مت دکھائیے ہمیں ظلم اور تشدد کی تصویریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بے تحاشا لاڈلی، حد سے زیادہ پروٹیکٹڈ چائلڈ تھی جسے صرف کتابی ادب و آداب سکھائے گئے اور دنیا کے اصل مسائل کیسے حل کرنے ہیں وہ نہ سکھایا گیا۔ اس میں کوٹ کوٹ کر انسانیت کا احترام، درد، محبت، حساسیت، رواداری، پاسداری جیسے جذبات بھر دیے گئے۔ ایسی کتابی اور خیالی تمیز و تہذیب سکھانے کا یہ نقصان ہوا کہ پھر وہ زمانے کی بدتمیزیوں کو سہنے، ان کا جواب دینے اور جوابا ویسا ہی رویہ اپنانے کے قابل ہی نہ رہی۔

اپنی بے تحاشا حساسیت کی وجہ سے وہ دو بار ٹوٹی، پہلی بار جب اس کے بیٹے کی برین سرجری تھی اور دوسری بار جب اس کی ماں سی سی یو میں پڑی تھی۔ اب وہ نہ اخبار پڑھتی ہے نہ ہی ٹی وی دیکھتی ہے، نہ اسے یہ سوچنا ہے کہ کشمیر، فلسطین، شام اور دیگر دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کون مر رہا ہے، کون جی رہا ہے اسے اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اس نے اپنی ہی ایک خیالی دنیا بنا رکھی ہے جہاں سب اچھا ہے۔ اس کے بچے چھوٹے ہیں اور اسے بے تحاشا پیار کرتے ہیں۔

اس کا میاں اسے اپنے پروں میں چھپا کر رکھتا ہے۔ بچے اگر زمین پر بھی گر جائیں، ان کے گھٹنے چھل جائیں، درد سے سے آنکھ بھر آئے تب بھی وہ گھٹنے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور درد کی پرواہ کیے بنا کہتے ہیں ممیا کچھ نہیں ہوا اور بہن جلدی جلدی پائیوڈین اور دوا لگا دیتی ہے کہ ممیا پریشان نہ ہوں کہ ان ان کے بابا نے انہیں سمجھا رکھا ہے کہ چوٹ لگے یا آپس میں جھگڑا ہو، سکول کا کوئی ایشو ہو یا کوئی اور دل کی بات صرف مجھے بتانا ممیا کو نہیں ستانا۔ کیونکہ اب گھر میں کوئی نہیں چاہتا کہ وہ تیسری بار بھی کسی ایسے درد سے گزرے کہ پھر سے بریک ڈاؤن ہو جائے۔

دو یا تین ہفتے قبل اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو ایک ایکشن اینیمیشن ویڈیو انجوائے کرتے دیکھا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ فوری طور پر تو انہیں کچھ نہ کہا بس چپ چاپ سی ہوگئی، تینوں بچے بھی تو اسی کے ہیں نا ماں کو اداس دیکھ کر آپس میں کھسر پھسر کرتے رہے، عید سے پہلے سمر سکول چل رہے تھے۔ جب وہ سمر سکول سے لوٹے تو تینوں بیڈ پر آ کر اس سے لپٹ گئے، بیٹی نے اس کے گال چومے اور کہا باصل (بڑے بیٹے کا دوست) نے، انیس کو اس ویڈیو کا بتایا تھا میں نے اسے منع کر دیا ہے اب نہیں دیکھیں گے اور سر جھکا لیا، وہ بھائیوں کی وکالت کر رہی تھی اور بھائی ماں سے لپٹے شرمندہ سے چپ تھے، بیٹی کی آواز پھر سے آئی ممیا آپ ہم سے خفا ہیں؟

اس بار وہ چپ نہ رہ سکی بولی مانو میں نے بچپن میں کبھی آپ کو گن نہیں دلوائی حتی کہ سکول ایکٹوٹی کے لیے واٹر گن بھی خریدی تب بھی یہ بتایا کہ کسی کے منہ پر سیدھا پانی مت پھینکنا بازو یا کمر پر پھینکنا پھر آپ لوگ کیسے یہ وائیلنٹ کونٹنٹ دیکھ سکتے ہو؟ بیٹا مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔

ممیا بھائی بوائیز ہیں، جس طرح آپ کو نیچر سے پیار ہے، بابا کو پیس (امن) پسند ہے، میں ہارر فین ہوں ایسے ہی بھائیوں کو ایکشن، فائیٹ اور تھرل اچھا لگتا ہے۔ وہ چھپ چھپ کر اپنے دوستوں سے یہ سب سنتے ہیں آپ انہیں اجازت دے دیجے نا، لیکن وہ جنگ کو پسند نہیں کرتے ممیا صرف گیم یا مووی میں انہیں ایکشن اچھا لگتا ہے۔ ممیا یہ سب کچھ ہم سے بہت چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی پتہ ہوتا ہے جو ہمیں اب پتہ چل رہا ہے، ہم آپ کی طرح ڈرپوک نہیں بننا چاہتے ممیا، نانو نے آپ کو اتنا پروٹیکٹڈ چائلڈ بنایا کہ آپ سنو وائیٹ بن گئیں، ہم سیمورائے بننا چاہتے ہیں سنو وائیٹ نہیں، لیکن ہمارا پرومس ہے ہم کبھی کچھ بیڈ تھنگ نہیں کریں گے۔ بیٹی کی باتیں حیرت سے سنتے ہوئے اس نے پوچھا یہ بیڈ تھنگ کیا ہوتا ہے؟

بیڈ تھنگ مطلب درخت، جانور، لیونگ تھنگز اور ارتھ کو نقصان پہنچانا۔

اور انسان، انسانوں سے کیسا سلوک کرو گے تم لوگ؟

ممیا ہم ہیومنیٹی کی ریسپیکٹ کریں گے، پیس پروموٹ کریں گے لیکن آپ کی طرح کمزور نہیں بلکہ بابا کی طرح بہادر بن کر بہن کی بات پر بھائیوں نے بھی سر ہلا کر تائید کی، وہ خوش ہو گئی کہ اس نے اپنی حدود میں امن پھیلا دیا اور شر روک دیا۔

اب یہ لوگ ایسی ایسی خبریں کیوں پھیلاتے ہیں کہ کل کسی معصوم بچے کو ایک جنونی مجمعے نے مار ڈالا ہے۔

یہ جھوٹی خبریں پھیلانے والے سب اسے مار ڈالنا چاہتے ہیں، جھوٹے لوگ، کچھ نہیں ہوا کل، کسی ماں کا نور نظر نہیں مرا، نہ دنیا میں کسی بچی کی عصمت ریزی ہوئی، نہ سرحدوں پر جوان مرے، نہ فوجوں نے نہتے شہریوں پر ظلم ڈھائے، نہ کسی جنونی مذہب بیزار نے مسجد میں معصوم نمازیوں پر شوٹنگ کی، نہ کسی جنونی مذہبی نے مسجد میں خود کو بم سے اڑایا، کچھ نہیں ہوا یہاں، یہ سب جھوٹ ہے۔ مجھے مت یہ قصے سُنائیے، مجھے میری خیالوں کی جنت میں رہنے دیجے۔

خدارا! اس بچے کی لاش کی تصاویر مت لگائیے، ہر شخص پتھر دل نہیں ہوتا کہ یہ سب دیکھے اور رات میں سکون سے سو بھی جائے۔ یہاں کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جن کے دل ایسے رقیق ہیں کہ موم کی طرح پگھل جاتے ہیں، خدا کے لئے ہم ماؤں کو تکلیف دینا بند کیجے۔ اگر آپ معصوم بچوں کو مارنا نہیں چھوڑ سکتے تو ان کی لاشوں کی تصاویر لگانا تو چھوڑ دیجے، یوں کم از کم ہماری خیالی جنت کا سکون تو برباد نہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •