طاقتور ترین وزیراعظم کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان سے طاقتور شخصیات نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل کر دیں۔ بزدار کی جگہ ایسا وزیراعلیٰ لائیں جو انتظامی امورکا تجربہ بھی رکھتا ہو اور پنجاب جیسے صوبے کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی۔ وزیراعظم نے سنی ان سنی کردی۔ وزیراعلیٰ بدلنا تو کجا بلا وجہ کسی وزیر کو بھی نہ ہلایا گیا۔

مرکز میں وفاقی کابینہ کے بعض وزرا کےبارے میں شکایات آئیں تو وزیراعظم نے توقف کیے بغیر خود فیصلہ کیا کہ کسے کونساعہدہ دیا جائے۔ معیشت کے میدان میں البتہ معاونت ضرور لی گئی کیونکہ معیشت کے اہم ترین موضوع کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت انفرادی صلاحیت پر بہرحال مقدم ہوتی ہے۔

 دورہ ایران کے دوران 23 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ تہران میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ، “میرے علم میں ہے کہ ایران پاکستان کے اندر کام کرنے والے بعض دہشت گرد گروپوں سے نقصان اٹھاتا رہا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے”۔ ایک سرکاری افسر کو وزیراعظم کا یہ بیان ناگوار گزرا اور اس نے وفد کے کچھ وزرا کے سامنے اس کا اظہاربھی کر دیا۔ وزیراعظم کو پتہ چلا توکچھ عرصے میں اس افسر کا بستر بھی گول کر دیا گیا اور اس کی جگہ وزیر اعظم نے اپنی پسند کا افسر تعینات کر دیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے مل کرچیرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں وزیراعظم عمران خان صادق سنجرانی کو بچانے کے لیے سنجیدہ نہ تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ایک طاقتور پرزے نے انہیں بتایا کہ جناب آج اپوزیشن سنجرانی کو ہٹانے میں کامیاب ہوگئی تو کل سپیکر قومی اسمبلی اور پرسوں آپ پر وار کرے گی۔ وزیراعظم کو بات سمجھ میں آئی اور انہوں نے اشارہ دے دیا۔ نتیجے میں سنجرانی کی واضح ناکامی ایک رات میں کامیابی میں بدل دی گئی۔

پنجاب میں کامیاب جلسوں کے ذریعے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی مریم نواز کو ایک اجلاس کے دوران وزیراعظم کی طرف سے ” پھولن دیوی” کا خطاب دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ گرفتاری کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور مریم نواز کو نیب میں چوہدری شوگر ملز کیس کی روشنی میں ۸ اگست کو لاہورسے گرفتارکرلیا گیا۔ مریم نواز کو عین اس وقت گرفتار کیا گیا کہ جب وہ اپنے بچوں کے ہمراہ جیل میں قید اپنے والد میاں نوازشریف سے ملاقات کر رہی تھیں۔ بیٹی کو اپنے بچوں اور اپنے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا۔

پاکستانی ریاست روایتی طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے بارے میں ایک مخصوص رائے کی حامل ہے۔ اس حساس معاملے پر جب کبھی کوئی غلطی ہوئی تو وقت کے حکمرانوں کو اس کے ردعمل کے طور پر گھر جانا پڑا مگر بھارت کے حوالے سے کشمیرکے بارے میں حالیہ کڑے فیصلوں نے بھی وزیراعظم کو بظاہر کسی ہزیمت کا شکار نہیں کیا۔ وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک صفحے پر نظر آئے۔

اس سارے پس منظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع بھی کر دی جس نے وزیر اعظم کو بظاہر مزید مستحکم اور طاقتور کر دیا ہے۔ اس توسیع کا اشارہ وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں بھی نظر آرہا تھا۔ امریکہ اور افغان طالبان میں امن معاہدہ ایک اہم موڑ پر ہے جس کے باعث یہ توسیع بڑی اہم ہے لیکن اس توسیع کے ملکی داخلی صورتحال پر زیادہ اثرات مرتب ہونگے۔ اپوزیشن مایوسی کا شکار ہو گی اور حکومت کے اعتماد میں مزید اضافہ۔

کم وہ بیش دو دہائیوں پر مبنی صحافتی کیرئیر کے دوران نو وزراعظم کو دیکھنے اور ان کے مختلف اقدامات کو رپورٹ کرنے کا اتفاق ہوا۔ یقین مانیے کسی وزیراعظم کے پاس وہ اختیار تھا نہ حمایت جو موجودہ وزیراعظم عمران خان کو آج حاصل ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، وزیراعظم عمران خان مکمل طور پر بااختیار وزیراعظم ہیں۔ وہ ہرگز ڈمی نہیں لیکن انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے۔

Power tends to corrupt, absolute power corrupts absolutely

ترجمہ : اختیار میں بدعنوانی کی ترغیب ہوتی ہے لیکن مطلق اختیار آپ کو مکمل طور پر بدعنوان بنا دیتا ہے۔ انگریزی زبان کی یہ کہاوت اکثر معاملات میں درست ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان میں جب بھی کسی کے پاس بھرپور طاقت و اختیار ہوا، اسی وقت اس سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ یہی غلطیاں انگلی پکڑ کر طاقتور حکمران کو تباہی کے ایسے راستے پر چھوڑ آتی ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

اس وقت اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ وزیراعظم کی احتساب پالیسی تین چار بنیادی جہتوں پر مشتمل ہے۔ مخالف سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات ڈھونڈنے میں ہمارے دوست اور وزیراعظم کے شرلک ہومز جناب بیرسٹر شہزاد اکبر دن رات کام کر رہے ہیں۔ ان مقدمات کی روشنی میں نیب گرفتاریاں عمل میں لا رہی ہے اور کچھ خدمات وزیر داخلہ جناب بریگیڈِئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ سب سےاہم یہ کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں پاک فوج وزیراعظم عمران خان کو مکمل طور پر تعاون فراہم کر رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو مذہب سے بھی گہرا لگاو ہے۔ وہ ذاتی طورپر سختی سے اپنی اہلیہ کی روحانی ہدایات کے عین مطابق کام کررہے ہیں۔ 18 ماہ سے انہوں نے کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کیا کہ جس سے انہیں ان کی اہلیہ نے روک رکھا ہو۔ حتیٰ کہ وہ اپنی سابق اہلیہ جماِئما خان سے بھی بات نہیں کرتے۔ اس وقت عمران خان ایسے وزیراعظم ہیں جو مکمل طور پر بااختیار ہیں، انہیں فوج کی مکمل مدد و معاونت دستیاب ہے اور وہ روجانی طور پر اپنی اہلیہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سب کچھ ایسا ہی چلتا رہے گا؟ اور وہ سدا با اختیار ہی رہیں گے؟

اگر تاریخ کوئی پیمانہ ہے تو ہرعروج کو زوال ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں یہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ مکمل اختیارات کے حامل وزیراعظم عمران خان رواں سال اکتوبر تک ہی طاقتور ترین رہیں گے۔ اس کے بعد ان کی طاقت کمزوری بنتی جائے گی۔ ان کے دوست بھی دشمن بنتے جائیں گے۔

 وزیراعظم چاپلوسوں اور درباریوں کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ فی الحال پکڑ لو پکڑ لو اور واہ واہ کی صداوں میں ان کے اردگرد سچ بولنے والے بھی آئے روز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ محل کی فصلیں لمبی کر لینے سے بیرونی خطرات اور اندرونی سازشیں ختم نہیں ہوتیں۔ ابتر معاشی صورتحال اور لامتناہی طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلوں کے باعث عدم اعتماد پیدا ہونا نوشتہ دیوار ہے کیونکہ کامیابی کے سارے دعویدار ہوتے ہیں اور ناکامی یتیم ہوتی ہے۔ الزام دوسرے پر ہی عائد کیا جاتا ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع تو کر دی گئی ہے لیکن یہ توسیع وزیراعظم عمران خان کی بطور وزیراعظم پانچ سال مکمل کرنے کی ضمانت ہرگز نہیں ہے۔ وزیراعظم کے اقتدارکا استحکم معاشی استحکام اور اصلاحات سےجڑا ہوا ہے اور یہ دونوں معاملات سیاسی استحکام سے بندھے ہوئے ہیں۔ جب تک عوام کو آسودگی نہ ملے اور وہ مطمئن نہ ہوں، محلوں کی فصیلیں بلند کرنے سے اقتدار کو تحفظ نہیں مل سکتا۔

میرے خیال میں رواں سال کے آخر تک بہت سے حلقےوزیراعظم کی تبدیلی کے بارے میں اپنی سوچ لازمی تبدیل کریں گے وقت آگے پیچھے ہوسکتا ہے لیکن تاریخ کا فیصلہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ تبدیلی روکنےکے لیے کارکردگی ہی واحد راستہ ہے جو فی الحال کہیں نظر نہیں آرہی۔ دوسرا قوی امکان تبدیلی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ نئی تبدیلی لڑائی کے بعد آئے گی یا اس کے مقدر میں چپ چاپ رخصتی لکھی جائے گی۔ ہرصورت میں طاقت کا یہ کھیل عوام کے لئے دلچسپی کا سامان فراہم کرتا رہے گا۔
Aug 23, 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •