سپہ سالار کی توسیع پر ہونے والے تبصروں پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئینِ پاکستان کی روح سے کوئی بھی سرکاری ملازم 60 سال کی عمر کے بعد اپنے عہدے پربرقرار نہیں رہ سکتا اسی مد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کو نومبر میں ریٹائرڈ ہونا تھا۔ مقبول صحافی ارشاد بھٹی صاحب کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد باجوہ صاحب کو اپنا سارا وقت اپنے اہلِ خانہ، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ گزارنا تھا، گالف کھیلنا تھا اور بیرونِ ملک سیر و تفریح کے لئے جانا تھا مگر وزیراعظم نے انہیں مزید تین سال کام کرنے کی درخواست کی جس کا پاس رکھتے ہوئے انہوں نے مزید تین سال ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

اور اب وہ مزید تین اہم ترین سال ملکِ پاکستان کے نام کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے از سرِ نو اپنی ذمہ داریوں نبھائیں گے اور زید حامد صاحب کے بقول شاید غزوہ ہند کے لئے اللہ تعالی نے انہیں بطور سپہ سالار چن لیا ہے اسی لئے ماضی کے دیگر سپہ سالاروں کی طرح انہیں بھی آئینی مدت میں توسیع مل گئی اور وہ یقین کے ساتھ کشمیر کو آزاد کروا کر ہی دم لیں گے۔

کچھ ناقص العقل لوگوں کا کہنا کہ انہوں نے خود یہ توسیع کروائی ہے، عائشہ صدیقہ نامی ایک ”نام نہاد“ دانشور کا کہنا ہے کہ جنرل فیض کو آئی ایس آئی چیف لگانے کا مقصد ہی توسیع کے لئے وزیر اعظم پر پریشر ڈالنا تھا۔ کچھ بیچارے کہتے ہیں کہ سیلیکٹ ہونے والے نے بدلے میں چیف سیلیکٹر کو سیلیکٹ کرلیا۔ اور بہت سے افراد تو وزیر اعظم کی اپنی ہی پرانی بات کی تصدیق کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں کہ آرمی چیف کو توسیع صرف حکومت چلے جانے کے ڈر سے دی جاتی ہے۔

بعض جاہل تو ہمارے وزیر اعظم کی پرانی ویڈیوز نکال کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”آرمی چیف کو توسیع دینے سے ادارے تباہ ہوتے ہیں یا دوسری جنگِ عظیم کے دوران مغرب نے بھی اپنے آرمی چیفس کو توسیع نہیں دی اگر میں وزیر اعظم ہوتا تو کبھی کسی آرمی چیف، چیف جسٹس یا کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایکسٹینشن نا دیتا۔“ خیر ہمیں کیا لگے جو بھی ہوا یقینا ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوا ہوگا اوروزیر اعظم اور آرمی چیف نے باہمی سلامتی کے امور کو مثبت طریقے سے چلانے کے لئے یہ دلیرانہ فیصلہ کیا ہوگا۔

پاکستان آرمی دنیا کی سب سے بہترین آرمی ہے اسی لئے اس نے دنیا میں صرف ایک ہی بہترین سپہ سالار پیدا کیا اور یہ ایک ہی غزوہ ہند میں بھی کامیابی دلائے گا۔ سازشی جو مرضی کہیں مگر شاید کوئی بھی متبادل باجوہ صاحب جیسا نہیں ہوگا۔ اسی لئے تو وزیر اعظم نے صرف انہی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ کیونکہ فوج اور سول قیادت ماضی کے مقابلے میں آج ناصرف ایک پیج پر بلکہ ایک ہی لائن پر ہیں۔ کوئی بھی سیاسی، عدالتی یا بین الاقوامی فیصلہ آرمی چیف اور وزیراعظم کی باہمی مشارت کے بغیر طے نہیں پاتا، اسی لئے یہ دونوں افراد ایک دوسرے پر اپنے گھر والوں سے بھی زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور یہ بہترین جوڑی ایک نیا پاکستان بنا رہی ہے اور آگے تین سال میں مزید نیا، بلکہ نیا نکور پاکستان بنائے گی۔

ہمارے ایک نوجوان صحافی، جو میرے نزدیک زید حامدِ ثانی کے لقب کے حقیقی حقدار ہیں، جناب مخدوم شہاب الدین کا کہنا ہے کہ ”باجوہ صاحب کی توسیع کی خبر سنتے ہی بھارتی افواج کو سانپ سونگھ گیا،“ یوں کہیے کہ مودی کے ہاں صفِ ماتم بچھ گئی، خود بھارتی آرمی چیف دیواروں پر ٹکریں مار رہے ہیں کہ باجوہ صاحب کو یہ توسیع کیوں ملی؟ آخر کیوں؟

شاید باجوہ صاحب کے جانے کے بعد انہوں نے آزاد کشمیر پر لشکر کشی کا منصوبہ بنایا تھا جو اس خبر کے ساتھ دم توڑ گیا۔ جنرل صاحب کا رعب اور دبدبہ ہی ہے کہ بھارت صرف جموں کشمیر تک محدود رہا اور مذموم مقاصد لے کر آزاد کشمیر تک نہیں آیا ورنہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہے اور ہمارے وزیر اعظم کے بقول ہم ”ہر ایک اینٹ کا جواب ایک پتھر سے دیں گے۔“

کچھ مسخرے اس توسیع کو جمہوریت کے خلاف ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کو کوئی کیسے سمجھائے کہ اس وقت ملک کس قدر نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ باجوہ صاحب کے جانے سے سی پیک رول بیک ہو سکتا تھا، ڈالر، پٹرول، ادویات، دالیں اور صابن مزید مہنگا ہو سکتا تھا، بے روزگاری، غربت، اور مہنگائی کو اکیلے ہمارے وزیر اعظم ختم نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمارے عظیم سپہ سالار کی قائدانہ صلاحتیوں کی بے حد ضرورت ہے تبھی جا کروہ مدینہ کی فلاحی ریاست کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکیں گے۔

یہ آرمی ہی ہے جو عسکری بنک، عسکری سیمنٹ، آرمی ویلفیئر نظام پور، آرمی ویلفیئر فارماسیوٹیکل، عسڪری لبر یکینٹس لمیٹڈ، آرمی ویلفیر ٹرسٹ پلازہ راولپنڈی، فوجی فاؤنڈیشن، ڈی ایچ اے لاہور، ڈی ایچ اے ملتان، کنٹونمنٹ بورڈز، اے پی ایس، ملٹری کالجز، این ڈی یو، فورٹرس لاہور، فوجی کبیر والا پاور پلانٹ، فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن اور درجنوں ادارے چلا کر ملک کی معیشیت کو مضبوطی سے چلا رہی ہے جس سے ملکی جی ڈی پی کا بہت بڑا حصہ اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ سب ہمارے سپہ سالار کی جنگجو صلاحتوں کے ساتھ ساتھ اعلی معاشی صلاحتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ایکسٹینشن کا نام سن کر کچھ جاہلوں نے اسے ”وائیر“ یعنی تاروں والی ایکسٹینشن سمجھنا شروع کر دیا ہے اور بہت سے کم عقل سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو وہ والی ایکسٹینشن دی ہے۔ میں ان کی عقل کے مطابق انہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ وہ اسے بھلے وہ تار والی ایکسٹینشن ہی سمجھ لیں مگر اس کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ دور سے بیٹھ کر نزدیک سوئچ لگا لیا جائے۔ عسکری و سیاسی قیادت نے بھی کچھ ایسا ہی دور اندیش فیصلہ کیا ہے جسے ہم من و عن تسلیم کرتے ہیں اور اس ایکسٹینشن کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ بہت سے شکوک و شبہات دور کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •