لیڈر لس مومنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہانگ کانگ میں کچھ دنوں سے بڑے پیمانے پر چائنہ سے علیحدگی کے لیے اجتجاج جاری ہے۔ یہ انتہائی منظم اور باوقار احتجاج ہے۔ ان مظاہروں میں اکثریت سٹوڈنٹس کی ہے۔ ہانگ کانگ کو برطانیہ نے داخلی خود مختاری برقرار رکھتے ہوئے پچاس سال کے لیے چائنا کے حوالے کیا تھا۔ مظاہروں کی وجہ ایک قانون بنا۔ جس کے تحت ہانگ کانگ میں سنگین الزام کے ملزمین کا مقدمہ چائنہ کی عدالت میں چلایا جا سکتا ہے۔

مظاہروں کا پلیٹ فارم سوشل میڈیا ہے۔ اس لیے حکومت سوشل میڈیا کے اکاونٹس کی چھان بین کر رہی ہے۔ ہزاروں لوگوں نے اپنے آئی ڈیز سسپنڈ کر دیے ہیں۔

ان مظاہروں کی ایک خاص بات حسن انتظام اور باوقار و با اخلاق ہونا ہے۔ ابھی چند دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح ہزاروں کا مجمع ایمبولینس کو راستہ دیتا ہے اور دوبارہ منظم ہو جاتا یے۔ مظاہروں کی وجہ سے فلائٹس بند ہوئیں۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان تلخی بھی ہوئی۔ اس کے بعد مظاہرین نے ائیر پورٹ پر احتجاج ختم کیا اور پلے کارڈز اٹھا کر ائیر پورٹس کے باہر کھڑے ہو گے جن پر درج تھا

” پیارے سیاحو کل ( منگل ) یہاں جو ہوا ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ہم سے جلد بازی میں کچھ ناپختہ فیصلے ہوئے۔ ان پر ہمیں انتہائی افسوس ہے“۔

” دوستو ہم نوعمر ہیں اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو دل بڑا کر کے درگزر کر دیں“۔

یہ اکیسویں صدی کے مظاہرے ہیں۔ ان میں آپ کو تہذیب بھی نظر آئے گی اور ادب بھی۔ آئیندہ دنوں میں پاکستان میں بھی آپ کو مظاہرے نظر آئیں گے۔ عوام سڑکوں پر ہو گی۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہماری لیڈر شپ کیسے مظاہروں کو منظم اور پر امن رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ لیڈر لس leaderless مظاہرین سے سیکھنے کے لئے ہمارے پاس بہت کچھ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •