سٹیج یا کتاب؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اپنی پہلی نظم گیارہ سال کی عمر میں لکھی۔ اپنے والد ناصر کاظمی اور ان کے دوستوں کی حوصلہ افزائی مجھے تحریک دیتی رہی۔ میں اس وقت سے باقاعدگی کے ساتھ شاعری کر رہا ہوں۔ کالج کے نصاب میں شامل ڈراموںنے میرے سامنے ایک نیا جہان وا کر دیا۔ اس ہیئت سے مسحور ہو کر مجھے ڈرامے لکھنے کی تحریک ہوئی۔ میں کھیلوں کا ایک پرجوش شیدائی بھی تھا اور شطرنج، کرکٹ اور بیڈمنٹن کھیلتا تھا۔ مجھے شطرنج ایک کھیل سے کچھ زیادہ دکھائی دیتی تھی۔

میرے اندر کا مصنف باہر کی دنیا کا مشاہدہ کرتا رہا اور اس سے متاثر ہوتا رہا۔ پاکستان میں، جہاں میں رہتا تھا، اقتدارکی سیاست، دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز، طبقاتی کشمکش، بد عنوانی، استحصال، اقربا پروری اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک؛ یہ سب ایک بڑی بساط پہ ہوتا نظر آرہا تھا۔ اس دور کی فکشن، فلموں اور ٹی وی ڈراموں کا موضوع، ہمیشہ کی طرح، بالعموم محبت، دوستی اور موزوں شریک حیات کا انتخاب تھا۔ میرے اندر کے لکھاری اور شطرنج کے کھلاڑی نے کچھ نیا تخلیق کرنے کے لیے ہاتھ ملا لیے۔ میرا طویل ڈرامہ ’بساط‘ اس کا ثمر تھا۔

میں نے اپنا ڈرامہ سٹیج کیے جانے سے پہلے شائع کرانے کا فیصلہ کیا کیونکہ میں نے ہمیشہ ڈرامے کو بنیادی طور پہ پڑھنے والی چیز سمجھا تھا۔ ملک کی سیاسی صورت حال اور تھیٹر کی زبوں حالی نے میرے فیصلے کو تقویت دی۔ ٹیلیویژن، جس کا آغاز 1964 میں ہوا تھا، تفریح کا مقبول ترین ذریعہ بن چکا تھا۔ فنون کے لیے دستیاب وسائل، تقریباً تمام کے تمام، اس واحد ٹی وی چینل کے لیے مختص کر دیے جاتے تھے جو حکومت کی زیر نگرانی چلایا جاتا تھا۔ 1958 سے ملک پہ حاکم فوجی آمریت نے کڑی سنسرشپ کی پالیسی نافذ کر رکھی تھی۔ 1972سے 1977کے دوران میں قائم ہونے والی جمہوری حکومت بھی صورت حال میں بہتری نہ لائی۔ اور 1977 میں پھر مارشل لا نافذ ہو گیا۔

 ’بساط‘ 1987 میں میرے تعارف ’سٹیج یا کتاب‘ کے ساتھ کتابی صورت میں شائع ہوا۔ میں نے اس کے مختصر پیش لفظ میں پرزور وضاحت کی کہ میں نے تھیٹر پر کتاب کو کیوں ترجیح دی تھی۔ مجھے خوشی ہوئی، اور کچھ حیرت بھی، کہ میری کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی۔ متعدد موافق تبصرے اخبارات اور ادبی رسائل میں شائع ہوئے۔ ’ذہن کے تھیٹر‘ کا نظریہ، جس پر میں بعد میں بات کروں گا، بہت سے ادیبوں اور فنون سے وابستہ افراد نے پسند کیا۔

 میں آج بھی ڈرامے کو ناول، کہانی یا شاعری کی طرح پڑھی جانے والی ایک صنف ادب سمجھتا ہوں۔ جس طرح ناول یا کہانی کو فلمایا جا سکتا ہے، شاعری کو گایا جا سکتا ہے، اسی طرح ڈرامے کو سٹیج پر پیش کیا جا سکتا ہے، فلمایا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن یہ پیشکش ادب کے ساتھ دوسرے فنون لطیفہ مثلاً موسیقی، ڈیزائن، اداکاری وغیرہ کے اشتراک سے وجود میں آئے گی۔ جب کوئی ڈرامہ سٹیج یا ٹیلیویژن پر پیش کیا جا رہا ہوتا ہے تو اسے ’میرا ڈرامہ‘ کہنے کا جتنا حق اس کے مصنف کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے ہدایت کار اور اداکاروں کو بھی ہوتا ہے۔ میں نے ایک ہدایت کار کو یہ کہتے سنا ہے۔ ”مصنف کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟ سکرپٹ کیا ہوتا ہے؟ میں دو جملوں سے دو گھنٹے کا ڈرامہ بنا سکتا ہوں۔“ اداکار اصرار کرتے ہیں کہ لوگ تو انہیں دیکھنے کے لیے آتے ہیں یا ٹیلیویژن کھولتے ہیں۔ وہ ’ہدایت کاری‘ سیٹ اور موسیقی کے بغیر بھی گذارا کر سکتے ہیں۔ وہ محض چلتے پھرتے رہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے رہیں، مسکراتے رہیں، تو بھی لوگ مسرور بیٹھے رہیں گے۔ کوئی مکالمے نہ ہوں، وہ محض ایک سے سو تک اور سو سے ایک تک گنتی گنتے رہیں، تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یہ دعوے یقینا انتہا پسندی کا رجحان ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان میں حقیقت کا عنصربھی ہے۔ جو ڈرامہ سٹیج یا ٹیلیویژن پر پیش کیا جاتا ہے وہ نہ تو ایک فن کار کا کام ہوتا ہے، نہ ہی ایک فن کا اظہار۔ وہ ایک ٹیم ورک ہے۔ کبھی ہدایت کار غالب آ جاتا ہے، کبھی اداکار چھا جاتے ہیں، کبھی مصنف اپنا لوہا منوا لیتا ہے اور کبھی سب کے سب بیک وقت اپنا آپ دکھاتے ہیں۔

چنانچہ کسی بھی مصنف کی طرح ڈرامے کے مصنف کے لیے بھی اصل کسوٹی کتاب ہے۔ بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو کبھی تھیٹر نہیں گئے لیکن معروف ڈرامہ نگاروں کے کے ڈراموں کی نہ صرف بات کرتے ہیں بلکہ ان کے مکالمے اپنی گفتگو میں اشعار کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان ڈراموں سے ان کا رشتہ کتاب ہی کے ذریعے استوار ہوا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ کتاب پڑھتے وقت انہوں نے اپنے ذہن کا سٹیج روشن کیا تھا اور یہی ذہن کا سٹیج میرے خیال میں اصل سٹیج ہوتا ہے۔

کہا جائے گا کہ ہر شخص کتاب اپنے طریقے سے پڑھتا ہے۔ سو ایک کتاب کو سو قارئین سو مختلف طرح سے سمجھیں گے اور ان میں سے اکثر کتاب کی وہ تشریح اور تعبیر کریں گے جو مصنف کے منشا کے بالکل برعکس ہو گی۔ اب دوسرے مصنفوں کے مقابلے میں ڈرامے کے مصنف کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ اپنے ڈرامے کو اس طرح ’دکھا‘ دے جس طرح وہ چاہتا ہے کہ لوگ وہ ڈرامہ دیکھیں (یعنی سمجھیں)۔ یہ بڑی حد تک درست ہے لیکن عام مشاہدے میں آیا ہے کہ تھیٹر دیکھ کر نکلنے والے کسی بھی دو افراد نے ایک ہی ڈرامے کو ایک طرح نہیں ’دیکھا‘ ہوتا۔ تھیٹر کا سٹیج ہر ناظر پر مختلف اثر چھوڑتا ہے، یعنی سو افراد ایک ہی وقت میں ایک نہیں بلکہ سو مختلف ڈرامے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مصنف اور ہدایت کار ڈرامے کو کتنا ہی سکرپٹ کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کریں، فرق آ ہی جاتا ہے۔ مصنف، ہدایت کار اور اداکاروں کی شخصیتوں کی ایک اپنی پابندی (binding) ہوتی ہے۔ جب ہم ڈرامہ کتاب میں پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ہمارا تخیل بلا روک ٹوک کہیں کا کہیں جا سکتا ہے۔ لیکن سٹیج پر اداکار کی ذات بہت سے امکانات کو ختم کر دیتی ہے۔ تاریخی اور اچھوتے کرداروں کے ضمن میں یہ بات اور بھی زیادہ صحیح ثابت ہوتی ہے۔ پھر ایک اور بات بھی ہے۔ تھیٹر کا سٹیج کتنا ہی حقیقت کے قریب کیوں نہ ہو، ناظرین کتنا ہی ’کھو‘ کیوں نہ جائیں، وہ یہ کبھی نہیں بھولتے کہ وہ تھیٹر میں ہیں اور ان کے سامنے جو کچھ ہو رہا ہے سٹیج پر ہو رہا ہے۔ لہٰذا انہیں اپنے ذہن کا سٹیج روشن کرنا پڑتا ہے اور اپنے سامنے پیش ہونے والے ڈرامے کو اس سٹیج پر منتقل کر کے دیکھنا پڑتا ہے۔ چنانچہ بات وہیں آ جاتی ہے۔ تھیٹر میں بھی ڈرامہ ایسے ہی دیکھا جاتا ہے جیسے کتاب پڑھتے وقت۔

یہ بھی کہا جائے گا کہ ڈرامہ کا لغوی اور قدیمی معنی ’کر کے دکھانا‘ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جس زمانے کی یہ بات ہے اس زمانے کے ڈرامے میں ’کر کے دکھانے‘ والا عنصر سب سے کم تھا۔ مقابلہ ڈرامے کے مصنفوں کے مابین ہوتا تھا اور بالعموم وہی اسے پیش کرتے تھے۔ سٹیج ایک پلیٹ فارم نما جگہ تھی جس پر اداکار نقاب پہن کر آتے اور مکالمے اس طرح ادا کرتے جیسے آج کل کوئی ایسا شاعر جو اپنے کلام کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہو، اسے کسی مشاعرے میں سنائے۔ سٹیج کے آگے کوئی پردہ نہیں ہوتا تھااور پس منظر منقش مناظر کے ذریعے ظاہر کیا جاتا تھا ،جسے اہم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے کا نمائندہ نقاد ارسطو کہتا ہے:

منظر، دلکش ہونے کے کے باوجود (ڈرامے کے) تمام حصوں میں سب سے کم فنکارانہ ہوتا ہے، اور فن شاعری سے ذرا بھی سروکار نہیں رکھتا۔ المیے کا اثر سٹیج پر پیش کش اور اداکاروں کے بغیر بھی ممکن ہے؛ اور اس کے علاوہ، منظر کی سجاوٹ شاعر سے زیادہ پوشاک ساز کا کام ہے۔

قدیم ڈرامے میں نسوانی کردار عورتوں کی بجائے نو عمر لڑکے ادا کرتے تھے۔ سولہویں صدی میں الز بتھ عہد کا تھیٹر اور سترھویں صدی کا یورپی تھیٹر، یونانی سٹیج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے؛ اگرچہ ڈرامہ نگاری کا فن اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ ان ادوار کے ڈرامے سٹیج پر لا تعداد مرتبہ پیش کیے گئے اور اب بھی پیش کیے جاتے ہیں، لیکن وہ موجود صرف کتابوں میں ہیں۔

ان باتوں سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں کوئی بڑا ڈرامہ نگار ہوں یا میں نے عظیم ڈرامے لکھے ہیں؛ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے ڈرامے اسی طرح شائع کراتا ہوں جیسے اپنی شاعری ۔ البتہ انہیں سٹیج پر پیش ہوتا دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •