کشمیر اور اصحابِ شعر و ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے

اقبال ؒ کا یہ شعر ایک جہانِ معنی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان جب مبارزت آرائی ہوئی توقوم نے اسی فکر سے توانائی لے کر تاریخ رقم کردی۔ 65 ء کا معرکہ ہو یا دیگر مواقع، پاکستانی اہلِ قلم نے بھی اقبالؒ کی اس تابندہ روایت کی پیروی کی۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ اہل فکر اور اہل قلم ہی ہوتے ہیں جو آزمائش کے مواقع پر قوموں کے جسم و جا ں میں جذبے کی روح بیدار کر کے معجزوں کی راہ ہموار کردیتے ہیں۔

بعضے کہا جاتا ہے کہ پاکستانی اہلِ قلم نے اپنے اس فرض سے پہلو تہی کبھی نہیں کی سوائے مسئلہ کشمیر کے۔ پروفیسر فتح محمد ملک کے تجزیے کے مطابق مسئلہ کشمیر سے پاکستانی ادیب کی پہلو تہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ تحریک آزادیِ کشمیرایک مسلم جدوجہد ہے اور ہمارا دانش ور کسی ایسی تحریک کی پشت پناہی کر کے خود پر بنیاد پرستی کا ٹھپا لگانا نہیں چاہتا۔ پروفیسر صاحب کی تشخیص بہت حد تک حقیقت کے قریب ہے۔ ماضی قریب میں کشمیر کی تحریک آزادی کو جب جہاد کا عنوان ملا اور اس میں وطنِ عزیز کی بعض سیاسی اور مذہبی قوتوں کی کارفرمائی بہت نمایا ں ہوگئی تو اس کے اثرات تحریک آزادی کے بعض دیگر پہلووں پر پڑے، وہیں اہلِ دانش نے بھی اس کا اثر قبول کیا، یوں حقِ خود ارادی کے حصول کی اس عظیم جدوجہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

اس روّیے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران میں ہمارے تعلیمی نظام میں کچھ ایسے عناصر کی کارفرمائی میں اضافہ ہوا ہے جن کی وجہ سے نئی نسل میں قومی شعور میں ضعف پیدا ہوا اور نئی نسل نے اپنی شناخت کو اپنے جغرافیے کے ساتھ منسلک کرنے کے بجائے بین الاقوامیت پر زور دیا۔ ایسے لوگوں سے جب قومی غیرت اور قومی مقاصد کی بات کی جائے تو جواب میں بتایا جاتا ہے کہ چونکہ یہ بین الاقوامیت کا زمانہ ہے، اس لیے اب پرانی سوچوں کو تبدیل کردینا ہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔

ایسے لوگ زیادہ نہیں ہوتے لیکن چونکہ ان کا تعلق معاشرے کے آسودہ اور با اثر طبقات سے ہوتا ہے، اس لیے وہ رائے عامہ پر دوسروں سے بڑھ کر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس انداز فکر نے بھی کشمیر کی جدوجہد کو متاثر کیا ہے لیکن 5 ؍ اگست کو جب بھارت نے کشمیر کو تقسیم کرکے وہاں کئی غیر معمولی انتظامی تبدیلیاں کیں تو جہاں پاکستانی قوم کے مختلف طبقات میں اس کے بارے میں ردعمل پیدا ہوا، وہیں پاکستانی ادیب بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انھوں نے اپنے اپنے انداز میں اس معاملے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

اس مرحلے پر حکومت کی زیر نگرانی کام کرنے والا ادیبوں کا ادارہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان بھی متحرک ہوا اور اس نے اہلِ کشمیر پر ہونے والے تاریخ کے بدترین ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے یہ قومی پلیٹ فارم انھیں مہیا کردیا، اس طرح کم از کم اس مرتبہ تو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ادیب پاکستان کی شہ رگ یعنی کشمیر کے بارے میں حساس نہیں ہیں۔ اس اہم قومی مسئلے پر بروقت متحرک ہونے پر پاکستانی ادیب، اکادمی ادبیات کے ذمہ داران اور وزارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ بھی مبارک باد کا مستحق ہے۔

یہ حسن ِاتفاق بھی خوب ہے کہ پاکستانی ادیبوں کا یہ ادارہ جس وزارت کے تحت کام کررہا ہے، اس کے سربراہ یعنی شفقت محمود کا شمار بھی اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کے معاملات کو ایک روایتی سیاست داں کی بجائے ایک حساس دانش ور کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح اس وزارت کے سیکریٹری ڈاکٹر ندیم شفیق ملک بھی ملک کے ممتاز اہل قلم میں سے ایک ہیں، تحریک پاکستان، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ پر ان کی کتابوں کی تعداد اب ایک دو، پانچ سات اور درجن دو درجن نہیں بلکہ سو (جی ہاں ایک سو) کے قریب پہنچ رہی ہے۔

اسی طرح اکادمی کے موجودہ ذمہ دار سید جنید اخلاق اور ڈاکٹر راشد حمید بھی محض بیورو کریٹ اور سرکاری ملازمت کرنے والے لوگ نہیں بلکہ علم وادب سے گہری وابستگی رکھنے والے حساس لوگ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان شخصیات کا یہ اجتماع نہ صرف ادیبوں کے اس قومی ادرے کے لیے مفید اور مبارک ثابت ہوگا بلکہ مسئلہ کشمیر کو نمایاں کرنے میں بھی ممد و معاون ہوگا۔

یہ توقع جائز ہوگی کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے میں ادیبوں کا یہ پہلا اجتماع اس سلسلے میں ایک عظیم ادبی تحریک کی ابتدا ثابت ہوگا۔ شعر وادب کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے میرے ذہن میں کئی تجاویز ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں، مظفر آباد اور گلگت، اسکردو میں ادیبوں کی کانفرنسیں اور مسئلہ کشمیر کے تعلق سے خصوصی مشاعرے منعقد کیے جائیں۔ اس سلسلے کا نکتۂ عروج ایک قومی کانفرنس کی شکل میں سامنے آنا چاہیے۔

اس کے پہلو بہ پہلو عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بین الاقوامی اجتماعات بھی منعقد ہونے چاہئیں۔ تھوڑا ہی عرصہ قبل قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور اسلامی تعاون تنظم (اؤ آئی سی) کے ذیلی ادارے IRCICAکے زیر اہتمام کشمیر کی تہذیب کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک بین الاقومی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس کی مدد سے کشمیر ی تہذیب و ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا بہترین موقع میسر آیا تھا۔ اس کانفرنس میں راقم نے بھی بھارتی مظالم کی وجہ سے کشمیر کے شعر وادب اور دیگر ثقافتی مظاہر کو پہنچنے والے نقصانات پر ایک مقالہ پیش کیا تھا، مجھے فخر ہے کہ میری اس حقیر کوشش کی بہت تحسین ہوئی اور اس مقالے کو متعلقہ موضوع پر پہلی علمی کوشش قرار دیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر کی موجود صورت حال میں خصوصی طور پر شعر و ادب کے تعلق سے ارسیکا کے تعاون سے ایک بین الاسلامی کانفرنس کا انعقاد بہت مفید ہوگا۔ یہ کانفرنس اسلامی دنیا کی رائے عامہ کو متاثر کرکے مختلف اسلامی ممالک کے کی موجودہ پوزیشن میں تبدیلی میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کانفرنسیں پاکستان کے علاوہ اہم اسلامی ممالک کے دارالحکومتوں میں بھی ہونی چاہئیں۔ اسی طرح ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ شعرو ادب کے تعلق سے مزید کئی ایسے اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں جن کی مدد سے نہ صرف پاکستانی قوم میں جوش و جذبے کی ایک نئی روح پھونکی جاسکتی ہے بلکہ دنیا بھرمیں ایک ایسی فضا پیدا کی جاسکتی ہے جیسی الجزائر کی تحریک آزادی کے موقع پر فرانس کے عظیم مفکر اور ادیب سارترنے اپنی روشن ضمیری سے پیدا کردی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •