ہنری ہشتم اور اس کی ملکائیں


بھاری زرہ بکتر پہنے اور لمبے نیزوں کو مضبوطی سے تھامے ہُوئے یہ دونوں گُھڑ سوار نہایت چاک و چوبند، اچھے قد و قامت کے اور بے مِثال تھے۔ جو کھیل وُہ کھیلنے جارہے تھے وُہ کوئی عام کھیل نہ تھا بلکہ اِس کھیل میں شدید خطرات تھے۔ دونوں نے ایک دُوسرے سے فاصلے پر جاکر اپنے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور ایک دُوسرے کی جانب تیزی سے بڑھنے لگے۔ نسبتاً زیادہ طویل القامت شاہسوار کو دُوسرے شاہسوار نے بڑی پُھرتی سے ٹانگ پر گہری ضرب لگائی وُہ نیچے گرا اور اُس کا گھوڑا اُس کو تقریباً روندتا ہُوا گُزر گیا یہ دیکھ کر کھڑکی میں کھڑی اُس کی بیوی صدمے سے اپنے حواس اور ہونے والا بچہ دونوں کھو بیٹھی۔

ہنری ہشتم ٹیوڈر کے شاہی خاندان سے انگلینڈ کا ایک ایسا بادشاہ گُزرا ہے جو اپنی مِثال آپ تھا۔ بادشاہ یُوں تو ماضی میں جاہ و جلال اور اقتدار کے اکیلے ہی مالک ہوتے تھے چاہے وُہ انگلینڈ ہوتا، فرانس یا کوئی اور مُلک۔ ہنری ہشتم سے پہلے بھی انگلینڈ کے کئی بادشاہ غُصے کے تیز رہے تھے لیکن بقول شخصے مولوی مدن سی بات کہاں؟ ٹیوڈر کا شاہی خاندان کُچھ زیادہ اچھی شُہرت کا حامِل نہیں رہا لیکن ہنری ہشتم نے اس شاہی خاندان کا نام ہی ظُلم و بربریت اور خُود پسندی کے ساتھ نتھی کردیا اور جو کسر رہ گئی تھی وُہ اُس کی بیٹی میری اوّل (بلڈی میری) نے نکال دی۔

این بولین اور ہنری ہشتم ہرن کا شکار کھیلتے ہوئے

ہنری ہشتم ٹیوڈر کے شاہی خاندان میں 28 جون 1491 میں پیدا ہُوا اور محض سترہ / اٹھارہ سال کی عُمر میں 21 اپریل 1509 میں انگلینڈ کا بادشاہ بنا۔ ہنری چھ فٹ دو انچ کا طویل قامت اور خُوبصورت نوجوان تھا۔ ہنری اپنے اقتدار کے شروع شروع میں کھیلوں کو پسند کرنے والا بالخصوص ٹینس کھیلنے والا، موسیقی کا شوقین بلکہ خُود بھی موسیقار تھا اور کئی طرح کی دُھنیں اور میوزک انسٹرومینٹس بجا لیتا تھا، ادب، آرٹ اور مذہب میں دلچسپی رکھنے والا، دعوتیں دینے کا شوقین اور خُوش مزاج بادشاہ تھا۔ اگرچہ اپنی جوانی کے دِنوں میں بھی ہنری کو اگر کِسی سازش کی بھنک پڑجاتی تھی تو وُہ زیادہ تحقیق کے چکروں میں پڑے بغیر بندے کا سر قلم کرادیتا تھا، ظاہر ہے اقتدار چیز ہی ایسی ہے کہ انسان وُہ کام بھی کر گُزرتا ہے جو عام حالات میں کبھی نہ کرے۔

جِن افراد نے گیمز آف تھرونز دیکھی ہے اُن کو معلوم ہے کہ اُس میں ایک کھیل دِکھایا جاتا ہے جس کو Jousting کہا جاتا ہے اِس میں دو افراد زرہ بکتر پہنے ایک دُوسرے کی طرف تیزی سے گھوڑا دوڑاتے ہُوئے آتے ہیں اور ایک دُوسرے کا دفاع توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ برسیلِ تذکرہ گیم آف تھرونز میں ہاؤس آف سٹارک اور ہاؤس آف لینیسٹرز کو آپ بالترتیب ہاؤس آف یارک اور ہاؤس آف لینکاسٹر سمجھ لیں اور اُن کی انگلش تھرون کے لیے کشمکش ایک الگ ہی پوسٹ کی متقاضی ہے جبکہ لیڈی سٹارک اور روب سٹارک کا قتل جو لارڈ بولٹن نے ڈنر پر کیا تھا وُہ سکاٹش ہسٹری میں بلیک ڈنر کے نام سے ایک الگ اور سچا واقعہ ہے جس کو میں اپنی پوسٹ ”ایڈنبرا کاسل“ میں تفصیل سے لکھ چُکا ہُوں۔ جاؤسٹنگ کے کھیل کی بات پر واپس آتا ہُوں، بسا اوقات یہ کھیل کِسی کو شدید زخمی تو کِسی کی جان بھی لے لیتا تھا۔ اِس جاؤسٹنگ کے کھیل میں بھی ہنری کافی شُغف رکھتا تھا اور آنے والے سالوں میں یہ کھیل ہنری ہشتم کی زندگی میں بُہت اہم کردار ادا کرنے والا تھا۔

ہنری ہشتم جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ شروع میں بالکل ویسا نہیں تھا جیسا بھیانک اور ظالم وُہ آج ہمیں تاریخ کے آئینے میں نظر آتا ہے۔ تاریخ کو ایک تحریر یا پوسٹ میں مکمل کرنا دراصل خُود تاریخ کے ساتھ شدید زیادتی ہے لیکن کیا کِیا جائے کہ اِس کے عِلاوہ چارہ ہی نہیں اِسی لیے اِس پوسٹ میں بھی لمبی چوڑی تفصیلات میں جانے کی بجائے ہنری ہشتم، اُس کی شادیوں، بیویوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سُلوک، درباریوں یا سرکردہ افراد کے سر قلم کرنے، چرچ سے بغاوت، ہنری کی ذہنی حالت اور ممکنہ وجوہات پر ہی بات کروں گا۔

ہنری کی پہلی شادی کیتھرائین آف ایراگون سے ہوئی

ہنری کی پہلی شادی کیتھرائین آف ایراگون سے 11 جون 1509 میں ہُوئی۔ دونوں اپنی شادی میں خُوش تھے۔ یہ شادی تقریباً چوبیس سال قائم رہی۔ اس سے قبل کیتھرائین آف ایراگون کی شادی ہنری کے بڑے بھائی پرنس آف ویلز آرتھر سے 1501 میں ہوئی اور 1502 میں آرتھر کے مرنے کے بعد کیتھرائین کی نسبت ہنری سے منسوب کر دی گئی تھی۔ کیتھرائن سے ہنری کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ہنری دی ڈیوک آف کورن ویل تھا لیکن یہ بچہ اپنی پیدائش کے کچھ دنوں کے بعد چل بسا اور ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام میری اول تھا۔ یہ بعد ازاں تاریخ میں ”بلڈی میری“ کے نام سے مشہور ہُوئی۔ اس کی وجوہات خالصتاً مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی قتل و غارت گری تھی جو اس نے پروٹیسٹنٹ کو قتل کر کے کی۔ ان کی تفصیلات میں جانے کا وقت نہیں ہے اگر کبھی موقع میسر آیا تو الگ سے ضرور لکھا جائے گا۔

کیتھرائن آف ایراگون میری اوّل کے بعد ہنری کو کوئی جانشین (بیٹا) نہ دے سکی اور ہنری کا خیال یہ تھا کہ ٹیوڈر خاندان کی انگلستان کے تخت پر بادشاہت کو ایک مرد ہی بہتر طور پر سنبھال سکتا تھا اسی لیے وہ بیٹے کی چاہت کا شدت سے منتظر تھا۔ ہنری کی کئی داشتائیں تھیں انھیں میں سے ایک داشتہ کی بہن این بولین تھی۔ این بولین زیادہ خوبصورت تھی یا نہیں لیکن اپنے زمانے کے حساب سے نہایت فیشن ایبل اور ہائی سوسائٹی میں جانی پہچانی شخصیت تھی۔ اس نے ہنری کے ساتھ کئی سال دوستی تو قائم رکھی لیکن ہنری کے ساتھ اِس سے آگے کے تعلقات بنانے کی شرط صرف اس سے شادی کی صُورت میں رکھی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ کیتھرائن آف ایراگون اسپین کے ایک طاقتور شاہی خاندان کی بیٹی تھی جس کی اپنی بہنیں یورپ کے مُختلف شاہی خاندانوں میں بیاہی ہوئی تھیں اور ہنری کوئی بھی بہانہ بنا کر اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ہنری کو پوپ آف روم سے رجوع کرنا پڑا تاکہ وہ ان دونوں کی شادی ختم کرنے کا پروانہ جاری کر سکے اس مقصد کے لیے اس نے اپنے کارڈینل ٹامس وولسے کو بھیجا تاکہ وہ پوپ کو قائل کر سکے کہ بادشاہ کی شادی کو توڑنے کا اجازت نامہ وہ جاری کر دے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2