اف یہ شادیاں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی ایک ایسا میوہ ہے جس نے کھایا وہ بھی پچھتایاجس نے نہ کھایا وہ بھی پچھتایا۔ (دیسی مقولہ )

ایک وقت ہوتا ہے جب انسان بہت خوش ہوتاہے، بلکہ خوشی میں ڈنٹر پیلا کرتا ہے، صبح صبح گھر سے بن سنور کر نکلنا، آنکھوں میں مستی ہوتی ہے اور لبوں پر گیت، سارادن گھومناپھرنا اور جب شام کو گراؤنڈ میں آنا تو خوشی اس طرح وارے ہورہی ہوتی ہے جیسے مٹھائی پر مکھیاں آتی ہیں۔ یہ صورتحال دیکھ کر کچھ بابے نما نوجوان جنہیں انگلش میں شوگر ڈیڈی کہتے ہیں پاس آجاتے اوربڑے ہی بامعنی انداز میں پوچھتے ہیں ”تمہاری شادی کب ہورہی ہے؟ “۔ میں نے ایک دفعہ طیفے فلسفی سے پوچھا ”بابے یہ سوال اتنی بیتابی سے کیوں پوچھتے ہیں؟ “۔ اس نے جواب دیا ”بیٹا! یہ تمہاری خوشیوں کے دشمن ہیں“۔ میں نے پوچھا ”وہ کیسے؟ “۔ طیفے نے جواب دیا ”سمجھ جاؤگے“۔ مگرمجھے کیا پتا تھا کہ سمجھنے میں چالیس سال لگیں گے۔

پاکستان میں شادی کو ایک نسخے یا ٹانک کے طورپر بھی استعمال کیاجاتاہے، اس طرح کہ اگر کوئی راتوں کو دیر سے گھرآنے لگا، میلے کپڑوں میں رہنے لگے، بکھرے بال، بڑھے ہوئے ناخن، بے پالشی جوتی، بے دھوتامنہ، ہفتوں سے بے نہایا، آنکھوں میں جگرتا اور نشئی کی سی حالت ہوجائے، عادتیں کافی بگڑجائیں، رویہ ٹھیک نہ ہو، کسی طرف دھیان نہ جاتا ہو، سارا دن نہرکنارے بیٹھ کر پانی میں کنکریاں اچھالتا رہتاہو تو کچھ تجربہ کار بابے ایسے لڑکے کے والد کوگھیرلیتے ہیں اورصلاح دیتے ہیں کہ اس کی شادی کرادو، ذمہ داری کا بوجھ بڑھے گا تو ”سیدھا“ ہوجائے گا۔

یہ نسخہ اتنا کارگرہے کہ شادی ہونے کے بعد بندہ واقعی ایسا سیدھا ہوتا ہے کہ ساری زندگی یہ بات سمجھنے میں لگادیتا ہے کہ فزکس کے اصول کے مطابق بوجھ پڑنے پرباقی چیزیں جھکتی ہیں توانسان سیدھا کیسے ہوتا ہے؟ لیکن جیسے لوہے کو لوہا کاٹتا ہے ایسے ہی یارلوگ بھی فزکس کا توڑ فزکس سے ہی کرتے ہیں، وہ ایسے کہ فزکس کا اصول ہے کہ اٹھانامشکل ہے اور دھکیلناآسان، اسی لیے وہ اپنے اوپر ڈالی گئی ذمہ داری کو اٹھانے کے بجائے دھکیلناپسندکرتے ہیں، اس سے انہیں بھی آسانی رہتی ہے، وہ نہ صرف آسانی سے ذمہ داری کو آگے لے جاتے ہیں بلکہ انہیں فریکشن کا اصول بھی سمجھ آجاتا ہے جوانہیں کسی نازک موقع پر کام آتا ہے، اکثر والدین، جب اولادسرپر چڑھ جائے تو اسی ٹانک سے ان کا علاج کرتے ہیں۔

اس میوے کو کھانے کے لیے لوگ عجیب وغریب حرکات بھی کرتے ہیں، حال میں چین میں سوکے قریب جوڑوں نے یہ رسم بڑے بڑے ہوائی غباروں پر بیٹھ کر اداکی، کافی غورکیا کہ اس کی وجہ کیا ہے تو پتا چلا کہ وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ شادی سے پہلے ”اوپر“ جانے اور شادی کے بعد ”اوپر“ جانے میں کیا فرق ہے؟ اسی طرح کی ایک حرکت مشرف دور میں ہوئی تھی، جب پٹرول کی قیمت حد سے بڑھی تو ایک بھلے مانس نے احتجاجا اعلان کیا کہ وہ اپنی بارات گدھوں پر لے کر جائے گا، میں بھی سڑک کنارے کھڑاتھا، جب بارات وہاں سے گزری توایک دل جلے نے گرہ لگائی ”یہ دیکھو! گدھوں کی بارات جارہی ہے“۔ یہ سن کر میرے سمیت سب نے اپنا منہ جھکالیا، پاس ہی ایک پروفیسر کھڑاتھا، اس نے بغل میں کھڑے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اورکہا ”میں کہتاتھا ناں گرامر کا غلط استعمال بات کو کہاں سے کہاں پہنچادیتا“۔

شادی واقعی ایک ایسا میوہ ہے کہ نہ ہوتو چکھنے کو دل کرتا ہے اوروہ بھی اتنا شدیدکہ چلتے پھرتے ہر درخت کی طرف نظر یوں لپکتی ہے جیسے یہ میوہ اسی درخت سے ملے گا، پھر جب یہ میوہ دسترس میں آتا ہے تو کچھ عرصہ انسان باقی میوہ جات کو بھول جاتا ہے، جب آنکھیں کھلتی ہیں تو زبان پر اکثر یہ وظیفہ پایاجاتا ہے ”چاردن کی چاندنی اورپھراندھیری رات“۔ میں نے ایک بندے کو یہ وظیفہ جپتے دیکھاتوکہا ”شادی کے بارے میں تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟

تم جو مرضی کہومیں باز آنے والا نہیں، خودتوکرلی اورہماری باری آئی تو ہمیں منع کرتے ہو، میں تو اگلے مہینے ہی شادی کھڑکانے والا ہوں ”۔ ، یہ سن کر اس نے چادر جھاڑکر کندھے پر رکھی اورجاتے جاتے کہنے لگا“ بیٹا جی! ڈھول گلے میں ڈالناآسان ہے پتا تب چلے گا جب اسے بجاؤگے ”۔ “ جس نے نہ کھایا وہ بھی پچھتایا ”کا گیت بھی کچھ لوگوں کی زبان پررہتا ہے۔ ان کے بارے میں عام ہے کہ ان کو مقولے کا صرف یہی حصہ یادہوتا ہے۔

کچھ عرصہ گزرتا ہے تو پھر یہ لوگ اپنا زیادہ تر وقت ہوٹلوں، کلبوں، سڑکوں، بازاروں اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں گزارتے ہیں، اگر کوئی پوچھے کہ اب کیا ہواہے؟ گھر کیوں نہیں جاتے؟ باہر کیوں پھرتے رہتے ہو؟ پریشان کیوں رہتے ہو؟ تب یہ لوگ بڑی ہی مسکین صورت بناکرکہتے ہیں ”یار! ہم تو شادی کرکے پچھتارہے ہیں، یہ بھی وئی زندگی ہے، دفترسے ڈیوٹی ختم ہوتو گھر کی ڈیوٹی شروع ہوجاتی ہے، سکون کا ایک لمحہ میسر نہیں ہے، گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ ایک لمبی سی لسٹ تیار ہوتی ہے، صبح اٹھو، بچوں کو سکول چھوڑ کر آؤ، بریک ٹائم انہیں کھانا دینے آؤ، چھٹی کے وقت پھر لینے جاؤ، اپنے کام، بیگم کے کام، سسرال کے کام، ماں باپ کے کام، بچوں کے کام اور اوپر سے دفتر کے کام، ہم تو ایسی زندگی سے تنگ آگئے ہیں، جب یہ اس سٹیج پر آتے ہیں تو ان کو مقولے کا اگلا حصہ“ جو کھاتے ہیں وہ بھی پچھتاتے ہیں ”یادآتا ہے۔

ورنہ شادی تو ایک اسلامی امر ہے، انبیاء کی سنت ہے، انبیاء کی سنت پچھتانے والی کیسے ہوسکتی ہے، اوپر معاملات سے پتا چلتاہے کہ ”شادی ایک ایسا میوہ جس نے کھایاوہ بھی پچھتایا اور جس نے نہ کھایا وہ بھی“ کا راگ الاپنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس ذمہ داری کو اٹھانے کی بجائے دھکیلنا پسندکرتے ہیں۔ بس ایک کام کریں اپنی بیوی کے ساتھ وہی برتاؤ کریں جو آپ اپنے داماد یا بہنوئی سے اپنی بیٹی یا بہن کے لیے چاہتے ہیں پھر دیکھنا زندگی جنت بنتی یا نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •