پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ PK 632 حادثے سے بال بال کیسے بچا؟
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے اکثر وبیشتر چھوٹے شہروں کی پرواز کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے رہتے ہیں ویسے تو حاجیوں کو وطن واپس لانے والے پہلی پرواز بھی پانچ گھنٹے کی تاخیر کا شکار تھی۔ تبدیلی حکومت اور ایئر وائس ارشد ملک صاحب کے ترقی کے دعوؤں سے تو لگ رہا ہوتا ہے کہ پی آئی اے منافع بخش ہو گئی ہے اور لاجواب لوگوں کی باکمال سروس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ برٹش ایئر ویز نے بھی پاکستان میں اپنی سروس شروع کرنے سے پہلے پی آئی اے کی سروس سے مستفید ہونے کی درخواست کی ہے۔
سکھر سے اسلام آباد کے لیے پی آئی کی واحد سروس موجود ہے جس پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائیز کے بابا آدم کے زمانے کے اے ٹی آر طیارے اپنی آخری سانسیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ بروز جمعہ 16 اگست 2019 کو رات 8 بجے سکھر سے اسلام آباد جانے والی پرواز تقریباً چار گھنٹے تاخیر سے چلی۔ عموماً مسافروں کو تاکید کی جاتی ہے کہ پرواز سے 2 گھنٹہ پہلے تشریف لائیں مگر پی آئی اے کی معیاری سروس کا یہ عالم تھا کہ مسافروں کو ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد مطلع کیا گیا کہ پرواز تاخیر کا شکار ہے اور انہیں دو مرتبہ پرواز کے ٹائم کی تبدیلی سے آگاہ کیا گیا اور اس کے باوجود بتائے گئے ٹائم سے پرواز ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی۔
پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ طیارہ مسافروں کو لے کر کراچی گیا ہے واپسی پر پھیرا لگاتے ہوئے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا۔ ایک حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کچھ مسافر پرواز سے چند منٹ پہلے تشریف لائے خدا جانے کہ پرواز ان کے لیے تاخیر کا شکار ہوئی جب کہ ٹائم پر پہنچنے والے مسافروں کا انتظار کے مارے برا حال تھا اور ان مسافروں کو ریفرشمنٹ کے نام پر غیر معیاری جوس اور منی پیک بسکٹ فراہم کیا گیا اور طیارے کی ریفرشمنٹ کا یہ حال تھا کہ ہزاروں کی مہنگی ٹکٹ خریدنے کے باوجود مسافروں کی تواضع جلے ہوا آدھے سینڈوچ اور برائے نام کیک سے کی گئی۔
آخرکار اللہ اللہ کر تے پرواز اسلام آباد کے لیے روانہ تو ہوئی مگر تقریباً ایک گھنٹے تک پرواز کا یہ عالم تھا کہ اے ٹی آر طیارہ ہوا میں ہچکولے کھاتا رہا جس کی وجہ سے پرواز میں موجود لوگوں پر خوف و ہراس طاری ہو گیا اور ہر چھوٹے بڑے کے زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد تھا ہر کسی کو اپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی۔ فیصل آباد پہنچنے پر جہاز کے پائلٹ نے خشک حلق کے ساتھ مسافروں کو مطلع کیا کہ یہ سب موسم کی خرابی کی بنا پر ہو رہا ہے لہذا گھبرانا نہیں ہے۔ اگر وجہ موسم کی خرابی ہی تھی تو ان حالات میں اس طرح کا ختم شدہ اے ٹی آر طیارہ چلا کر مسافروں کی جان سے کھیلنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس طرح کے اے ٹی آر طیاروں میں بحالت مجبوری سفر کرنے والوں کو چاہیے کہ سفر سے پہلے کالے بکرے کا صدقہ دیں اور احتیاطاً وصیت بھی گھر پر چھوڑ کر آئیں۔




