جنرل قمر جاوید باجوہ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین سے نہیں بچا سکتے: حامد میر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کا ایک مکمل ہونے کے ایک روز بعد ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع کیوں دی؟ اپنے کئی انٹرویوز میں عمران خان نے پیپلز پارٹی کی جانب سے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مدت ملازمت میں دی جانے والی توسیع کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ملک حالت جنگ میں ہو تب بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہئیے۔

حامد میر نے کہا کہ عمران خان کو وزیراعظم بننے کے بعد آرمی اور عدلیہ سے مکمل حمایت ملی لیکن گذشتہ ایک برس کے دوران عمران خان ملک کی سیاست اور پالیسیز میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی گئی کیونکہ کافی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ توسیع اس لیے دی گئی ہے کہ عمران خان جنرل باجوہ کے بغیر حکومت نہیں چلا سکتے۔ وہ کئی مرتبہ کُھلے عام جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں وزیر اعظم اس لیے بنا کیونکہ میرے ساتھ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ”نیا پاکستان” پر یقین رکھتے ہیں۔

لیکن عمران خان کا یہ نیا پاکستان عام عوام کو معاشی ریلیف دینے میں ناکام ہو گیا۔ ملک کے معاشی حالات سنبھالے نہیں سنبھل رہے تھے، آرمی چیف کا کام امداد مانگنا نہیں لیکن اس کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایسا کیا۔ عام تاثر ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی وجہ سے ہی پاکستان کو مالی امداد ملی۔

عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج زور پکڑ رہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر دیا۔ یہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک نعمت تھا کیونکہ اس سے تمام جماعتوں اور عوام کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور پاک بھارت جنگ کی جانب مبذول ہو گئی۔

یہ اطلاعات پہلے سے مل رہی تھیں کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے لیکن اس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹھیک اُسی دن مدت ملازمت میں توسیع دینے کا اعلان کیا جس دن اسلام آباد میں اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس ہوا اور عمران خان کے خلاف بڑی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ایک آرمی چیف ملک کو درپیش بیرونی خطرات سے نمٹ سکتا ہے لیکن اس کے لیے سول حکومت کے مخالفین سے لڑنا آسان نہیں ۔ یہ بھی رائے ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی دوسری مدت میں محتاط رہیں گے اور پاکستان کے سیاسی معاملات میں ملوث ہونے سے گریز کریں گے۔ اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کا مقصد پاک بھارت جنگ کا خطرہ ختم کرنے اور افغان طالبان امن عمل کو مکمل کرنے کا ہے۔ حامد میر نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بلا شبہ ایک پیج پر ہے لیکن یہی سکیورٹی صورتحال جنرل قمر جاوید باجوہ کو حکومت کی بجائے صرف پاکستان کا دفاع کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •