خواب غفلت میں سوئے ہوئے مومنو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان زندگی میں مختلف دور سے گزرتا ہے۔ کبھی اس پر حالات آتے ہیں جو بہت کچھ سیکھا کر جاتے ہیں۔ کون اپنا ہے کون پرایا برے، مشکل، پریشان حالات میں سب عیاں ہوجاتا ہے۔ ویسے تو زندگی کے شب و روز یونہی چلتے رہتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے پھر شام ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ کسی کیلے تھم نہیں سکتا ہے۔ زندگی بہت قیمتی اور مختصر ہے انسان اسے خوشیاں سے لبریز دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہر ہر لمحے کو انجوائے کرنا چاہتاہے۔ لیکن اگر زندگی میں خوشیا‌ں ہی بھر دی جائے سب کچھ حاصل ہو جائے تو انسان کا نفس خواہشات کی طرف چل پڑتا ہے۔

اس کے دل میں نفسانی خواہشات دن بہ دن بڑھتی جاتی ہے۔ دنیا کی محبت عیش و آرام کی زندگی کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود بھی اپنے اندر کسی چیز کی کمی کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ دنیا کی تمام خوشیوں کی تکمیل کے لئے وہ کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ سکون قلب کی خاطر کبھی شراب نوشی کا سہارا لیتا ہے، کبھی رات رات بھر عیاشیوں میں گزار دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کا عادی ہوجاتا ہے۔ لیکن پھر بھی دل ہے کہ سکون سے خالی ہوتا ہے۔

انسان کے پاس تمام لوازمات کے ہونے کے باوجود اگر سکون میسر نہیں تو اس کی دولت و ثروت کس کام کی ہے۔ عمر بھر سکون کی تلاش میں در بدر بھٹکنے کے بعد بھی شب و روز وہ ہی وقتی لذت کو حاصل کرنے میں گزارتا رہتا ہے۔ لیکن وقتی لذت ختم ہوتے ہی پھر وہی بے قراری، بے سکونی، بے چینی پیدا ہوجاتی ہے۔ سکون کی تلاش رہتی ہے۔ یہاں ایک بات یہ ہے کہ انسان کو سمجھنا چاہیے کہ اس کی روح کی غذا کیا ہے۔ اس کی جسمانی ضروریات تو پوری ہورہی ہے، تمام خواہشات پوری ہورہی ہے پھر بھی اندر خلا محسوس ہوتا ہے، تو اس کے جسم میں موجود روح کی غذا کی کمی ہے۔

جس سے قلبی سکون وابستہ ہے۔ حالات اور پریشانیوں کا شکار ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کی نشانی ہے۔ کہ وہ اسے دنیا کی چھوٹی چھوٹی مشکل و پریشانی سے دوچار کرکے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ دنیا کی عارضی خوشیوں سے نکال کر ابدی سکون و راحت، فتح نصیب کرنا چاہتا ہے۔

کیونکہ کسی چیز کو تخلیق کرنے والا اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ جس چیز کو بنایا گیا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے اس کیلے کیا بہتر ہے۔ کیا اچھا ہے، کیا ضروری ہے۔ اسے کس طرح سے تحفظ فراہم کرنا چاہیے، اسے کن چیزوں سے دور رکھنا چاہیے۔ ان تمام باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جب انسان کو پیدا کیا گیا تو اس کے جسمانی خواہشات کی تکمیل کا سامان بھی دنیا میں رکھا گیا۔ لیکن اس سے فائدہ اس وقت اٹھا سکتا ہے جب وہ فطری طور پر حلال طریقے سے انجام دی جائے۔

ناکہ جانوروں کی طرح بے حیائی کا کام کرتے ہوئے پورا کریں۔ اسی لیے اللہ تعالٰی انسان کو مختلف حالات اور پریشانیوں سے دوچار کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائے۔ جب قلبی سکون کی تلاش میں انسان دنیا بھر کی چیزوں کو حاصل کرتا ہے۔ لیکن پھر اندر کی بے چینی ختم نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے حالات آتے ہیں۔ اور بھر انسان اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور اللہ اس کے لئے راستے ہموار کرتا چلا جاتا ہے۔ اپنے بندے کو اپنی طرف لوٹتے دیکھ کر ا سکا استقبال کرتا ہے۔

کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعد ایک لا محدود زندگی ہے۔ جو کبھی ختم نہیں ہونے والی ہے۔ اس زندگی میں اپنے بندے کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔ جو ابدی سکون کا باعث ہے۔ اور سکون تو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہے۔ جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے گا انسان اللہ تعالیٰ مقرب بنتا جائے گا۔ اور قلبی سکون و راحت نصیب ہوگی۔

اگر یہاں کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور پریشانیوں کو تقدیر اور اللہ پر یقین رکھتے ہوئے صبر کرلیا جائے تو یہ بہت سستا سودا ہے۔ کیونکہ آخرت میں فاقہ کش، غریب مسکین کے مقابلے میں امیروں، مالداروں سے 5 سو سال پہلے جنت میں داخل ہوگے۔ انسان آخرت میں یہ خواہش کرے گا کہ دنیا میں اس کی زندگی غربت میں بسر ہوجاتی تو آخرت میں اسے حساب و کتاب نہ دینا پڑتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کا اللہ حساب و کتاب لینے پر آجائے وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اس لیے یہ دعا مانگی جاتی ہے ‌۔ اللہ بغیر حساب و کتاب کے اپنی رحمت سے جنت میں داخلہ نصیب فرما۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •