سچ بر زبانِ فردوس عاشق اعوان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت ساری باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحتوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی لیکن نہ جانے کیوں حکومتی نمائندے بار بار اپنے ہی منہ سے وضاحتیں کر کر کے اپوزیشن کے الزامات یا اندازوں پر مہرِ تصدیق ثبت کررہے ہوتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی ایسی بات تھی جو محترمہ فردوس عاشق اعوان کو قوم کے علم میں لانی پڑی۔ فرماتی ہیں ”پارلیمنٹ کی مضبوطی کا کریڈٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے“ یا قوم کو یہ بتانا کہ ”آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع حکومتی پالیسی کا تسلسل برقرارکھنے کے لیے کی گئی۔“

بعض اوقات ہوتا یہ ہے سچ بات خوامخواہ بھی زبان سے پھسل جایا کرتی ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے جو بات قوم اور دنیا کے سامنے لائی گئی تھی وہ کچھ یوں تھی کہ پاکستان کے چاروں جانب امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہے۔ ایران برس ہا برس سے ہم سے ناراض ہے۔ بھارت تو ہے ہی ہمارا ازلی دشمن اور افغانستان بھی خوامخواہ کی دشمنی پر اتر آیا ہے۔ ادھر یہ سارے پڑوسی پہلے ہی ہم پر بگڑے ہوئے تھے کہ کشمیر کی سودے بازی اور گلے پڑ گئی۔

ہم چاہتے تھے کہ چھپر کے پیچھے ہی سارے کام ہو جائیں، ہمارا ہمارا ہوجائے اور ان کا ان کا لیکن یہ کشمیری بھی کبھی کسی کے نہ ہو کر دیے۔ شاید ان کو امن سے رہنا ہی نہیں آتا۔ ہندوستان کے بنے رہنے میں کیا حرج تھا، آخر کروڑوں مسلمان بھارت میں رہ ہی رہے ہیں اگر چند لاکھ اور بھی رہ لیں تو اس میں ایسا کیا بگڑ جائے گا۔ جیسے ہی طے شدہ معاہدے کے مطابق بھارت نے کشمیر کو ”اپنانے“ کا اعلان کیا، مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند عوام بپھر گئے۔

ٹھیک ہے ماضی میں ہم ان کی ہر قسم کی اخلاقی، جانی و مالی امداد کرتے رہے ہیں لیکن ہر قوم پر ایک وقت ضرور ایسا آتا ہے کہ وہ مدد کرتے کرتے بیزار ہو جاتی ہے اور پھر یہی فیصلہ کرتی ہے کہ بھئی جتنی مدد کی جا سکتی تھی کر لی اب اپنا مستقبل خود ہی بناؤ۔ اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ ”تم اُدھر ہم اِدھر۔“ تمہاری تم جانو ہماری ہم نمٹ لیں گے۔ لیکن اتنی آسان سی بات اُدھر کے کشمیریوں کی عقل میں نہیں سمائی اور انھوں نے ایسا کھڑاک کھڑا کردیا کہ اِدھر والے بھی ہم سے اکھڑے اکھڑے سے رہنے لگے۔

جس معاملے کو ہم بہت آسان تصور کر بیٹھے تھے وہ بھڑ کا چھتہ ثابت ہوا۔ اندازے کی غلطی کی وجہ سے اُدھر کی سرحدیں تو خطرے میں پڑی ہی پڑیں، خود اِدھر کی سرحدوں کو سنبھالنا بھی مشکل ہو گیا اس لئے ضروری ہو گیا کہ ”قمر باجوہ صاحب“ کی کمان کی مدت بڑھادی جائے تاکہ وہ اپنی کرنی کو خود ہی بھگتیں۔ یہ تھا وہ اسٹیٹمنٹ جو آرمی چیف جاوید قمر باجوہ کی مدت ملازمت کو توسیع دیتے ہوئے عوام کے سامنے رکھا گیا تھا۔

اِدھر چار دن نہیں گزرے کہ فردوس عاشق اعوان کے منھ سے سچ یوں جھڑگیا جیسے پکا ہوا پھل یا سوکھا ہوا پتی شاخ سے گرجاتا ہے۔ فرماتی ہیں کہ ”ایسا سب کچھ اس لئے ہوا تاکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔“

اگر اس اسٹیٹمنٹ پر غور کریں تو یہ افواج پاکستان پر ایک بہت بڑا الزام ہے۔ کسی بھی سالار کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ صرف اس لئے کیا جانا کہ حکومت کی پالیسیاں برقرار رہیں، کا دوسرا مطلب کیا بنے گا؟ یہی وہ بات ہے جس کو ایک تسلسل سے ہمارے سیاستدان ہی نہیں بلکہ تجزیہ و تبصرہ نگار، کالم نویس، ٹی وی اینکرز، صحافی حضرات اور دانشموارانِ قوم کہتے رہے ہیں۔ کوئی علی الاعلان نام لے کر کہتا رہا ہے اور کوئی خلائی مخلوق، کوئی نادیدہ قوت اور کوئی خفیہ ہاتھوں سے تعبیر کرتا رہا ہے۔

یہ بات اب ایسی حقیقت اختیار کرتی جارہی ہے کہ شخصیت کوئی بھی ہو، وہ کسی نہ کسی صورت میں اس بات کا اقرار کرتی ضرور نظر آتی ہے کہ کوئی تو ہے جو پاکستان کا نظام چلا رہا ہے اور وہ ”وہی“ ہے۔ بالکل یہی بات محترمہ فردوس عاشق اعوان بھی آج کہنے پر مجبور ہوئیں کہ موجود حکومت کا استحکام اور اس کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار اسی وقت تک رہ سکتا ہے جب تک ”وردی“ چاہے اور کیونکہ موجودہ وردی والا ان کے اعتماد کا فرد ہے اس لئے اس کی نوکری کی توسیع ضروری سمجھی گئی اس لئے کہ ان کے پیچھے جو جنرلز ہیں ان کا کچھ علم نہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ اُسی تعاون کو برقرار رکھ سکیں جو موجودہ چیف کی جانب سے ملتا رہا ہے۔

محترمہ فردوس عاشق اعوان نے سچ ہی کہا ہے کہ ”پارلیمنٹ کی مضبوطی کا کریڈٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے۔“ ظاہر ہے ایک ایسی حکومت جس کو نہ تو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور نہ ہی پورا پاکستان اس کو الیکٹڈ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے، جس کا وجود ایم کیو ایم کی چھ بیساکھیوں پر ہو، جس کی کوئی ایک پالیسی بھی عوام دوست نہ ہو، جس کا یقین انتقامی سیاست پر ہو اور احتساب کے لولی پاپ سے عوام کو بہلانے کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور ”ٹافی“ تک نہ ہو، جس نے ہنستی بستی بستیاں اور سجے سجائے بازار مسمار کر دیے ہوں، جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کا جنازہ نکل گیا ہو، جس نے مہنگائی کو آسمان پر پہنچادیا ہو، جس کے دور میں ڈالر 106 روپے سے 160 روپے پر جا پہنچا ہو، جس نے کھانے پینے کی ہر شے پر ٹیکسوں کی بھر مار کردی ہو، جس نے ملک پر مزید قرضوں کا بوجھ ڈال دیا ہو، جس نے دوائیں مہنگی کردی ہوں، علاج مشکل کردیا ہو، لوگوں کو نوکریوں کا جھانسہ دے کر لاکھوں انسانوں کو بے روزگار کردیا ہو اور جس کے پاس ایک بھی کام ایسا نہ ہو جس کو وہ عوام کے سامنے فخریہ انداز میں پیش کر سکے، اگر اس کی حکومت اب تک برقرار ہے تو اس میں واقعی کوئی جادو تو ہے۔

پھر ان کی بات کا جو دوسرا پہلو نکلتا ہے وہ یہ کہ اب تک دوتہائی اکثریت والی پارلیمنٹیں اگر ٹوٹتی رہی ہیں تو اس توڑ پھوڑ کی ذمہ داری بھی ان ہی پر آتی ہے جو اب نالائق ترین اور عوام دشمن پارلیمنٹ کی مضبوطی بنے ہوئے ہیں۔ اتنے احسانات کے بعد اگر حکومت نے ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کردی ہے تو ”احسان کی جزا کچھ بھی نہیں مگر احسان“ اسی کو تو کہتے ہیں۔

آرمی چیف کے عہدے میں توسیع ہوگئی، توسیع کی وضاحتیں جو بھی تھیں وہ سب کی سب ”مرحلہ وار“ سامنے آگئیں لیکن یہاں ایک بات ضرور سامنے رکھنی چاہیے کہ بہت سارے اقتدار میں بیٹھے لوگ ایسی ہی کوششیں کر کے دیکھ چکے ہیں لیکن اس بات پر غور کرنے کے لئے آج تک کوئی تیار نہیں ہوا کہ جن پر احسان کیا جاتا ہے اس کے شر سے بچے رہنے کے لئے حفظ ماتقدم کا خیال نہ جانے کیوں نہیں رکھا جاتا۔ ہر فرد حضرت علی (رض) کی یہ بات دوسروں تک ضرور پہنچاتا ہے لیکن خود کسی پر احسان کرتے ہوئے اپنے آپ کو بچانے کے لئے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جس پر احسان کرتا ہے اسی کے شر کا شکار ہوجاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو ضیا الحق کے ہاتھوں اپنے انجام تک پہنچے، بے نظیر فاروق لغاری سے ڈسی گئیں، نواز شریف پرویز مشرف کے رگڑے میں آگئے اور خود پرویز مشرف کو آصف زرداری لے ڈوبا۔ جس نے جس پر احسان کیا اور جس نے کسی کو ایکسٹنشن دی، ان ہی کے ہاتھوں انھیں تباہی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پاکستان میں اب تک کی تاریخ کچھ ایسی ہی ہے اس لئے یہ سمجھ لینا کہ تاریخ کا یہ تسلسل ٹوٹ جائے گا، ایک بیوقوفانہ اطمینان ہی ہو سکتا ہے۔

کسی نے فیس بک میں کسی حوالے سے لکھا ہے کہ ”ہر فوجی جنگ میں اپنی حفاظت کے لئے اپنے آگے ریت کی ایک بوری ضرور رکھتا ہے، یحییٰ کی بوری بھٹو تھے، ضیا کی بوری محمد خان جونیجو تھے، مشرف کی بوریاں جمالی، شجاعت، شوکت عزیز اور نواز تھے اور موجودہ حکومت کی بوری خان صاحب ہیں۔“ ہر ایکسٹنشن حاصل کرنے والے نے ایکسٹنشن دینے والے کے تخت کا تختہ کیا ہے لہٰذا گولی اگر لگی، خواہ وہ عوامی رنگ میں رنگی ہو یا خاکی رنگ کی حامل، جو بگڑنا ہے وہ بوری ہی کا بگڑے گا، ادارے پر کوئی آنچ نہ پہلے کبھی آئی ہے، نہ کبھی آ سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •