جماعت اسلامی کشمیر کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے


14 اگست 2019، ”بھارت کی 8 لاکھ فوج نے وادی کشمیر جنت نظیر کا محاصرہ کررکھا ہے اور ایک ہفتے سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، پاکستان کی شہ رگ دشمن کے خونی پنجے میں ہے۔ زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم متحد ہوکر اپنی شہ رگ دشمن کے پنجہ استبداد سے آزاد کرائیں۔ کشمیر کا مسئلہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اپنی آزادی اور خود مختاری کی حفاظت کے لیے ہمیں تحریک پاکستان کے جذبے سے اٹھنا ہوگا۔“

17 اگست 2019، ”پاکستانی حکمران واشنگٹن کے بجائے مکہ اور مدینہ کی طرف دیکھیں۔ امریکا نے ایک بار نہیں بار بار ہمیں دھوکا دیا۔ امریکا پر اعتبار کرنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مودی گجرات کے 2 ہزار مسلمانوں کا قاتل ہے۔ مودی نے خود ڈھاکا میں اعتراف کیا کہ پاکستان کو دولخت کرنے میں اس نے حصہ لیاتھا۔ مگر ہمارے بزدل حکمرانوں نے ہمیشہ بھارت کی بالا دستی کو قبول کیا۔“

یہ وہ بیانات ہیں جو ایک تسلسل کے ساتھ جماعت اسلامی کے امیر کی جانب سے سامنے آتے رہے اور قوم ان کے اس جذبے کو سلام پیش کرتے ہوئے مسلسل ان کی اتباع میں لگی رہی اور بلاشبہ جس بھرپور انداز میں ان کی آواز پر لبیک کہتی رہی اور آندھی طوفان کی پروا کیے بغیر ان کی ہر ریلی، جلسے اور جلوسوں میں شرکت کرتی رہی وہ قابل تعریف ہے لیکن اچانک جماعت کی پالیسی میں ایک بڑا موڑ کم از کم میری عقل و سمجھ سے باہر ہے۔

( 18 اگست 2019 ) ”سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں طے کیا گیاہے کہ جماعت اسلامی آزادی کشمیر کی خاطر حکومت کے ہر قدم میں اس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اس نازک موقع پر کسی بھی قسم کے سیاسی اختلافات کے بجائے کشمیریوں کی جان، مال، عز ت و آبرو اور ان کی آزادی کا تحفظ ہی قابل ترجیح ہونا چاہیے“۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ ہمیں کشمیر کے سلسلے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے لیکن کیا اس بات کا بھی کوئی جواب ہے کہ 5 اگست سے 17 اگست تک جماعت اسلامی کوئی سیاست نہیں کر رہی تھی؟

نیز یہ کہ حکومت نے کیا وہ سارا مؤقف بدل لیا ہے جس کا مطالبہ جماعت اسلامی حکومت سے کرتی رہی تھی؟ کیا حکومت نے مقبوضہ کشمیر پر حملے کو پاکستانی کشمیر پر حملہ تسلیم کر لیا ہے، کیا حکومت نے کشمیر پر اپنی سیاست چلانے کی بجائے اپوزیشن کے مؤقف کو سمجھنے کی پُر خلوص کوشش کا یقین دلادیا ہے اور اپوزیشن پر الزام تراشیاں بند کردی ہیں، کیا حکومت نے امریکہ پر انحصار ختم کرکے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، کیا مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ مان لیا ہے اور اس پر بھارت کے حملے کو پاکستان پر حملہ کرنے کے مترادف قرار دیدیا ہے، کیا شملہ معاہدہ توڑ دیا ہے اور مشرف دور میں لگائی گئی حفاظتی باڑ توڑ دی گئی ہے؟ اگر حکومت اس تمام مؤقف کو سن کر اس پر اپنی پالیسی واضح کر چکی ہے یا ایسا کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تو یہ فیصلہ کہ جماعت اسلامی حکومت کے قدم سے قدم ملاکر چلے گی، بے معنی سا نہیں لگتا۔

ایک جانب جماعت اسلامی کا واضح فیصلہ اور وہ بھی جماعت کی اعلیٰ سطح کی ٹیم کے ساتھ سامنے آنا اور دوسرے جانب حکومت کا اپنے اسی بزدلانا مؤقف پر ڈٹے رہنے جیسا عمل ایک ناقابل فہم بات ہے۔ شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کہ ( 14 اگست 2019 ) ”ماحول ساز گار نہیں، کشمیریوں کو نئی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔“ ان کے بقول ”سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین میں سے کوئی بھی ملک پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ پاکستانیوں اور کشمیروں کو خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیے، سلامتی کونسل میں آپ کے لیے کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا، وہاں کوئی آپ کامنتظر نہیں ہے۔“

ایک جانب وزیر خارجہ کا بیان اور دوسری جانب خود ملک کے وزیر اعظم کا یہ بیان کہ ( 9 اگست 2019 ) ”پاکستان جنگ نہیں چاہتا تاہم بھارت نے حملہ کیا تومنہ توڑ جواب دیں گے۔ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اوراخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، یہ رائے عامہ کی جنگ ہے، ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے،“ ہر اس اصولی مؤقف سے سراسر مختلف ہے جو جماعت اسلامی یا پاکستان کے غیور عوام کا ہے۔ کیا ان تمام بیانات سے یہ بات سامنے نہیں آرہی کہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ بھارت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے، بھارت کے سخت مؤقف کا جواب سختی سے دیا جائے حتیٰ کہ وہ کشمیر جس پر پاکستان کا گزشتہ 72 سال سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہے اور جس کی خاطر پاکستان کے جوان، عوام اور خود کشمیری قربانیاں دیتے چلے آئے ہیں کہ وہ ہمارا ہے، یک دم اس دعوے سے پھرجانا اور صرف اس کشمیر کو جو پاکستان کے زیر تسلط ہے، اسی کو اپنا ماننا، ایک افسوسناک امر نہیں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومتِ پاکستان نہ تو اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی لائی ہو اور نہ ہی اس کے کسی منصوبے میں کسی قسم کی جارحیت شامل دکھائی دے رہی ہو بلکہ مؤقف یہ ہو کہ جب تک بھارت پاکستان کے کشمیر یا پاکستان پر جنگ مسلط نہ کردے اس وقت تک ہونٹوں پر تالے لگانے اور زبان کو سی لینے کا ارادہ ہو تو وہ کون سی دلیل ہے جو جماعت اسلامی کو حکومت کے قدم سے قدم ملاکر چلنے پر اکسارہی ہے؟

جماعت اسلامی کو چاہیے کہ وہ اپنے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیے جانے والے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ حکومت سے ہر معاملے میں مخاصمت بے شک اچھی روایت نہیں لیکن حکومت اگر بزدلی، امریکہ پرستی یا قوم کو لولی پاپ دینے کے مؤقف پر قائم رہے تو پھر کسی تحریک کے سربراہ کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کسی دباؤ میں آکر اپنے ہی مؤقف کی نفی کرے اور بزدلانہ طرز عمل کو اپنا شعار بنالے۔ جماعت اسلامی کی بقا و سلامتی اپنی جگہ لیکن عزت و غیرت کے ساتھ جینا ہمیشہ مقدم ہونا چاہیے۔ اگر حکومت اپنے بزدلانہ مؤقف پر قائم ہے تو اس کے قدم سے قدم ملاکر چلنا تو دور کی بات، اس کے کاروان کی اڑتی دھول سے بھی بہت دور رہنا عین جہاد ہے جو کشمیر پر بھارت کے قبضے کے بعد ہر مسلمان (خصوصاً پاکستانی مسلمان) پر فرض ہو چکا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2