نہیں کرسکتے۔ چین کے مطالبات اور خدشات کو بھی اب مساوی اہمیت دینا ہوگی۔لداخ کے حوالے سے جو نئی صورت حال نمودار ہوئی ہے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کو بھی نظر میں رکھنا ہوگا کہ امریکی صدر وائٹ ہائوس میں مزید چار سال رہنے کو یقینی بنانے کے لئے افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کو اتاولا ہورہا ہے۔اس ضمن میں اسے پاکستان کا تعاون درکار ہے۔پاکستان سے تعاون کو یقینی بنانے کے لئے اس نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو 22جولائی کو وائٹ ہائوس مدعو کیا۔چرب زبان چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے یہ بڑھک بھی لگادی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیارہے۔

خواہش اس کی یہ تھی کہ پاکستان فی الوقت اس سے افغانستان کے حوالے سے بھرپور تعاون پر توجہ دے۔ اس کے ’’عوض‘‘ وہ مسئلہ کشمیر ’’حل‘‘ کروادے گا۔نریندرمودی کو ٹرمپ کی مذکورہ پیش کش نے مشتعل کردیا۔براہِ راست جواب دینے کے بجائے اس نے آرٹیکل 370کے خاتمے کا اعلان کردیا اور مقبوضہ کشمیر پر اپنے تسلط کو مزید وحشیانہ بنادیا۔ٹرمپ مودی کے مذکورہ اقدام پر خاموش رہا۔ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے باوجود جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کو کم از کم اس امر پر بھی مجبور نہ کیا کہ وہ ایک باقاعدہ اعلان کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اپنی ’’تشویش‘‘ کو دُنیا کے سامنے لائے۔

پاکستان اور بھارت کو اپنے معاملات ’’باہمی مذاکرات‘‘ کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا رہا۔جمعہ ہی کے روز مگر امریکی صدر نے اپنے مشیروں کے ساتھ افغانستان کی تازہ ترین صورت حال جاننے کے لئے ایک تفصیلی اجلاس طلب کیا۔ اس کے اختتام پر ایک ٹویٹ بھی لکھی۔ اس کی ٹویٹ نے ثابت کردیا کہ جنوبی ایشیاء میں امریکی صدر کی سوئی صرف افغانستان پر اٹکی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوا ’’لاک ڈائون‘‘ اس کی فکر کا باعث نہیں۔

افغانستان کا ذکر مگر نریندر مودی نے بھی اپنے ملک کے یوم آزادی کے دن کیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی کو 19اگست کے روز آنے والے ’’یوم آزادی‘‘ کی پیشگی مبارک باد دی۔افغانستان کو ’’بھارت کی طرح‘‘ دہشت گردی کا نشانہ کہا اور ساتھ ہی سری لنکا کو بھی جنوبی ایشیاء کے ان ممالک میں شامل کرلیا جنہیں باہم مل کر ’’دہشت گردی‘‘ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اپنی تقریر میں پاکستان کا ذکر کئے بغیر افغانستان پر توجہ دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے امریکی صدر کو سفارتی پیغام یہ دیا ہے کہ اس کے ملک کو مسئلہ افغان کا حل ڈھونڈنے کے عمل سے باہر نہیں رکھا جاسکتا۔

اس تقریر کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کو گزشتہ جمعہ کے روز ہی ہمارے بلوچستان کے شہر کچلاک میں اس مسجد پر ہوئے حملے پر ازسرنو غور کرنا ہوگا جو کئی برسوں سے طالبان کے موجودہ امیر ملاہیبت اللہ اخوند کے چلائے مدرسے سے ملحق ہے۔ان دنوں اس مدرسے اور مسجد کا مدارالمہام طالبان کے موجودہ امیر کا بھائی حافظ احمد اللہ تھا۔ اسے مسجد کے منبرتلے نصب ٹائم بم کے ذریعے کئے دھماکے کی بدولت ماردیا گیا ہے۔خدارا دوبارہ غور کریں۔جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں ہوا اجلاس مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر ’’صلاح مشورے‘‘ کے لئے مختص تھا۔اس کے منعقد ہونے سے چند گھنٹے قبل مگر مقبوضہ کشمیرسے سینکڑوں میل دور واقعہ کچلاک کے ایک مدرسے پر حملہ ہوتا ہے۔ اس مدرسے کابراہِ راست تعلق طالبان کے موجودہ امیر سے ہے جو ان دنوں امریکہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔

ملاہیبت اللہ سے منسوب مدرسہ پر حملے سے پیغام یہ دینے کی کوشش ہوئی کہ طالبان متحد قوت کی صورت باقی نہیں رہے۔ ان کی صفوں میں سنگین اختلافات پیداہوچکے ہیں۔ان کے ساتھ کوئی معاہدہ اگر ہوبھی گیا تو اس پر کماحقہ عمل درآمد کے امکانات روشن نہیں۔کچلاک پر ہوئے حملے کے عین ایک روز بعد کابل کے مغرب میں واقعہ ایک شادی ہال پر حملہ ہوگیا۔دل دہلادینے والے اس واقعہ میں اب تک کم از کم 63ہلاکتیں ریکارڈ پر آگئی ہیں۔

واقعہ اس قدر سنگین تھا کہ اس کی وجہ سے افغانستان نے 19اگست والے یوم آزادی کی تقریبات منسوخ کردی ہیں۔اس سنگین اور اندوہناک واقعہ کے بعد زلمے خلیل زاد نے ایک ٹویٹ لکھا ہے۔اسے غور سے پڑھیں۔ ٹرمپ کا افغانستان میں حل کی تلاش کے لئے لگایا مشیر اس کے ذریعے تقریباََ اعتراف کررہا ہے کہ طالبان کو ’’امن وامان‘‘ یقینی بنانے کے لئے ریاستی قوت واختیار میں جلدازجلد شراکت دینا ہوگی۔کچلاک اور کابل میں ہوئے حملے میری دانست میں افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے جاری عمل کو ناکام بنانے کی سنگین ترین کوشش ہیں۔ ان کا مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے بھی گہرا تعلق ہے۔اس تعلق کو مگر ہمیں کو ن سمجھائے گا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •