ہم سے عید پر بھی کوئی گلے نہیں ملتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چہرہ رعونت سے اور لہجہ اس خاص قسم کے گھمنڈ سے عاری تھا جو ہمارے وطن میں پولیس والوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ ابھی ابھی ایک اے ایس آئی میرے سامنے سے اٹھ کر گیا ہے۔ آدھے گھنٹے اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے اگر ایک طرف اس ملک کے استحصالی نظام کا گھناؤنا اور پوشیدہ چہرہ بے نقاب کیا تو دوسری طرف ایک عام پولیس اہل کار کے لیے دل میں موجود وہ مکروہ جذبات بھی کم کرنے پر اکسایا، جو بدقسمتی سے تقریباً ہر پاکستانی شہری کے دل میں پولیس والوں کے لیے لازمی طور پر موجود ہیں۔

”ایسا وقت آنے کی بھی کوئی امید ہے کہ پولیس کے محکمے سے ہم انصاف کی توقع کر سکیں، رشوت کا گرم بازار یہاں ٹھنڈا ہوجائے اور عام شہری پولیس والوں کو دیکھ کر راستہ نہ بدلیں؟ “ گفتگو محض آگے بڑھانے کے لیے یہ سوال میں نے رواروی میں کر تو دیا لیکن اس ایک سوال کے جواب میں ایسے ایسے راز مجھ پر منکشف ہوئے ان کو خود سے کئی بار اکیلے میں دہرا کر بھی یقین کی سرحد پوری طرح طے نہ کرسکی۔ لیکن میرے یقین کرنے نہ کرنے سے کیا ہوتا ہے؟

ہوتا تو وہی ہے جو اس ملک کا مقتدر طبقہ چاہتا ہے۔ آئیے میں آپ کو بھی اس راز میں شامل کر تی ہوں لیکن شرط یہی ہے کہ آپ ایک عام پولیس اہل کار کو دیکھ کر راستہ نہیں بدلیں گے اور اپنے دل میں ان کے لیے دبی نفرت کی آگ بھی کچھ کم کریں گے، کیوں کہ ان اہل کاروں کے عیب ذاتی کمزوریوں سے زیادہ اس کرپٹ اور استحصالی نظام کی دین ہیں جو قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس ملک کی بنیادوں میں مہاجرین کے لہو کی طرح اتار دیا گیا۔

اس پولیس اہل کار کے مطابق ادارے میں رشوت خوری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت ہر تھانے میں موجود کم و بیش چار سے پانچ پولیس موبائلوں کے لیے روزانہ پچیس لیٹر پیٹرول فی موبائل کا بجٹ مختص کرتی ہے لیکن افسوس تھانے تک آتے آتے یہ رقم محض اتنی سی بچتی ہے کہ اس سے صرف سات لیٹر پٹرول فی پولیس موبائل کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔ باقی رقم کی راستے میں ہی بندر بانٹ کر لی جاتی ہے۔ سارا دن گشت کرنے کے لیے ایک موبائل میں سات لیٹر پٹرول اونٹ کے منہہ میں زیرے سے زیادہ بھلا کیا ہوتا ہے؟

یوں باقی کمی کو پورا کرنے کے لیے کبھی تلاشی کے بہانے موٹر سائیکل سواروں کی شامت بلائی جاتی ہے، تو کبھی خوامخواہ گاڑیوں کو روک کر نذرانہ وصول کیا جاتا ہے اور کبھی پیدل چلنے والوں کو کسی بھی بہانے روک کر رقم وصولی جاتی ہے۔ غرض وہ پیسے جو ہماری نظر میں رشوت کے نام پر پولیس اہل کاروں کی اپنی جیب میں جاتے ہیں، ان کا زیادہ تر حصہ، دراصل اعلٰی سطح پر کرپشن کی مَد میں کھائی گئی رقم کو پورا کرنے میں صرف ہوجاتا ہے۔ اور اس جبری وصولی کے لیے ہر پولیس اہل کار کو ڈِس مِس کرنے یا ٹرانسفر کی دھمکیاں دے کر اطاعت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

دوسرا انکشاف جو میرے لیے کسی جھٹکے سے کم نہ تھا وہ یہ کہ ”انصاف کے ادارے“ کی طرف سے ہر تھانے پر ایف آئی آر کی تفویض کردہ مقررہ تعداد پورا کرنے کے لیے بے حد دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ایف آئی آر علاقے میں موجود جرائم پیشہ افراد کے قلع قمع میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں کیوں کہ جرم اور مجرموں کے سرپرست اکثر اس قدر با اثر ہوتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کا رسک کوئی تھانہ لینے کو تیار نہیں ہوتا۔

اس صورت میں ایف آئی آر کس پر کاٹی جائے کہ اعلٰی حکام کے سامنے سرخرو ہوا جاسکے اور ڈس مس کیے جانے یا تبادلے کی لٹکتی تلوار کے خوف سے بھی باہر آیا جاسکے؟ اب اس کا واحد مناسب ترین حل یہی بچتا ہے کہ چھوٹے موٹے چور اُچکوں یا بے گناہ افراد کو کسی بھی شبہہ میں دھر کر جھوٹے کیس بنائے جائیں اور جھٹ ان کی ایف آئی آر کاٹ دی جائے۔ یوں عام شہری نظامِ انصاف کی بے انصافیوں کی بھینٹ بہ آسانی چڑھا دیے جاتے ہیں۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے پولیس اہل کار بے گناہ مجرم کے پاس سے جو ”برآمدگیاں“ کرتے ہیں وہ نظامِ انصاف کے ہی ادارے کی طرف سے تھانوں کو فروخت کی جاتی ہیں، اور ان کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے۔

اب یہ بات تو طے ہے کہ ان برآمدگیوں کو خریدنے کے لیے نہ تو حکومت کوئی بجٹ دیتی ہے اور نہ یہ رقم پولیس اہل کار اپنی قلیل تنخواہوں میں سے ادا کرتے ہیں، اس کے لیے رشوت کی وہی رقوم استعمال میں لائی جاتی ہیں جن کی ادائیگی کرتے کرتے عام شہری اب تھک کر نڈھال ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف میرے لیے حیران کن تھاکہ انصاف فراہم کرنے والے ادارے میں ہی نچلی سطح پر کس طرح ظلم کے دروازے کھولے جارہے ہیں۔

اس پوری گفتگو میں ایک بات جو میں نے محسوس کی وہ تھی بے زاری، جو دورانِ گفتگو اے ایس آئی کے لہجے میں بھی اس نظام کی طرف سے عیاں تھی۔ اس کے بقول نچلی سطح کے پولیس اہل کاروں کی اکثریت اس نظام کی طرف سے بھی بے چینی محسوس کررہی ہے، لیکن وہ اپنی روزی روٹی کی وجہ سے برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس بے چینی اور بے زاری کی سب سے بڑی وجہ وہ بے عزتی ہے جو پولیس والے آئے دن عوام کی طرف سے سہتے ہیں۔ اس نے بڑے دکھ سے بتایا کہ عید کے دن بھی شہریوں کی حفاظت پر عید گاہوں کے باہر مامور پولیس اہل کاروں کو کوئی شہری سلام کرتا نہ دعا دیتا اور نہ بڑھ کر گلے لگ کر عید مبارک کہتا ہے، جب کہ وہ اپنی خوشیاں چھوڑ کر انھی کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔

لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں، جو سامنے ہوتا ہے وہی دکھتا ہے اور عوام کے سامنے بس یہی ہے کہ پولیس والوں نے ہر سڑک اور چوراہوں پر، تھانے، جیل اور عدالتوں میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اسی لیے عوام اس محکمے کی تباہی میں ایک عام پولیس اہل کار کو بھی برابر کا مجرم سمجھتے ہیں۔

اگر حکومت پولیس والوں کی تنخواہیں مناسب حد تک بڑھائے، ان کی بنیادی ضروریات کی ادائیگی اپنے ذمہ لے لے اور ساتھ ساتھ ہر تھانے کے لیے مختص رقم کا شفاف طریقے سے استعمال یقینی بنائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ یہ اہل کار اپنا فرض عبادت سمجھ کر ادا کرنے لگیں، کیوں کہ ایک عام انسان کی طرح یہ بھی عزت کے طلب گار اور حق دار ہیں۔ ان کے اندر بھی یہ خواہش پنپتی ہے کہ سارا سال نہیں تو کم از کم عید کے دن تو کوئی ان کو بھی کوئی گلے لگائے اور عید مبارک کہہ دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •