ایک سپہ سالار وہ بھی تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کا گھوڑا جس سمت کو بھاگتا وھی علاقہ مسلمان ریاست میں شامل ہو تا خلیج فارس سے فلسطین تک نہ کوئی سلطنت اس کے سامنے رکا نہ کوئی قبیلہ اس کے فتوحات روک سکا اور پہر تاریخ کا یہ عظیم جرنیل اور فاتح اپنا لشکرِلے کر مدینہ لوٹ آیا، اور پورے شہر میں ایک جشن برپا تھا۔ ہر کوئی اسی دراز قامت فاتح کو دیکھنے کا متمنی تھا۔ جس نے طاقتور ترین سلطنت روما کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور جس کی جنگجویانہ صلاحیت ہر خاص و عام کو متاثرکیے ہوئے تھی۔

چمڑے کا ایک وسیع خیمہ ہے، اور عرب کے با اثر سرداروں اور پُر جوش نوجوانوں کے درمیان یہ حیرت انگیز سپہ سالارایک خوش رنگ غالیچے پر بیٹھا تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہے۔ خیمے کے اندر مکمل سکوت ہے، اور ایک مشہور شاعر اسی حیرت انگیز جرنیل کا دلفریب ا اقصیدہ پڑھ رہا ہے ”جس طرح روم کے لوگ جشن مناتے ہوئے سینکڑوں دیے کٹوروں میں رکھ کر بحیرہِ روم کے پانیوں میں چھوڑ دیتے ہیں اور وہ رات کی تاریکی میں لہروں پر جگمگ کرتی رہتی ہیں۔ اسی طرح ہماری تلواریں روم کے میدانوں میں جگمگ کرتی اور فتوحات سمیٹتی رہیں“ ایسے میں اچانک خیمے کے اندر ایک اجنبی شخص داخل ہوا اور اشتعال کے عالم میں باآواز بلند کہا روک دو اس آدمی ( جرنیل ) کا قصیدہ جو اپنے ساتھ احسان کرنے والے تک کو یاد نہیں رکھتا۔

خیمے کے اندر خوف اور حیرت میں لپٹی ہوئی خاموشی چھا گئی اور لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے تاریخ ساز فاتح اپنی جگہ سے اُٹھا اور اس شخص کے قریب جا کر اپنی بھاری بھر کم آواز کے ساتھ کہا میں تو تمہیں جانتا تک نہیں اس شخص نے کہا ہاں آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں روم کے محاذ پر لڑ تے ہوئے آپ کے لشکر کا ایک سپاہی تھا اور میں نے محاذ جنگ میں آپ کے ساتھ ایک احسان کیا تھا۔

لیکن آپ نے پھر پوچھا تک نہیں، کیسا احسان؟

اس شخص نے خیمے میں بیٹھے مجمعے پر ایک نگاہ دوڑائی اور ایک کہانی شروع کی

روم کے محاذ پر ایک دن گھمسان کی لڑائی ہورہی تھی میں اگلی صفوں کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر پڑی کہ ہمارا ایک ساتھی گھوڑے کی خالی پیٹ پر سوار درجن بھر رومی فوجیوں کے نرغے میں آچکا ہے۔

اس کی تلوار بھی ٹوٹ چکی تھی اور وہ خالی ہاتھ تھا میں نے حسرت کے ساتھ اس کی طرف دیکھا کہ اس کا سر لمحہ بھر میں زمیں پر گرنے کو ہے، اچانک میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو جوش اور خوف کے مارے میرے منہ سے چیخ نکلی۔ یہ تو ہمارا سپّہ سالار ہے اور اگلے ہی لمحے میں نے آپ کو آواز دی سپّہ سالار میری طرف دیکھو خوش قسمتی سے آپ نے میری آواز سن لی اور پلٹ کر دیکھا تو میں نے سرعت کے ساتھ تلوار آپ کی طرف پھینک دی جو فضا کا سینہ چیرتے ہوئے آپ کے قریب سے گزرنے لگی، تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور تلوار پکڑلی،

اگر اس وقت میں تلوار نہ پھینکتا تو آج آپ کہاں ہوتے؟

واقعی میرے ایک ساتھی نے میری طرف تلوار پھینک دی تھی مگر میں اس وقت پہچان نہ سکا تھا کہ میں دشمنوں میں گھرا ہوا تھا، تاہم میں آپ کا شکر گزار ہوں پھر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی اور اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تلوار ہاتھ آئی تو کچھ دیکھا بھی؟

تو اس نے جواب دیا حضور اور تو کچھ نہیں دیکھا لیکن تلوار آپ کے ہاتھ آتے ہی چاروں طرف اُڑتے ہوئے سر ضرور دیکھے۔ اس جرنیل کو ہم کو خالد بن ولید کے نام سے جانتے ہیں۔

قبیلے بنو مخزوم کے ایک اتنہائی امیر سردار کا بیٹا خالد، اپنے لاڈلے گھوڑے ”اشکر“ کا رُخ انتہائی طاقتور سلطنتوں کی طرف بھی موڑ دیتا تو تخت گرائے اور تاج اُچھالے جاتے روم اور فارس کی سلطنتیں تو وہ کب کا اُڑا چکا تھا۔ اس کے حربی داؤ پیچ سمجھنا دشمن کے لئے ہمیشہ نا ممکن ہوتا اسی لئے اکثر قلیل فوج کے ساتھ بھی حاوی ہوتا رہا۔ روم میں تو اپنے سے ساٹھ گنا بڑی فوج کو پچھاڑ کر رکھ دیا تھا بعد میں خلیفہ کے حکم پر شام کے محاذ پر روانہ کردیا گیا تو فوج کے ساتھ ساتھ عسکری قبائل کو بھی خاک چاٹنا پڑی۔

اُردن اور فلسطین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تب خالد بن ولید ایک بہت بڑا نام بن چکا تھا۔ فتح کا ایک ٹریڈ مارک، ایک لاکھ سے زائد ڈسپلن اور نظم و ضبط میں ڈھلی ہوئی فوج کا تاریخ ساز کمانڈر انچیف جس کی تاریخ میں فتوحات کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ تھا ہی نہیں لیکن ایک عجیب واقعہ ہوا شام کے بعد وہ فلسطین کی طرف بڑھ رہا تھا کہ محاذ جنگ پر ایک صحابی خلیفہ وقت کا خط لے کر مدینہ سے پہنچ گئے اور خط حضرت ابی عبیدہ  بن جراح کو دے دیا۔

حضرت ابی عبیدہ بن جراح نے مناسب موقع پر خط اپنے کمانڈر خالد بن ولید کو دکھایا۔ خط میں خلیفہ نے لکھا تھا کہ خالد بن ولید کو کمانڈر کی حیثیت سے سبکدوش کیا جاتا ہے اور ابی عبیدہ بن جراح کو نیا کمانڈر مقرر کیا جاتا ہے۔ خالد بن ولید جیسے آدمی کی آنکھوں میں بھی نمی سی اُتر آئی لیکن فورًا ابی عبیدہ کی طرف بڑھے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دے کر کہا میرے سپّہ سالار میں اپنے خلیفہ کے حکم کا پابند ہوں اور مجھے اپنی سبکدوشی منظور ہے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اگر خالد بن ولید خلیفہ کا حُکم ماننے سے اس موقع پر انکار کرتا تو شاید تاریخ کا پہلا مارشل لاء نافذ ہوجاتا کیونکہ تب اسے مضبوط فوج کی کمان اور اخلاقی برتری حاصل تھی، لیکن اس نے پھر بھی خلیفہ کے حکم کے آگے سر تسلیمِ خم کیا اور سبکدوش ہو گیا۔
نہ کوئی توسیع نہ کوئی ایکسٹنشن کیونکہ وہ ایک مکمل جرنیل تھا تلوار کا بھی اور ڈسپلن کا بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •