ہنٹر ایس تھامسن، صحافتی سچائی اور امریکی اخلاقیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ہنٹر تھامسن کی دانش اور دلیری سے بھرپور صحافتی تحریروں کو پورے امریکہ میں بہت شہرت ملی کیونکہ اس نے خطرناک سچ پر بھی سوالات اُٹھانے شروع کر دیے تھے۔ مشہور امریکی صحافی ہنٹر ایس تھامسن کے اس مخصوص جرنلزم سٹائل کو گونزو جرنلزم کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی جرنلزم میں لکھاری اپنی رائے کو طنز مبالغہ اور غیر یقینی خیالات کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرتا ہے جبکہ بعض اوقات اپنے آپ کو بُرا پیش کر کے معاشرے کی تصویر دکھاتا ہے۔ ہنٹر تھامسن ہمیشہ سچ کا متلاشی رہا وہ جھوٹ اور مکاری کا سخت دشمن تھا چونکہ فطری طور پر وہ ایک نڈر اور خود سر آدمی تھا، ساتھ ساتھ قدرت نے اسے سمجھ بوجھ اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت بھی عطا کی تھی اس لئے زندگی بھر طاقت کے مراکز سے لڑتا رہا۔

وہ 18 جولائی 1930 ء کو پیدا ہوا اور سترہ سال کی عمر میں ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی لیکن کہاں فوجی ڈسپلن اور کہاں ہنٹر تھامسن، اس لئے جلد ہی بھاگ آیا اور ریاست پنسلوانیا کے ایک اخبار سے بحیثیت سپورٹس ایڈیٹر وابستہ ہوگیا، لیکن چند ماہ بعد اسے بھی خیر باد کہہ دیا اور نیویارک چلا گیا۔ وہاں کولمبیا یونیورسٹی سے صحافت پڑھی اور مشہور زمانہ میگزین ٹائمز سے وابستگی اختیار کرلی یہاں سے اس کی لافانی تحریروں کو مبالغہ آمیز حد تک شہرت ملی لیکن وہ اپنی شہرت کو اپنے راستے کی دیوار کہتا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اب میں ایک عام آدمی کی طرح معاملات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اس لئے کہتا تھا کہ نفرت ہے مجھے اپنی شہرت سے اور شدید نفرت، سچ تک رسائی اور اسے بیان کرنا اس کا جنون تھا لیکن وہاں بھی کچھ حدود و قیود تھیں اس لئے اس نے اپنے معاملات اور خیالات کو آگے بڑھانے کے لئے ایک نیا راستہ تراشا جسے گونزو جرنلزم کا نام دیا گیا۔

اس نے ایک بار لکھا کہ پروفیشنل جرنلزم میں سچ اجنبی اور خطرناک ہوتا ہے ( نوجوان صحافیوں سے میری درخواست ہے کہ عملی صحافت میں اس جملے کو سمجھنے کی کوشش کریں )

15 فروری 1973 ء کو رولنگ سٹون کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے انکشاف کیا کہ جو سچ میں گذشتہ دس سال سے جانتا ہوں اگر وہ سچ میں آغاز میں بغیر لگی لپٹی رکھے بیان کرتا تو آج ریوڈی جینرو (برازیلی شہر ) سے سیٹل (امریکی شہر ) تک چھ سو لوگ میرے سمیت جیلوں میں گل سڑ رہے ہوتے ہنٹر ایس تھامسن جتنا دانا تھا اتنا دلیر بھی تھا میں ذاتی طور پر اس مفروضے کو نہیں مانتا کہ دانا لوگ دلیر نہیں ہوتے بلکہ صحیح معنوں میں دانا آدمی ہی دلیر ہوتا ہے لیکن ہم مکاری کو دانا ئی سمجھ کر سماجی دانش کو گڈمڈ کر دیتے ہیں اس لئے وہ یعنی ہنٹر تھامسن نصف صدی تک امریکی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے لڑتا اور ان کے بخیے اُدھیڑتا رہا وہ نہ دباؤ قبول کرتا نہ دام فریب میں آتا۔

اس لئے اس کا قلم بد لحاظی کی حد تک بے رحم تھا، ایک بار اس نے امریکی سیاستدانوں کے بارے میں لکھا کہ اگر ان کی کھوپڑیوں سے ان کے دماغ نکال دیے جائیں تو باقی صرف ایک خنزیر بچے گا۔

ایک اور جگہ لکھا کہ سارے سیاستدان اپنے ارکنوں کی تربیت اس انداز سے کرتے ہیں کہ ان (سپورٹروں ) اور جانوروں کی سوچ یکساں سطح پر ہو سابق امریکی صدر رچرڈنکسن اس سے شدید نفرت کرتا تھا کیونکہ اس کی تحریروں نے نکسن حکومت کی ناک میں دم کر رکھا تھا ایک بار رچرڈ نکسن کے بارے میں لکھا کہ اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس کے دوسرے ہاتھ پر نظر رکھیں جس میں آپ کے پیٹھ میں گھونپنے کے لئے چھرا موجود ہے۔

ہمارے کمزور حکمرانوں پر جو امریکی صدور اتنی دور سے لرزہ طاری کرتے رہے، ہنٹر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی خبر لیتا رہا۔ اپنے کالم میں جارج بش کے بارے میں لکھا کہ ”کیا آپ نے جارج بش کو ٹیلیویژن پر بحث کرتے دیکھا مجھے تو ایسا لگا جیسے کوئی بے مغز گدھا سٹیج پر چڑھ آیا ہے۔ بہت افسوس ہوا لیکن جب کسی نے اسے مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر مخاطب کیا تو مجھے شرم بھی آئی”۔ ہنٹر ایس تھامسن کی تحریروں میں غصہ اور سخت الفاظ بعض اوقات طبیعت پر گراں بھی گزرتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی بصیرت کے ذریعے پوشیدہ حقائق تک آپ کی رسائی ممکن بناتا ہے تو وہی غصہ آپ کو بھی چمٹ جاتا ہے۔

سچائی کے لئے طویل لڑائی لڑنے اور چار سو روشنی بکھیرنے کے بعد بالا آخر 2005 ء کو صحافتی دنیا کآ یہ روشن ستارہ اپنے حصے کی روشنی بانٹ کر بجھ گیا، تو مشہور دانشور ہیری کونزرو نے لکھا کہ مستقبل میں ہنٹر تھامسن کی تحریریں امریکی اخلاقیات کا پیمانہ ہوں گی اور صحافتی سچائی اسی کی تحریروں کے گرد گھومتی دکھائی دیں گی

Hunter S. Thompson (Photo by Frank Mullen/WireImage)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •