سیلز گرلز اور ذہنی بیمار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آ یئے کچھ باتیں فرض کرتے ہیں اور پھر ان پر بات کرتے ہیں یا ان کے متعلق سوچتے ہیں۔ فرض کریں آپ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہیں اور آپ کے والد یا والدہ بیمار ہیں۔ فرض کریں آپ کا کوئی بھائی نہیں ہے اور آپ چار پانچ بہنیں ہی ہیں اور ان میں سے ایک دو پڑھتی ہیں اور ایک دو کی شادی ہونے والی ہے۔ اور آپ کو گھر یلو حالات کی وجہ سے نوکری کرنی پڑ جاتی ہے۔ فرض کریں آپ کو معاشرے کے مروجہ معیار کے مطابق کوئی باعزت نوکری تو نہیں ملتی لیکن ایک شاپنگ مال میں ایک سیلز گرل کی نوکری مل جاتی ہے جہاں آپ بظاہر محفوظ ہیں آپ کو آٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کام تو کرنا پڑتا ہے لیکن آپ کا زیادہ تر واسطہ خواتین گاہکوں سے ہی رہتا ہے۔

لیکن اچانک ایک دن ایک گاہک خاتون بلا وجہ آپ کو ماریں یا آپ پر چلائیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ اور کیا آپ کے خیال میں یہ مناسب بھی ہے؟ مجھے یہ خیال اس لئے آیا کیونکہ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں لاہور کے ایک مشہورشاپنگ مال میں ایک بھاری بھرکم خاتون چیختی چلاتی ایک سیلز گرلز کو زدوکوب کرتی ہوئی دکھائی دیں۔ ویڈیو دیکھ کر دل بہت افسردہ ہوا کہ کس طرح سے طاقت اور امارت کے زعم میں لوگ اپنے آپ کو فرعون سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔

مزید افسوسناک یہ تھا کہ ایک عورت دوسری عورت پر سرعام تشدد کر رہی تھی اور اپنے عورت ہونے کا فائدہ اٹھا رہی تھی کیونکہ اس کی جگہ اگر کوئی آدمی کسی کو سر عام پیٹتا تو چھڑاتے چھڑاتے بھی ایک دو ہاتھ تو یقینا اس کو جڑ دیے جاتے۔ دوسری جانب ایک غریب سیلز گرل جس کے ساتھ بد ترین سلوک کیا گیا جبکہ بظاہر ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی۔ عموما سیلز گرلز یا فاسٹ فوڈ چینز پر کام کرنے والی لڑکیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ہراسانی بھی شامل ہے۔

ایسی لڑکیاں یقینا معاشی مجبوریوں اور گھریلو حالات کی وجہ سے ہی چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہوتی ہیں جہاں آجر بھی ان کا استحصال کرتے ہیں اور خریدار بھی اپنی ذہنی پسماندگی کا ثبوت بد تمیزی کر کے دیتے ہیں لیکن معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ایسی تمام لڑکیاں یہ سب برداشت کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ طاقتور ہمیشہ کمزور سے ہی زیادہ اچھے رویے، زیادہ خوش اخلاقی اور زیادہ عزت پانے کی امید رکھتا ہے اور بلا جھجک اس کی تذلیل سے بھی گریز نہیں کرتا؟

سوچنے کی بات ہے کہ سر عام بدتمیزی اور پرتشدد رویے اختیار کرنے والے کیا خود بھی نارمل لوگ ہیں یا پھر ذہنی بیمار جن کہ رویے اور مزاج متوازن نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو بلاشبہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ عموما ہمارے معاشرے کا رویہ ورکنگ ویمن کی طرف یہی ہوتا ہے کہ انھیں آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔ ایسے جیسے ان خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کا سلوک کیا جا سکتا ہے۔ خصوصا معاشرے کے مروجہ رواج سے ہٹ کر نوکریاں کرنے والی غریب خواتین کو تو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماضی میں بھی ایسے بہت سے واقعات تسلسل سے رونما ہوتے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات کا احساس اور شعور پیدا کیا جائے کہ عزت کا معیار صرف اعلی نوکری یا دولت ہی نہیں ہے۔ چھوٹے موٹے روزگار سے منسلک عورت بھی اتنی ہی قابل عزت ہے جتنی کہ اعلی تعلیم یافتہ اور اونچی پوسٹ پر بیٹھی ہوئی کوئی عورت کیونکہ اپنے خاندان پالنے والی اور معاشی جدوجہد میں خاندان کو سپورٹ کرنے والی خواتین بلاشبہ زیادہ قابل عزت ہیں۔ اس سارے سلسلے میں جس ذہنی کرب کا شکار وہ ہوتی ہیں وہ شاید بیان سے باہر ہے۔ ان کی تکریم اور عزت نفس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا اچھا رویہ کسی دوسرے کے لئے سورس آف موٹیویشن ہوجس کی مدد سے وہ اپنی زندگی کی مشکلات عبور کرنے میں آسانی محسوس کریں۔ حالی صاحب نے شاید اسی لئے کہا ہے :

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •