دریائے کھرمنگ اور کارگل کے مسافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ جھاگ اڑاتا، شور مچاتا اور بل کھاتا دریائے کھرمنگ تھا جس کے کنارے کھڑی جیپ میں ہم بیٹھے تو وہ ازخود رواں ہوگئی یوں کارگل کے مسافروں کا منزل پر پہنچنے کے بجائے دریا میں ڈوبنے کا امکان پیدا ہوگیا۔ دبلا پتلا ڈرائیور چیتے کی طرح چھلانگ لگا کر ہینڈ بریک لگانے میں کامیاب نہ ہوتا تو شہادت یقینی تھی۔ ابھی ہم اس حادثے سے جان بر نہیں ہوئے تھے کہ دشمن کی طرف سے گولہ باری شروع ہوگئی اور یوں کارگل کے مسافروں نے ’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو‘ گنگناتے ہوئے مورچے میں جا پناہ لی۔ اب اتنے برسوں کے بعد اس واقعے کی یاد تازہ ہوجانے کا ایک خاص سبب ہے۔

بھارت کی طرف سے خطہ کشمیر کی تقسیم اور اس پس منظر میں اپنے آئین میں ترمیم اس کے روایتی متکبرانہ رویے کا اظہار ہی تھا۔ اس معاملے میں عالمی برادری، ترکی کے علاوہ دیگر مسلم دنیا اورخاص طور پر بڑی طاقتوں کے ردعمل کا ہمیں کچھ زیادہ اندازہ نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو شاہ محمود قریشی ہرگز یہ نہ کہتے کہ وہاں لوگ ہمارے لیے ہار لے کر نہیں بیٹھے۔ قریشی صاحب کی مایوسی اپنی جگہ لیکن اب تک سامنے آنے والی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے ہمارا ساتھ دیا، سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے پر چین نے اپنی معروف مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا اور دو ایک ارکان کو چھوڑ کر مشاورتی اجلاس کی فضا ہمارے حق میں رہی جس پر بھارت کی پریشانی واضح ہے لیکن سوال یہ ہے کیا ہم نے حتمی مرحلہ طے کرلیا؟سلامتی کونسل سے حوصلہ افزا خبر کے آجانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ منزل سر ہوگئی بلکہ یہ ہے ہم صرف دریائے کھرمنگ میں گرنے سے بچے ہیں ،اس کے بعد کئی اور منزلیں باقی ہیں، خاص طور پر دشمن کی طرف سے کیے جانے والے ممکنہ اقدامات۔

دشمن یعنی بھارت کی طرف سے اب کیا متوقع ہوسکتا ہے؟ نئی دہلی کے مراکز غور فکر سے نکلنے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں بہت حد تک تنہا ہوجانے والا بھارت پاکستان کو تنہا کرنے کے ایک اور بڑے مشن کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ خیال ہے کہ بھارت چین کو لداخ کے معاملے میں ایک بڑی پیش کش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ چین کشمیر کے معاملے میں غیر جانب دارانہ طرز عمل اختیار کرکے پاکستان کو ایک بار پھر بے دست و پا کر دے۔ کیا بھارت اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوپائے گا؟ یہ زیادہ یقینی نہیں لیکن یہ امکانات کی دنیا ہے اور بھارت کسی امکان کو نظر انداز کرنے یا آزمائے بغیر چھوڑدینے کا کبھی روا دار نہیں ہوتا۔ تو گویا حالات کا سبق ہمارے لیے یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں ابتدائی قسم کی پیش رفت سے مطمئن ہوکر گھر میں بیٹھ رہنے کا یہ وقت ہرگز نہیں۔

اجلاس سے پہلے وزیر خارجہ بیجنگ گئے تو اچھا کیا لیکن اب ایک بار پھر چین کا سفر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، نہ صرف شکریہ ادا کرنے کے لیے بلکہ بھارت کے مکارانہ عزائم کی پیش بندی کے لیے بھی۔ قریشی صاحب کے صرف چین سے ہوآنے سے بھی کام نہیں بنے گا بلکہ اس کے بعد انھیں ماسکو، پیرس اور لندن کے علاوہ سلامتی کونسل کے دیگر دس غیر مستقل ملکوں میں بھی جانا پڑے گا۔ 80 کی دہائی میں ان سطور کا لکھنے والا ابھی اپنے زمانہ طالب علمی میں تھا لیکن خوب یادہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان ان دنوں جہاد افغانستان کی خاطر کس سرگرمی سے ملکوں ملکوں پھرا کرتے تھے۔ اسی سبب سے معلوم ہوا کہ شٹل ڈپلومیسی کسے کہتے ہیں۔ دفتر خارجہ میں کشمیر سیل کا قیام برحق، سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک کا بن جانا بھی مستحسن کہ یہ کام رائے عامہ کو ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ وقت عالمی قیادت سے نہ صرف مسلسل رابطہ رکھنے بلکہ اسے اپنے موقف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا ہے, لہٰذا گستاخی پر محمول نہ کیا جائے تو قریشی صاحب ہمیں پاکستان میں دکھائی نہیں دینے چاہئیں ۔

یہ تو ہوگیا قریشی صاحب کے حصے کا کام۔ اس باب میں بہت سی ذمہ داری عمران خان کی بھی ہے۔ احبا ب کہا کرتے تھے اور درست کہا کرتے تھے کہ بین الاقوامی برادری میں جیسا تعارف ان کا ہے، کسی اور کا نہیں، نیز مغرب کی اشرافیہ سے بھی ان کے مراسم غیر معمولی ہیں۔ اب ان تعلقات سے فائدہ اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ اس لیے اچھا ہو کہ عمران بھی شٹل ڈپلوmیسی نہ سہی، کم از کم ڈپلومیسی کے میدان میں اپنے قدم ضرور کچھ آگے بڑھائیں۔ ایسا کرتے ہوئے اگر انھیں داخلی سیاسی جھگڑوں کو کچھ دیر منجمد بھی کرنا پڑے تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔

پاکستان اس لڑائی کا اصل فریق ہے لیکن بنیادی فریق اہل کشمیرہیں، لہٰذا اس جنگ کی کامیابی کا دار و مدار اہل کشمیر کے طرز عمل پر ہے۔ اقبالؒ نے ایسے لوگوں کو یہ غازی ترے پراسرار بندے کہہ کر خراج تحسین پیش کیا ہے لیکن ترکی کے قومی شاعر محمد عاکف ایرصوئے نے ایسے لوگوں کو مسجد کے منارے قرار دے کرایک عجیب بات کہی ہے۔ اُن کی ایک مثنوی کی ابتدا ان سطور سے ہوتی ہے :

”اگر اک طوفان اٹھے مایوسی کا

پرنالہِ آسمان پھوٹ بہے ،

 زمیں پانی اگلنے لگے

اور تاراج کرڈالے ارض خدا کے ہر گوشے کو

احساس چکھ لے موت کا ذائقہ

پھر مر جائے (دشمن جاں کی آنکھ میں شرم)

مسمار کر ڈالی جائے خانہ دل کی ہر مسجد

مگر اس کے باوجود

ان کے مناروں سے سربلند ہوتے رہیں گے

حمد و ثنا کے ملکوتی ترانے“

بھارت کے بدترین جبر کے پہاڑ تلے دبے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا 5 اگست کے بعد موت جیسی خاموشی کے حالات میں بھی صدائے احتجاج بلند کرنے کا لافانی کارنامہ محمد عاکف ائرصوئے کے مناروں جیسا ہی ہے جنھیں بھارت جیسی تاریخ کی بدترین غاصب قوت نے اپنے طور پر تو مسمار کر ہی ڈالا تھا لیکن اہل کشمیر تو جبر کی اس تند وتیز آندھی میں بھی سرو قد کھڑے کلمہ حق بلند کررہے ہیں۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ کشمیریوں کا یہ ردعمل سیلاب کے ریلے کی طرح گزر جائے اور وہ آئندہ چند مہینوں کے دوران حلقہ بندیاں مکمل کرا کے صوبائی انتخابات کرا ڈالے، کشمیری حسب روایت انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور وہ جموں کی نشستوں کے زور پر اس نام نہاد صوبائی اسمبلی سے آرٹیکل 370 وغیرہ کے خاتمے کی قرارداد منظور کرا لے۔ کیا اہل کشمیر اور پاکستان ایسا ہونے دیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •