چوری کے شبے پر جان لینے والے جناور اور تماشا کرنے والے زومبی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم فلم دیکھنے کے بچپن سے ہی شوقین تھے۔ڈراؤنی فلمیں دیکھتے ہوئے جب ایک خوش شکل انسان اچانک اپنے لمبے دانت کسی کی گردن پہ رکھ دیتا تو ہماری چیخ نکل جاتی۔ ڈر کے ساتھ دکھ بھی بہت ہوتا کہ اچھا خاصا نارمل انسان اب ڈریکولا کے خاندان میں شامل ہو جائے گا اور پھر یہ سب خون آشام بلائیں مزید لوگوں کا شکار کریں گی۔ پہروں دل مسوس کے بیٹھے رہتے۔

اور جب زومبیز والی فلم دیکھتے تو ان کی بےجان، بےحس تاثرات کے ساتھ روبوٹ نما حرکتوں پہ جھنجھلاتے اور اپنی جان جلاتے۔

بچپن بیت چکا!

مگر کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک جیتی جاگتی فلم دیکھ رہے ہیں جہاں ہمارے ہر طرف ڈریکولا اور زومبیز کا راج ہے۔ شہ رگ سے خون چوستے، دانت نکوستے ڈریکولا اور سپاٹ چہرے، بہرے کان، پتھر آنکھیں، دھڑکن سے محروم دل اور بے روح زومبیز!

ہمارے بے حس اور اندھے معاشرے میں آزاد گھومتے شکاری ڈریکولا اور دم سادھے تماشا دیکھنے والے زومبیز!

کچھ سمجھ نہیں آتی، یہ کون لوگ ہیں کہاں سے آئے ہیں۔ اگر ہم میں سے ہیں تو ہمیں اپنے وجود سے کراہت محسوس ہوتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اتنا روؤں اتنا چیخوں کہ اوپر والے تک میری آہیں جا پہنچیں اور پوچھیں،

‘ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے’

کسی بھی قوم یا فرد کا انسانی قدروں کو خیرباد کہنے کا بدلاؤ ایک دن کی بات نہیں ہوا کرتی۔ یہ عشروں پہ محیط کہانی ہوا کرتی ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کو بتدریج اخلاقیات اور انسانیت کے درجے سےمحروم ہوتے دیکھا ہے۔ تشدد آمیز، بہیمانہ حیوانی عمل میں مبتلا چلتی پھرتی لاشیں ایک دن میں وجود نہیں آئیں۔

مجھے آج بھی وہ دن نہیں بھولتا!

جب سیالکوٹ کے دو بھائیوں کو چوری کے الزام میں چند انسان نما درندوں نے زندگی سے محروم کیا۔ وہ درندے تو شقی القلب تھے ہی، تماشائی ہجوم بھی اس ظلم کو بڑے اطمینان و سکون سے ریکارڈ کرتا رہا۔ یہ مانتے ہیں ہم کہ وہ چوری کے مرتکب ہوئے ہوں گے مگر انسانی جسم کو تماشائیوں کے سامنے ضربوں سے لحظہ لحظہ بکھیرنا شقاوت قلب کی انتہا ٹھہری۔ ہمیں ظالم رومن بادشاہوں کا وقت یاد آ گیا جب تفنن طبع کے لئے انسانوں کو قسطوں میں موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا اور بادشاہ اور تماشائی محظوظ ہوا کرتے تھے۔

میں تب بھی تڑپ تڑپ کے اپنے آپ سے پوچھتی رہی کہ کیا کوئی بھی صاحب دل وہاں موجود نہیں تھا۔ میں نے یہ بھی سوچا، کاش میں وہاں موجود ہوتی، میں ان بچوں کے سامنے اپنے ناتواں جسم کو ڈھال بنا دیتی اور کہتی کہ مجھے قربان ہونا ہے، مجھےاس ظلم کو روکنا ہے۔

آخر کون لوگ تھے وہ؟ چنگیز خانی روح کے مالک، بے حس وحشی، خون کا کھیل دیکھ کے خوش ہونے والے نام نہاد انسان!

پھر مجھے مشعال خان یاد آجاتا ہے، جسے اسی طرح ایک ظالم، نام نہاد تعلیم یافتہ ہجوم نے مار ڈالا۔ کون سوچ سکتا ہے کہ مشعال کے ساتھ ہنسنے بولنے والے ساتھی اس کے قاتل بنیں گے اور ان ساتھیوں نے جس نام کی آڑ میں یہ خونی کھیل کھیلا، اس ہستی نے کافروں کو بھی بدلہ لینے کی بجائے معاف کیا۔ مذہب کا جذباتی کارڈ کھیلنے والوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ایسے حیوانی رویوں سے ہم رحمت اللعالمین کی کوئی خدمت نہیں بجا لا رہے، بلکہ امتی کے طور پہ باعث رسوائی ہیں۔ اور میں نے پھر وہی سوال اپنے آپ سے پوچھا کہ کیا مجمعے میں ایک بھی جی دار موجود نہیں تھا جو انسانیت کے رشتے سے مشعال کو بچاتا؟ یہ سوال مزید باعث شرمندگی ٹھہرا جب معاشرے کے سرکردہ لوگ قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور مشعال کی قبر پہ مٹی ڈالنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوئی۔

اور اب ریحان جو اپنا وقت ڈھونڈتے ڈھونڈتے وقت کی اندھی گلیوں میں کھو گیا۔ ہماری آنکھ سے خون ٹپک پڑا اور دل سہم کے پوچھتا رہا کہ چوری کی اتنی بڑی سزا؟ کیا معاشرے نے اس چلن کو روش بنا لیا ہے کہ کسی بھی غلطی کا انجام موت ہے۔

کیا موت اتنی ارزاں ہو گئی ہے کہ گلی گلی بک رہی ہے اور موت کے سوداگر ہر جگہ گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی کہیں چوکے اور عدالت لگا کے کھڑے کھڑے فیصلہ سنایا جائے اور ہاتھ کے ہاتھ فیصلے پہ عمل درآمد بھی۔ یہ چلن، یہ روش معاشرے میں کہاں سے در آئی ؟ جابر، انسانی حرمت سے ناآشنا، شقی القلب اور سنگ دل لوگ! نہیں، یہ ہم میں سے نہیں!

کیا یہ وہی قوم ہے جو عمرہ اور حج کرنے میں سب سے آگے ہے؟ کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کی داڑھیاں دن بدن لمبی ہو رہی ہیں؟ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جہاں دن رات مذہب کی تبلیغ اور مدرس و تدریس جاری ہے؟

ہمیں تو آج تک یزیدیوں کے اس ہجوم میں ایک بھی حر نظر نہیں آ سکا جو فیصلہ کرے کہ حق کے لئے اور مظلوم کی خاطر جان دینا ہے۔ جو سوچ لے کہ تماشائی بننے سے بہتر ہے کہ سر کٹوا کے نیزے پہ بلند کروایا جائے اور ظالم کی بے خواب ڈراؤنی راتوں کا حصہ بنا جائے۔ جو یہ سوچ کے راستہ نہ بدل لے کہ یہ آگ میرے دامن میں تونہیں لگی۔

ظلم کو دیکھنے والے،ظالم کا ہاتھ نہ پکڑنے والے بھی ظلم کا حصہ ہوا کرتے ہیں۔اگر آپ تماش بین ہیں یا رستہ بدل لیتے ہیں تو جان لیجئے آپ بھی زومبی بننے کے راستے پہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •