کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔ وہ عمر جب یہ احساس بھی بالغ نہیں تھا کہ یہ شہ رگ کہتے کسے ہیں اور آج جب کوئی یہ کہے کہ یہ ایک اَن دیکھی سرزمین سے کیسا درد کا رشتہ ہے تو میں کیسے بتاؤں کہ میں اسی نسل کی نمایندہ ہوں جو اپنی ماؤں سے کشمیر کے گیت سنتے اس عمر کو آن پہنچے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ کبھی کشمیر کے بارے کوئی ایسی ویسی خبر پڑھ کر میری ماں چہرے پہ عزم کی ایک چمک لیے گنگناتی ”میرے وطن (کشمیر) تیری جنت میں آئیں گے ایک دن“ اور صوبہ سرحد میں ہمارے گھر سے جو پہاڑ نظر آتے تھے بہت دور دریا سندھ کے پیچھے، سرمئی پہاڑ، ان کے پیچھے ہلکے رنگ کے اور پھر ان کے پیچھے بہت ہلکے پڑتے سفید رنگ کے پہاڑ؛جن کی جانب ہاتھ کے اشارے سے اماں اور ابا کہتے وہ کشمیر کے پہاڑ ہیں۔ بس ہم وہی نسل ہیں جو اس اَن دیکھے وطن کا عشق لے کر جوان ہوئے اور پھر اس عمر کو آن پہنچے جہاں خوابوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں چکنا چور ہوجاتی ہے اور سنگلاخ حالات آپ کو دل شکن حقائق سے ملواتے ہیں اور آپ خود کو یہ پوچھنے پہ مجبور پاتے ہیں کہ ستر سال سے کشمیر کے نام پہ آپ نے خوب چورن بیچا۔

جنگ، اسلحے کی دوڑ، ایٹمی طاقت کا نعرہ مستانہ کہ گھاس کھائیں گے اور ایٹم بم بنائیں گے اور قوم نے کھائی گھاس اور بن گئی ایٹمی طاقت اور آج آپ کہتے ہیں کہ کیا کروں جنگ کروں؟ اور محترم وزیر خارجہ فرماتے ہیں کہ قوم خوش فہمی میں نہ رہے، احمقوں کی جنت میں نہ رہے۔ تو قبلہ آپ سے دست بستہ گزارش ہے کہ آپ نے یہ بہشت بیوقوفاں بنائی کیوں؟ نہ صرف بنائی بلکہ اس کے دربان بن کر خوب ٹکٹ بھی بیچے اور ساری قوم کو اُلو بھی بنایا اور آج آپ فرماتے ہیں کہ قوم کوئی خوش فہمی نہ پالے۔ درست! وہ بکریاں اور مرغیاں پالے۔

تب ہی وہ اس فہم و فراست کے چکر سے باہرآئے گی کہ سوال کرے کہ آپ کی وزارت خارجہ ستر سالوں سے کیا کر رہی تھی آپ آج ہم بین الاقوامی سطح پہ تنہا کیوں ہیں اور یہ کہنے پہ مجبور ہیں کہ مسلم امہ کا کوئی وجود نہیں! آپ کے نظریاتی حلیف، بھارت کی کامیاب خارجہ و معاشی پالیسی، چھین کر لے گئی یہ امت مسلمہ اور آپ بس چورن بیچتے رہے، کرائے پہ اپنی فوج مرواتے رہے، اپنے ہی ملک میں بادشاہ گری کے خواب نے فرصت ہی نہیں دی شاید۔

سوالوں کا کیا ہے سوال تو بہت ہیں مگر اب سلامتی کونسل کا اجلاس ایک امید کا مدہم سا جگنو ضرور تھماتا ہے گو کہ اس کے گرد بہت اندھیرا ہے۔

جب میں نے اپنا افسانہ ”مردہ آنکھوں کا شہر“ لکھا تھا تو جہاں کشمیر کی تاریخ پہ بہت سا ہوم ورک کیا تھا وہیں اک تشنگی کا احساس تھا اس کو دور کرنے کے لیے کشمیری لکھاریوں سے مکالمہ کیا۔ آزاد اور مقبوضہ کشمیر دونوں طرف۔ ان لوگوں کو حالات کی تلخی کے باوجود بہت محبت کرنے والا، بہت احترام اورعزت دینے والا پایا۔ جو عزتیں ان کی جانب سے ملیں وہ میرا سرمایہ ہیں۔ اب ان حالات میں جب مودی حکومت نے ان کی پشت میں خنجر نہیں گھونپا بلکہ آئین کی دفعہ 370 اور 35۔ A کو ختم کرکے ان کی کمر ہی توڑ دی ہے تو یہ جاننا بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں؟ وہ کیا کہتے ہیں؟ ان کی آرزو کیا ہے اور اس سارے حالات کو وہ کیسے دیکھتے ہیں اور ان کے احساسات و جذبات کیا ہیں؟ مقبوضہ کشمیر کو تو اس وقت جبر کی دھند میں لپٹا اک ممنوعہ خطہ بنا دیا گیا ہے۔ تمام رابطے منقطع ہیں۔ سو آزاد کشمیر کے کشمیریوں کی آرا قارئین آپ کی نذر۔ ان کی آواز سنیے :

آئیے سب سے پہلے شہناز گردیزی سے ملتے ہیں۔

شہناز گردیزی شاعر اور ادیب ہیں، صدر ادیب کشمیر فاونڈیشن (کاف) اور معتمد اعلیٰ ”طلوع ادب“ ہیں۔ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا:

” یہ موقع کشمیریوں کے لیے بھی بہت اہم ہے کہ آزادی کے خواب دیکھتے دیکھتے ان کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں، خواب آزادی کا عکس آنکھوں میں ہے اور تعبیر کے نمودار ہونے کا دھڑکا لگا ہوا ہے۔ اس موقع پہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ آزاد کشمیر حکومت کو بااختیار بناتے ہوئے سب سے پہلے اسے خود تسلیم کرے۔ اسلام آباد میں کشمیر کا سفارت خانہ قائم کرے اور پھر کشمیر کو دوست اور اسلامی ممالک سے بھی تسلیم کروائے تاکہ اصل فریق اپنا مسئلہ عالمی عدالت انصاف میں خود رکھ سکے اور انصاف ملنے پہ خود اپنا فیصلہ کرسکے اگر ایسا کیا گیا تو زیادہ بہتر نتایج حاصل کیے جا سکتے ہیں ورنہ یہ موقع بھی 1947، 1988، 2005 اور 2006 کی طرح ہاتھ سے جاتا رہے گا۔“

اب ہم جاوید سحر سے ملتے ہیں ان کا تعارف ان کی زبانی:

1980 میں زالورہ سوپور میں پیدا ہوا۔ قائد تحریک سید علی گیلانی کا گاؤں بھی زالورہ زنگیر ہے۔ خاندان جماعت اسلامی میں تھا سو قائد کے ساتھ خاندانی اور جماعتی تعلق تھا۔ تحریک کے بارے میں ابتدائی باتیں اُنہی سے سنیں۔

” 9 سال کی عمر میں آدھے خاندان کے ساتھ آزاد کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ یہ پہلا خاندان تھا جس نے لائن آف کنٹرول کو کراس کیا۔ وجہ والد صاحب کے خلاف انڈیا کے بدنام زمانہ ٹاڈا ایکٹ کے تحت درج بارہ مقدمات تھے۔ جن میں سے ہر ایک کی شنوائی دو سال بعد ہونا تھی۔ علی گیلانی سے مشاورت کے بعد والد محترم نے جب ہجرت کی تو بنیادی مقصد ادھر آ کر بیس کیمپ کے لوگوں کو عسکری جدوجہد کے لیے تیار کرنا تھا۔ عباس پور سکول و کالج سے بی۔ اے اور آزاد کشمیر یو نیورسٹی سے ایم۔ اے اردو کیا۔ مختلف اخبارات کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان پر بحیثیت سکرپٹ رائٹر، اور گوجری خبروں پر کام کیا۔

”عسکری جدوجہد کا باضابطہ حصہ رہا اور سیز فائر ہونے تک عملی جدوجہد کی۔ 2014 ء میں ویزے پر کشمیر گیا۔ لوگوں کو ذہنی طور پر غلام رکھنے کی بھارت کی ہر ممکن کوشش کے خلاف عملی طور پر حصہ لیا۔ قلم قبیلے سے جڑا رہا۔ صدر ’کشمیر تنظیم افکار پاکستان‘، ’طلوع ادب آزاد کشمیر‘ ڈپٹی سیکرٹری اورجنرل سیکرٹری ’بزم گوجری پاکستان‘ ہوں۔ 2016 ءبہترین گوجری رائٹر ایوارڈ پایا۔“

جاوید سحر موجودہ حالات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں :

”پاکستان کو کشمیریوں کی آواز کو پوری دنیا میں پہنچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ بھارت کے حالیہ فیصلے پر پاکستان کی جانب سے سرد مہری سے کشمیریوں کو دکھ پہنچا ہے حالانکہ کشمیری ستر سال سے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور استحکام پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیری مکہ اور مدینہ کے بعد پاکستان کی دھرتی کو مقدس سمجھتے ہیں، سبز ہلالی پرچم میں دفن ہونا سعادت سمجھتے ہیں۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کا پرچم بہت کم لہرایا گیا اور کشمیر کے پرچم مارکیٹ سے ختم ہو گئے۔

”پاکستان کا رویہ اگر ایسا ہی رہا تو تقسیم در تقسیم کا سلسلہ تقویت پکڑے گا جس سے پاکستان کو کشمیر کی نسبت زیادہ نقصان ہو گا۔ بھارت آرٹیکل 35۔ Aکو ختم کر چکا اب وہ تیزی کے ساتھ کشمیر میں ہندؤوں کو آباد کرے گا اور یوں یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہندؤ اکثریتی علاقہ ہو جائے گا۔ اس مرحلے کے بعد انڈیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی طرف جائے گا اور استصواب رائے کی بات کرے گا۔ پاکستان کو مجبوراً یہ بات ماننا پڑے گی لیکن اس وقت انڈیا اعداد و شمار کے مطابق جیت جائے گا۔

”کشمیری بٹ جائیں گے۔ آدھے الحاق، آدھے خود مختاری کی طرف جائیں گے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو آج سے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ کشمیریوں کی عسکری قیادت کو آزاد کر کے اسے سپورٹ کیا جائے یا پھر کشمیریوں کے لیے ویزہ پالیسی کو نرم کیا جائے۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر آنے جانے کی اجازت ہو آزاد کشمیر والوں کے لیے دہلی اور اس پار والوں کے لیے اسلام آباد کے پاسپورٹ کی شرط لازم رہے۔ آزاد تجارت کے ساتھ ساتھ قلم سے جڑے لوگوں کے لیے ہر دو طرف جانے کی آزادی ہو۔ “

دلشاد اریب لیکچرار گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد، باغ آزاد کشمیر سے فرماتے ہیں ”مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حالیہ اقدامات نے جہاں اسے عالمی سطح پہ دوبارہ فلیش پوائینٹ بنا دیا ہے وہیں دو ایٹمی طاقتو‍ ں کے درمیان بسنے والے ایک کروڑ چالیس لاکھ کشمیریوں کے لیے یہ واقعہ کسی سانحے سے کم نہیں اور وہ یقین اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں۔ اس پار بسنے والے کشمیری جس طرح کئی ہفتوں سے کرفیو، قید و بند، مصائب، اور ظلم و جبر کا شکار ہیں اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

”حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے جس ردعمل کا مظاہرہ کیا اور اخلاقی، سیاسی اور سفارتی ہر محاز پہ ممکنہ طور پہ اس مسئلے کو اجاگر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہندوستانی حکومت کے حالیہ اقدامات اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اور حکومت کی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی اور سیاسی سفارتی کاوشیں اپنی جگہ مگر جب اس مدعے کے حل کی جانب نگاہ دوڑائی جائے تو ان تماتر کاوشوں کے باوجود یہ مسئلہ فوراً حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

”ہندوستان طاقت کے زور پہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت چھیننا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر ہتھکنڈا آزما رہا ہے، عالمی طاقتیں مصلحتوں کا شکار ہیں، پاکستان سفارتی طریقے سے اس مسئلے کے حل کا خواہاں ہے جبکہ کشمیری روزانہ کی بنیاد پہ اپنے لہو کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، یہ سلگتی ہوئی جذبہ حریت کی چنگاری گر کسی روز آتش فشاں میں تبدیل ہوگئی تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کشمیر نے آج نہیں تو کل آزاد بہرحال ہونا ہے۔ ہندوستان اور عالمی طاقتیں ہوش کے ناخن لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوگا ورنہ کشمیری اَب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنے حق خود ارادیت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

جس خاک کے ضمیر میں ہو آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند “

ابراہیم گُل سینئر صحافی تجزیہ کار ہیں وہ اپنے غم و غصے کا اظہار یوں کرتے ہیں :

”پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر پسپائی اختیار کر کے اپنے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ کشمیری قوم کو سخت مایوسی ہوئی ہے جو قوم پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی اب سخت مایوسی کا شکار ہے۔ اس سرد مہری سے پاک کشمیر تناؤ بڑھے گا۔ “

اعجاز نعمانی شاعر ادیب فرماتے ہیں :

” جس دن سے بھارت نے یہ فیصلہ لیا کشمیری قوم شدید صدمے میں ہے، پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ “

ایم یامین شاعر ادیب ہیں اور وہ قلم قبیلے کی جانب امید سے دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں :

”کشمیر کے عوام کو سمجھا جائے۔ قلم قبیلے کو اپنا حصہ ڈال کر اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا ہو گا۔“

قیصر علی شاہد انفارمیشن سیکٹری پیپلز پارٹی ضلع روندو گلگت بلتستان سے اپنی تشویش کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں :

”کشمیر اور کشمیری عوام پاکستان سے محبت رکھتے ہیں مگر پاکستانی قیادت کی طرف سے وہ کوشش نہیں ہورہی کہ جو اِن کے ساتھ یکجہتی اور آزادی کے لیے ہونا چاہیے تھی۔ بالخصوص نئی حکومت کے وزیر اعظم کا حالیہ دورہ امریکہ۔ دورے کے بعد پیدا شدہ صورت حال تشویشناک ہے۔ پاکستان کی قیادت کی سرد مہری اور عدم دلچسپی کی وجہ سے گلگت بلتستان کو عوام میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں مختلف علیحدگی کی تحاریک چل رہی مگر گلگت، بلتستان وہ واحد علاقہ ہے جو پاکستان میں مکمل شمولیت کی تحریک چلا رہا۔ مگر افسوس کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کو احساس نہیں۔ “

جاوید سحر گفتگو میں مزید حصہ ڈالتے ہوے کہتے ہیں :

” میں نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے مقبوضہ کشمیر میں عام شہریوں کو فوج کے ہاتھوں رسوا ہوتے دیکھا ہے ساٹھ سال کے بوڑھے کو اپنی ہی زمین پہ کان پکڑے دیکھا ہے وہ اپنی زمین پہ محکوم ہیں اور فوج حاکم۔ وہ علاقے جو حکومت کی طرف سے بہت فسلیٹیٹو بھی ہیں وہاں کے لوگ بھی مکہ مدینہ کے بعد پاکستان کو مقدس اور اہم جانتے ہیں مگر اپنے وطن، اپنے کشمیر کو خود مختار دیکھنے والا طبقہ کم نہیں ہے جس کو دونوں حکومتیں نظر انداز کررہی ہیں۔ “

وہ برملا اعتراف کرتے ہیں کہ ”آزاد کشمیر میں پاکستانی فوج کے بغیر ہم ایک دن بھی آرام سے نہیں گزار سکتے ہم ہر حادثے، شورش اور جنگ کا ہراول دستہ ہیں اور سینے پہ گولی کھاتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی نسبت ہمیں اپنی فوج سے کوئی مسئلہ نہیں ہم یہاں سکون اور آرام سے زندگی بسر کررہے ہیں، ہم پر امن اور محبت کرنے والے مہمان نواز لوگ ہیں، یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ “

آپ نے دیکھا، سنا؟ کشمیری کیا کہتے ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں، آپ کیا چاہتے ہیں : کشمیر۔ یا کشمیری؟ کشمیریوں کو جیت لیجیے کشمیر کا نظریاتی جغرافیائی الحاق آپ کے ساتھ ہے وہ خود بخود آپ کو مل جائے گا۔ کشمیریوں کو کھو کر ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔ پہل آپ کر لیجیے اس سے پہلے کہ مودی کی فاشسٹ حکومت آبادی کا تناسب بدل کر آپ کو استصواب رائے پہ لے کر آئے اور آپ کے ہاتھ سے ساری چڑیاں اڑ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •