ہنری ہشتم اور اس کی ملکائیں

لیکن یہ نہ ہوسکا اور کارڈینل ٹامس ناکام لوٹ آیا اور ہنری کے غصے کا نشانہ بن گیا ٹامس نے اپنی جان بچانے کے لیے اپنا سب سے پیارا محل ہیمٹپن کورٹ بھی ہنری کو دے دیا اور کُچھ ہی عرصے بعد کسمپرسی کی حالت میں مرا۔ پوپ آف روم کا ہنری کو انکار اور ہنری کا غصے میں مشتعل ہونا ایک ایسا واقعہ تھا جس نے انگلش تاریخ کا رخ موڑ کے رکھ دیا۔ ہنری نے رومن کیتھولک چرچ سے بغاوت کردی اور چرچ آف انگلینڈ کو رومن کیتھولک چرچ سے الگ کردیا اور خود اس چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بن گیا اور اس نے اپنے لیے خود ہی شادی کو ختم کرنے کا پروانہ جاری کیا اور سات سالہ دوستی کے بعد این بولین سے جنوری 1533 میں شادی کرلی۔ این بولین سے ستمبر 1533 میں اس کی بیٹی ایلزبتھ ون پیدا ہوئی۔
جنوری 1536 میں وہ حادثہ پیش آیا جو میں نے پوسٹ کے پہلی سطور میں لکھا ہے۔ جاؤسٹنگ کے اس کھیل میں ہنری کو نہ صرف ٹانگ پر گہرا زخم آیا بلکہ اس کے سر پر بھی شدید اندرونی چوٹ لگی اور وہ دو گھنٹے سے زائد بیہوش رہا۔ یہ دیکھ کر این بولین صدمے سے بیہوش ہوئی اور اس کا مس کیریج ہوگیا۔ آج تاریخ دان اور میڈیکل کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس حادثے نے جہاں ہنری کو عمر بھر کے لیے ایک نہ ٹھیک ہونے والا زخم اور نہ ختم ہونے والا درد دیا بلکہ عملاً وہ ایک ٹانگ سے معذور ہو کر رہ گیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے سر پر جو چوٹ لگی تھی اس نے اس کے دماغ کا وہ حصہ بھی متاثر کیا (ممکنہ طور پر) جو غصے اور جذبات کو کنٹرول کرتا ہے اس طرح ہنری ایک شارٹ ٹیمپرڈ اور غصیلا انسان بن کہ رہ گیا اور وہ ہنری جو موسیقی، کھیلوں، آرٹ اور محفلوں کا شوقین تھا وہ ایک ظالم، غصیلے اور بد مزاج بادشاہ میں تبدیل ہوگیا۔
این بولین کی بدقسمتی کہ وُہ ہنری کو ولی عہد ( بیٹا ) نہ دے سکی اور ہنری کی نظریں اب تیسری شادی کرنے پر تھیں۔ اُس نے این بولین پر کمزور الزامات اور شواہد کی بُنیاد پر مقدمہ چلایا اور اُس کو دو ہفتے ٹاور آف لندن میں قید رکھنے کے بعد 19 مئی 1536 میں سر قلم کروا دیا۔ یہ وُہ ملکہ تھی جِس کی تاجپوشی کی رسم میں شامل نہ ہونے پر یوٹوپیا کے مصنف، فلاسفر، ادیب اور مشہور سکالر ٹامس مور کو چرچ آف انگلینڈ کی اطاعت نہ کرنے اور این بولین کو ملکہ تسلیم نہ کرنے پر اِسی ٹاور آف لندن میں اسیر رکھا گیا اور بعد ازاں اُس کا سر قلم کروا دِیا گیا۔ جو لیڈی تین سال پہلے ہیمپٹن کورٹ میں بطور ملکہ داخل ہُوئی تھی وُہ ٹاور آف لندن میں ایک مُجرم کے طور پر قید ہُوئی اور اپنی جان بھی گنوا بیٹھی۔

جین سیمور وُہ تیسری خاتون تھی جو مئی 1536 میں ہنری کی ملکہ بنی لیکن شاید اُس کی قسمت اچھی تھی کہ وُہ ہنری کے بیٹے ایڈورڈ ششم کے پیدا ہونے کے کُچھ روز بعد زچگی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا شِکار ہو کر اکتوبر 1537 میں اپنی جان سے گئی۔
جین سیمور کو ہنری بعد ازاں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتا رہا، شاید اِس لیے کہ اُس نے بالاخر ہنری کو ایک ولی عہد ایڈورڈ ششم سے نوازا تھا۔ کیا معلوم اگر وُہ زندہ رہ جاتی تو ہنری کے کِسی غضب کا نشانہ بن جاتی۔ ہنری نے چوتھی شادی جنوری 1540 میں این آف کلیوز سے کی لیکن جلد ہی ہنری اِس سے بھی اُکتا گیا اور محض چھ سات ماہ بعد جولائی 1540 میں اِس کو طلاق دے دی۔ ہنری کی پانچویں شادی کیتھرائین ہاورڈ سے جولائی 1540 میں ہُوئی۔
کیتھرائین ہارورڈ پر بھی ہنری ہشتم نے بے راہ روی اور دیگر جنسی نوعیت کے الزامات لگا کر مقدمہ چلایا لیکن اِس بار ہنری کی یہ پانچویں بیوی واقعی دو افراد کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث تھی اور اِس کا ایک لکھا گیا خط بھی پکڑا گیا تھا۔ ہنری نے فروری 1542 میں اِس کا سر قلم کرادیا اور یہ ٹاور آف لندن میں مدفون ہے۔
ہنری کی چھٹی اور آخری بیوی کیتھرائین پار بنی۔ ہنری سے اِس کی شادی بارہ جولائی 1543 میں ہُوئی۔ یہ خُوش قسمت رہی کہ ہنری اپنے آخری سالوں میں بستر تک محدُود ہوگیا تھا۔ جو زخم ہنری ہشتم کو قریب گیارہ سال قبل ٹانگ پر لگا تھا وُہ کبھی نہ بھر سکا تھا بلکہ وُہ ہمیشہ کُھلا رہا اور خراب ہوتا رہا۔ اِس زخم نے ہنری کی نہ صرف نقل و حرکت محدُود کردی تھی بلکہ اُس کو بے تحاشا موٹا بھی کردیا تھا، پہلے اُس کی کمر جہاں بتیس انچ تھی وُہ آخری ایام میں باون انچ ہوگئی تھی اور اُس کا وزن بڑھ کر چار سو پاؤنڈز یعنی ایک سو اکیاسی کلوگرام سے زائد ہوگیا تھا۔ اُس کے جسم سے شدید بدبُو آتی تھی اور اُس کے پاس کھڑا ہونا محال تھا بہرحال ہنری 1547 میں فوت ہُوا اور اپنے پیچھے ٹیوڈر خاندان کی ایک مُشکل میراث چھوڑ گیا۔
ہنری کے بعد اُس کا بیٹا ایڈورڈ ششم بادشاہ بنا یہ پہلا بادشاہ تھا جو پروٹیسٹنٹ تھا لیکن محض سولہ سال کی عُمر میں ( غالباً ٹی بی کا شِکار ہو کر ) فوت ہوگیا۔
یہ بات بھی بُہت دلچسپ ہے کہ کیتھرائین آف ایراگون ہنری کی پہلی بیوی جِس کے ساتھ شادی کو اُس نے اِسی لیے ختم کیا تھا کہ وُہ بیٹا چاہتا تھا اُسی کی بیٹی میری اوّل ملکہ بنی اُس نے چرچ آف انگلینڈ کو واپس رومن کیتھولک چرچ سے جوڑا اور مذہبی فرقہ وارانہ فسادات میں سیکڑوں پروٹیسٹنٹ شہریوں کو قتل کرایا اِسی لیے اُس کو بلڈی میری کہا جاتا ہے۔ اِس سے بھی بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ جِس این بولین اور اُس کی بیٹی ایلزیبتھ اوّل کو ٹاور آف لندن میں قید کیا گیا تھا جہاں این بولین کا سر قلم ہُوا اور ایلزیبتھ اوّل ( ورجن کوئین آف انگلینڈ ) قید رہی وُہ میری اوّل کے بعد انگلینڈ کی ملکہ بنی۔ بادشاہت کے کھیل نِرالے۔ ملکہ ایلزیبتھ اوّل کے دو مشہور قول لکھتے ہُوئے اِس کو یہیں ختم کرتا ہُوں۔
“I know I have the body of a weak and feeble woman, but I have the heart and stomach of a king, and of a king of England too.”
“I would rather be a beggar and single than a queen and married.”

