کیا آپ نے کبھی ماں کے دل میں جھانکا ہے؟
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
ہما دلاور صاحبہ !
پہلے تو میں آپ کو ایک ایسا جامع اور پر مغز مامتا نامہ لکھنے پر مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں آپ نے نہ صرف اپنا مسئلہ بیان کیا ہے بلکہ ایسی تمام مہاجر مائوں کے جذبات کی ترجمانی بھی کی ہے جو مشرق سے مغرب میں آ بسی ہیں۔
میری نگاہ میں ماں بننا دنیا کا مشکل ترین کام ہے امریکہ کا صدر بننے سے بھی زیادہ مشکل کیونکہ صدارت کی ذمہ داریاں تو چار سال بعد ختم ہو جاتی ہیں لیکن محبت کرنے والی ماں کی ذمہ داریاں ساری عمر رہتی ہیں۔
جب آپ کی بیٹی نوزائدہ تھی تو آپ ’پہلی بار بننے والی بہت سی مائوں’ کی طرح قدرے over protective تھیں اور اسے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاتھوں کی آلائشوں سے بچانا چاہتی تھیں لیکن آپ نے اس کا نتیجہ دیکھا کہ آپ کی بیٹی کو اپنا ایمیون سسٹم immune systemبنانے میں قدرے دیر لگی۔ اب آپ اپنی بیٹی کو اس کے ماحول کی نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی آلائشوں سے بچانا چاہتی ہیں۔ آپ کے خط کے اتنے پہلو ہیں کہ ان کے جواب میں بہت سے خطوط لکھے جا سکتے ہیں۔ اس خط میں میں آپ کی خدمت میں چند بنیادی اصول پیش کرنا چاہتا ہوں۔
پہلا اصول یہ ہے کہ ہر بچہ اپنی جداگانہ فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ کے چار بچے ہوتے تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ وہ آپ کے بچے ہونے کے باوجود کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ آپ کی صرف ایک بیٹی ہے اور وہ بھی ایک فنکارہ ہے اور باقی شاعروں’ ادیبوں اور فنکاروں کی طرح ایک غیر روایتی شخصیت کی مالک ہے۔ چونکہ اس کے دونوں والدین دانشور ہیں اس لیے اسے creativity ورثے میں ملی ہے۔ ایسے بچے ہر اصول’ ہر قانوں اور ہر روایت کو چیلنج کرتے ہیں۔ میرے دو اشعار ہیں
نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے
ہمارے بچے نیا ان نصاب چاہیں گے
حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا
ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے
دوسرا اصول کنفیوشس کا سنہری اصول ہے کہ دوسروں سے ویسا ہی سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے کہ وہ تم سے کریں۔ میں بچوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ دوسروں کا احترام کریں گے تو وہ بھی آپ کا احترام کریں گے اور بزرگوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے اور نوجوان آپ کا احترام کریں تو آپ بھی ان کا احترام کرنا چاہیے۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ بچے لفظوں سے زیادہ اعمال سے سیکھتے ہیں۔ اگر ایک باپ اپنی بیوی کی ہر روز تذلیل کرتا ہے تو وہ کس منہ سے بیٹی سے کہہ سکتا ہے کہ اپنی ماں کی عزت کرو۔ اور اگر کہے گا بھی تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
ہما دلاور صاحبہ !
میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ اپنی بیٹی سے ایسا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے دکھ اور اپنے سکھ اپنی خوشیاں اور اپنے غم، اپنے آدرش اور اپنے خواب آپ سے شیر کرے اور آپ سے مشورہ مانگے۔
میری بھانجی وردہ، میرا بھانجا ذیشان اور میری منہ بولی بیٹی ایڈرئینا مجھ سے مشورہ مانگتے ہیں۔ اور میں یہ بھی امید نہیں رکھتا کہ وہ میرے مشورے پر عمل کریں۔ اس طرح وہ مشورہ مانگنے کے لئے آزاد اور مشورے پر عمل کرنے کے لیے بھی آزاد۔
میں ایسے مشرقی بزرگوں کی طرح نہیں جو اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی عقلمند اور نوجوان نسل کو کچھ زیادہ ہی کم عقل اور ناتجربہ کار سمجھتے ہیں اور ہر وقت انہیں پند و نصائح کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
وہ نہیں جانتے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
آپ مجھ سے عمر میں بہت چھوٹی ہیں لیکن میں آپ کو اپنا دوست سمجھتا ہوں کیونکہ میں محبت کی عقیدت سے زیادہ عزت کرتا ہوں عقیدت فاصلے بڑھاتی ہے اور دوستی فاصلے کم کرتی ہے۔
میں نوجوانوں سے ہمیشہ کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہوتا ہوں کیونکہ ان کے ذہن میں نئے سوال ہوتے ہیں اسی لیے وہ مجھ سے بھی کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
علم آگہی اور دانائی دو طرفہ ٹریفک ہیں یک طرفہ نہیں۔
کسی دانشور نے کہا تھا
HUMAN MINDS ARE LIKE PARACHUTES, THEY WORK ONLY WHEN THEY ARE OPEN
آپ سے رخصت لینے سے پہلے میں آپ سے اپنی نظم شیئر کرنا چاہتا ہوں جو میں نے کئی سال پیشتر لکھی تھی۔
دو آوازیں
پہلی آواز
مہاجروں کے گھروں میں ہر دم
بہت سے ماں باپ مدتوں سے
خلوصِ دل سے یہ سوچتے ہیں
ہماری تہذیب مٹ رہی ہے
زباں ہماری بدل رہی ہے
ہماری اقدار مٹ رہی ہیں
ہمارے ماضی کا بوجھ ہم کو
بہت پریشان کر رہا ہے
تو ایسے حالات میں یہاں پر
ہمارے بچوں کا کیا بنے گا؟
٭٭٭
دوسری آواز
تمام ماں باپ یاد رکھیں
کہ اپنے بچوں کی بہتری گر وہ چاہتے ہیں
انہیں وہ لختِ جگر سمجھتے پکارتے ہیں
تو ان کے ذہنوں کی وسعتوں کا خیال رکھیں
اور ان کی جاں کی نزاکتوں کا خیال رکھیں
کبھی نہ بچوں پہ اپنے ماضی کے مسئلوں کا وہ بوجھ ڈالیں
جو ان کی جانیں اٹھا نہ پائیں
نئے چمن کی نئی ہوا ہے
نئے سفر کے نئے مسائل
نئی زباں کے نئے تقاضے
رکاوٹیں راستوں میں حائل
اسی میں سب کا بھلا ہو شاید
ہم اپنے بچوں کو زندگی کے نئے تقاضوں سے کھیلنے دیں
اور ان کے پرشوق حوصلوں کو
دعائیں دے کر خلوصِ دل سے سکونِ دل سے قبول کر لیں
اور اپنے بچوں پہ مل کے سب اعتماد کر لیں
آپ کے اگلے مامتا نامے کا انتظار رہے گا۔ آپ کا دوست، خالد سہیل


