فشادیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کی شادی کیسے چل رہی ہے؟ ابھی تک آپ کی شادی نہیں ہوئی؟ اِن میاں بیوی کی تو آئے دن لڑائی ہوتی ہے! اس طرح کے ابتدائی اور بظاہر بے ضرر جملے ہماری محفلوں میں مذید سیر حاصل گفتگو کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پھر اس گفتگو میں تمام تحقیقی اور غیر حقیقی پہلوؤں سے غور و فکر کیا جاتا ہے اور آخر میں چند نتائج مرتب دے کر گفتگو کو عارضی طور پر سمیٹا جاتا ہے۔

شادی شدہ لوگ دوسروں کی شادی سے پہلے اور بعد کے معاملات میں اتنی دلچسپی شاید اس لئے لیتے ہیں کہ اُن کی اپنی شادی میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں شادی کرنا نہایت ہی ضروری سمجھا جاتا ہے چاہے کتنا ہی غیر ضروری کیوں نہ ہو۔ ہر کوئی شادی کرتا اور کرتی ہے اور پھر بقیہ عمر دونوں مل کے شادی کرنے کے فیصلے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، ہر چند اس جدوجہد میں یعنی شادی سے پہلے اور بعد میں پیش آنے والے حالات کے بنانے، بگاڑنے اور سنوارنے کی جدوجہد میں، دونوں کے خاندان بھی ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔

شادی شدہ لوگ نئی شادی کرنے والوں کی تقریبات میں ہنس ہنس کے شریک ہو رہے ہوتے ہیں گویا دو معصوم جانوں کو شادی کلب میں ویلکم کہہ رہے ہوں اور خود ہیں کہ اس کلب سے نکلنے کو بیتاب ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کوئی کسی کو بتاتا نہیں ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ نہ شادی کرنے والے پوچھتے ہیں کہ شادی کی طرف راغب کرنے والوں کی اپنی شادی کیسے جا رہی ہے۔ شادی کرنے والوں کو کوئی سوچنے کا موقع بھی نہیں دیتا اور بس جلدی سے شادی کر دی جاتی ہے۔ اور موقع ہو بھی تو سوچنے کی فرصت کس کو ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ شادی اس لئے کی جا رہی ہے کہ شادی کرنی ہوتی ہے اور بس۔

اور ماں باپ کو دیکھئے کیسے حسرت بھرے لہجے میں کہتے ہیں بس چھوٹی کے ہاتھ پیلے ہو جائیں، بس بیٹے کے سر پر سہرا دیکھ لوں۔ جونہی شادی کرنے کی طرف معمولی سی پیش رفت ہوتی تو اُس معمولی سی پیش رفت کو سُرعت کے ساتھ ایک پراجیکٹ کی شکل دے دی جاتی ہے مُبادا لڑکا یا لڑکی چُوک جائیں۔ اس پراجیکٹ کو سائنسی بنیادوں پر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے، گھر اور خاندان بھر کے تمام زندہ افراد اپنی ڈیوٹی آں سبنھال لیتے ہیں البتہ مرحومین محض شادی کارڈ میں کسی جگہ لکھنے کے کام آتے ہیں۔

اوپر سے کسی ستم ظریف نے محبت بھی ایجاد کر رکھی ہے کہ جو عام طریقے سے شادی پر آمادہ نہ ہو اُسے براستہ محبت اس چکر میں ڈال دیا جائے۔ محبت ایسی چیز ہے کہ جس کے ہونے میں عمر پیسہ اور عقل و سمجھ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ آخرالزکر چیز یعنی عقل و سمجھ کی عدم دستیابی محبت کی طرف سرعتاً دھکیلتی ہے۔ مرزا کے مطابق محبت کم عقلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور کسی کم عقل کو آزاد رہنے کا کوئی حق نہیں لہٰذا شادی کر دی جاتی ہے۔

البتہ یہ احتیاط ملحوظِ خاطر رکھی جاتی ہے کہ دونوں یعنی محبت کرنے والوں کی شادی آپس میں نہ کی جائے بلکہ ایسی جگہ کی جائے کہ دونوں کے محلے، گلیاں اور شہر بھی جُدا جُدا ہوں۔ کیونکہ دو محبت کرنے والوں کی جونہی آپس میں شادی ہوتی ہے انہیں عقل آ جاتی ہے۔ اس طرح شادی اور محبت دونوں کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

کماؤ پُوت یا بگڑے ہونے پُوت، دونوں کے حالاتِ حاضرہ میں تبدیلی لئے زمانۂِ قدیم سے شادی ہی تجویز کی جاتی ہے۔ اگر کوئی صاحبزادے مروّج معیار کے مطابق بگڑے ہوئے ہوں تو والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اس کی شادی کر دیں۔ اگر صاحبزادے بگڑے ہوئے نہ ہوں تو بھی یہی مشورہ دیا جاتا ہے۔

محبت کرنے والوں کی آپس میں شادی نہ ہونے کو محبت کی ناکامی کہا جاتا ہے۔ یہ اتنا منافع بخش کاروبار ہے کہ ہماری میوزک اور انڈیا کی فلم انڈسٹری چلتی ہی اسی پر ہے۔ تمام گلوکار اور نغموں کے لکھاری شادی نہ ہونے کی وجہ سے پیش آنے والی تکالیف اور محبت کے دھوکے کو ہی موضوع بناتے ہیں۔ مرزا کہتے ہیں کہ محبت کرنے والے محبت کرنے کے دوران جتنی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں وہ شادی کی تکلیفوں کے مقابلے میں دسواں حصہ بھی نہیں۔

پھر بھی غزلیں لکھنے والے محبت کی تکلیفوں کو ہی موضوع بناتے ہیں شادی والوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ محبت کے دھوکے میں کوئی نہ آئے وغیرہ تو گایا جاتا ہے مگر شادی کے دھوکے میں کوئی نہ آئے نہیں گایا جاتا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا سوچی سمجھی سازش ہے۔ محبت کے دکھوں پر شاعروں اور فنکاروں نے جتنا واویلا مچایا ہؤا ہے اس کی وجہ سے عوام میں کافی آگاہی پھیلی ہے اور صرف ایک فی صد ہی لوگ محبت کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگر شاعر اور فنکار شادی کی تکلیفوں پر بھی توجہ دیتے تو نناوے فیصد لوگ شادی کی پریشانی سے بھی بچ جاتے۔

ایک سروے کے لئے ہمیں ایک ہزار مرد و خواتین کا انٹرویو کرنا تھا سوال یہ پوچھا گیا کہ آپ شادی سے پہلے کیا کرتے تھے یا کرتی تھیں۔ زیادہ مردوں نے اسے ایک بیہودہ سوال قرار دیا اور کوئی جواب دینے سے گُریز کیا۔ کچھ شوہروں نے اُلٹا سوال کر دیا کہ پہلی شادی سے پہلے یا دوسری شادی سے پہلے؟ کچھ مردوں کو یہ یاد ہی نہیں تھا کہ اُن کی زندگی میں شادی سے پہلے بھی کوئی وقت تھا۔ کافی مردوں نے صرف خلا میں گھُورنے پر اکتفا کیا۔ چند دل جلوں نے حیرت انگیز طور پر یہ کہا کہ وہ اہلیہ سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں کہ وہ شادی سے پہلے کیا کرتے تھے۔ ایک شوہر نے جواب دینے سے پہلے اپنی بیگم کی طرف دیکھا اور جواب دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ایک شوہر کی ہچکی بندھ گئی جو بیگم کی ڈانٹ پر ختم ہو پائی۔

سروے میں صرف دو خواتین سے ہی سوال کرنے کی گنجائش پائی گئی۔ البتہ خواتین نے زیادہ مفصل، مدلل اور منطقی جواب دیے۔ مثلاً ایک کافی فربہ ’خواتین‘ نے کہا کہ شادی سے پہلے وہ فارغ رہتی تھیں، بس ماں باپ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی خدمت کرتی تھیں، یہ سارے سیاپے تو شادی کے بعد کے ہیں۔ ’اِن‘ کے ماں باپ نے تو بتایا تھا کہ یہ بہت پڑھے لکھے ہیں اور عمدہ جاب کرتے ہیں۔ یہ تو شادی کے بعد پتہ چلا کہ یہ تو انتہائی نکھٹو اور پرلے درجے کے جاہل ہیں۔

کیا انسان صبح سے شام تک کام کر کے اور چند ڈگریاں لے کر پڑھا لکھا اور محنتی کہلوا سکتا ہے۔ ہمارے خاندان میں تو تہذیب اور شائستگی کو اہمیت دی جاتی تھی جاب اور ڈگریوں کو نہیں۔ میرے سارے بھائیوں نے سکول کا منہ تک نہیں دیکھا مگر وہ بداخلاق نہیں ہیں اور میرے ماں باپ کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ایک میرے شوہر ہیں کہ میری والدہ جو کبھی کبھار ہی ہمارے پاس چار چھ مہینے گُزارنے آتی ہیں تو میرے شوہر دیر سے گھر آنا شروع کر دیتے ہیں۔

بیوٹی پارلر سے واپس آ رہی ایک خاتون نے بپتا سنائی کہ شادی سے پہلے وہ اپنے گھر میں یعنی میکے میں صرف کھانا بنانے کا کام کرتی تھی مگر اب دن بھر ان فضول لوگوں کے لئے کچن میں گُزارنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ساس سسر اور نندوں کی کھانے کی عادات پر بھی روشنی ڈالی اور دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر بتایا کہ وہ لوگ کتنا کھاتے ہیں۔

مغربی دنیا جو کہ بہت ہی ترقی یافتہ ہے شادی کے مسائل سے کما حقہ آگاہ ہے اور شادی کے مسئلے کا حل تلاش کر چکی ہے۔ وہاں کے عوام میں اتنی آگاہی آ چکی ہے کہ لوگ شادی ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو آخری عمر میں کہ کم سے کم نقصان ہو۔ وہاں شادی کے کئی متبادل دریافت ہو چکے ہیں جن سے مرزا آگاہ ہیں مگر بوجوہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے قارئین خود مرزا سے رابطہ کر کے مغربی دنیا میں شادی کے متبادل پوچھ سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •