کشمیریوں کی اذیت، مودی کا شوہدا پن اور وزیراعظم کا خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیرکی صبح اُٹھ کر حسبِ عادت یہ کالم لکھنے سے قبل اخبارات کی سرخیوں پر نگاہ ڈالی تو اطلاع ملی کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب اس روز کی سہ پہر قوم سے خطاب فرمائیں گے۔ اس خطاب کے لئے ساڑھے پانچ بجے کا وقت طے ہوا تھا۔ قوم سے خطاب کے لئے انتہائی ہنگامی حالات کے علاوہ ایسا وقت مختص نہیں کیا جاتا۔ کوشش ہوتی ہے کہ شام کے آٹھ سے نو بجے کے درمیان کے 30منٹ چنے جائیں۔ روزمرہّ زندگی کے معمولات سے فارغ ہوکر زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر حکومتی سربراہ کے خطاب کو غور سے سن پائیں۔

ٹی وی چینلوں کے فروغ کے بعد شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان لمحات کو ترجیح دینے کی روایت متعارف ہوئی۔ اس کی بدولت رات بارہ بجے تک جاری ٹاک شوزکے اینکر خواتین وحضرات ’’قوم سے خطاب‘‘ کے دوران اٹھائے موضوع پر توجہ دینے کو مجبور ہوئے۔ ٹاک شوز کی ’’افادیت‘‘ نے بتدریج ایسے خطاب کے لئے شام کے ساڑھے چھ بجے کو بہتر وقت قرار دیا۔

ساڑھے پانچ کے انتخاب نے مجھے سوچنے کو مجبور کیا ۔ دو کے ساتھ دو کو جمع کرکے چار نکالنے والی منطق استعمال کرتے ہوئے میں نے اپنی سہولت کے لئے یہ فرض کرلیا کہ وزیر اعظم صاحب نے فرانس میں پیر کے روز ہونے والی ٹرمپ-مودی ملاقات کے اختتام کے فوری بعد قوم سے خطاب کرنے کا ارادہ باندھا ہے۔

ہمارے کئی جید صحافی جنہیں ریاستی ایوانوں تک مؤثر رسائی حاصل ہے گزشتہ چند دنوں سے اپنے کالموں، ٹی وی شوز اور ٹویٹس کے ذریعے ہمیں یہ امید دلارہے تھے کہ کشمیر کے بارے میں ’’اچھی خبریں‘‘ آنے والی ہیں۔’’ذرائع‘‘ کی بدولت انہیں غالباََ بتایا گیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکی صدر مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے مسلط ہوئے لاک ڈائون کے بارے میں تشویش کا اظہار کرے گا۔ نریندرمودی سے یہ وعدہ کروایا جائے گا کہ وہ ’’انسانی حقوق‘‘ کی خاطر تھوڑی نرمی دکھائے۔

ذاتی طورپر میرا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ موجودہ امریکی صدر ’’انسانی حقوق‘‘ نامی کسی شے سے واقف ہی نہیں۔اپنے ہی ملک کے صحافیوں کو ’’عوام دشمن‘‘ قرار دیتا ہے۔امریکی کانگریس کے لئے باقاعدہ منتخب ہوئی دو مسلم خواتین کو اسرائیل کا ویزا ملنے پر ناراض ہوجاتا ہے۔اپنے جلسوں میں ان کے خلاف Go Back یعنی اپنے (آبائی) ملک واپس جائو کے نعرے لگواتا ہے۔ میں اس سے مقبوضہ کشمیر میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی پائمالی کے بارے میں فکرمندی کی ہرگز امید نہیں رکھتا۔

سفارت کاری کے تقاضوں کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے البتہ میں نے اس حقیقت کو ذہن میں رکھا کہ ڈونلڈٹرمپ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کو بے چین ہے۔اسے گماں ہے کہ اٹھارہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا بندوبست اسے 2020 کا صدارتی انتخاب جیتنے میں بے پناہ آسانی فراہم کرے گا۔ٹرمپ پاکستان کی بھرپور معاونت کے بغیر افغانستان میں اپنی پسند کا امن قائم ہوتا دکھا ہی نہیں سکتا۔مودی سرکار نے مگر 5 اگست کے روز بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ اس کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لئے وادیٔ کشمیر کو ایک وسیع وعریض جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پاکستان کشمیریوں پر مسلط ہوئے عذاب کو نظرانداز کرہی نہیں سکتا۔ ہماری ’’شہ رگ‘‘ کو جبر کے دبائو میںرکھتے ہوئے اس توجہ کی امید نہ باندھی جائے جو امریکہ کو افغانستان کے ضمن میں ہم سے درکار ہے۔

خالصتاََ افغانستان سے جڑے حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں یہ باور کرنے کو مجبور ہوگیا کہ مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران امریکی صدر مقبوضہ کشمیر کے ضمن میں ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کی درخواست کرے گا۔مودی نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس وعدہ نہ بھی کیا تو ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کا بھرپور انداز میں ذکر ہماری سفارتی کامیابی تصور ہوگا۔ غالباََ اسی کامیابی کی امید میں عمران خان صاحب کے قوم سے خطاب کے لئے ساڑھے پانچ بجے کا وقت متعین ہوا۔

پیر کی سہ پہر بالآخر مودی-ٹرمپ ملاقات ہوگئی۔ 45 منٹ تک جاری رہی اس ملاقات کے اختتام پر ہمیں ٹرمپ کے منہ سے وہ الفاظ سننے کو ہرگز نہیں ملے جن کی ہمیں امید تھی۔ اس نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کا باہمی قضیہ قرار دیا اور اطلاع یہ بھی دی کہ بھارتی وزیر اعظم نے اسے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات اس کے ’’کنٹرول ‘‘ میں ہیں۔

امریکی صدر کے بائیں ہاتھ بیٹھے نریندرمودی نے ہندی زبان میں سوالات کے جواب دئیے۔ ایسا کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے یہ حقیقت بھی رعونت سے نظرانداز کردی کہ وہ جو بات کررہا ہے اسے ترجمہ کے ذریعے ٹرمپ کے کان تک نہیں پہنچایا جارہا۔اس کی ہندی سے پریشان ہوکر ٹرمپ نے برجستہ فقرہ کسا کہ He Speaks Very Good English۔ مودی بجائے شرمسار ہونے کے اس فقرے سے بہت خوش ہوا۔ٹرمپ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر دوستانہ چپت لگائی۔اس چپت کی بدولت ٹرمپ اور مودی محلے کے کسی تھڑے پر بیٹھے ’’جگری یار‘‘ نظر آئے۔بھارتی وزیر اعظم نے امریکی صدر کے ساتھ اپنی بے تکلفی کو پنجابی زبان والے ’’شوہدوں‘‘ کی طرح آشکار کیا۔ اس کی سینہ پھیلائی اِتراہٹ دیدنی تھی۔ میں اسے دیکھ کر پریشان ہوگیا۔

میرے دل خوش فہم نے اس کے باوجود یہ امید باندھ لی کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب اپنی تقریر میں مودی-ٹرمپ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے 22جولائی کو وائٹ ہائوس میں ہواثالثی کا وعدہ ضرور یاد دلائیں گے۔

گزشتہ 20 دنوں سے میں نے ایک لمحے کو بھی ٹی وی نہیں دیکھا تھا۔ مودی-ٹرمپ ملاقات کا احوال اپنے سمارٹ فون کی بدولت دیکھنے کے بعد ریموٹ اٹھانے کو مجبور ہوگیا۔عمران خان صاحب کے خطاب کو اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے بہت توجہ سے سنا۔مزید مایوسی ہوئی۔جی واقعتا گھبراگیا۔

بنیادی پیغام مجھے یہ ملاہے کہ کشمیریوں پر مسلط ہوئی اذیت کے ازالے کے لئے ہمیں ستمبر کی 27 تاریخ تک انتظار کرنا ہوگا۔ اس روز ہمارے وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ان سے ایک روز قبل وہاں مودی کی تقریر ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی تقاریر کے بعد مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بارے میں پیش ہوئی کسی قرارداد کی ووٹنگ کے ذریعے منظوری نہیں ہوناہے۔ محض تقاریر ہوں گی۔

کشمیریوں پر نازل ہوئے عذاب میں فی الحال کمی فقط امریکی دبائو کی بدولت ہی لائی جاسکتی تھی۔ٹرمپ کے پاس ہر صورت یہ قوت موجود ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی معاونت کو یقینی بنانے کے لئے بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کم از کم ’’لاک ڈائون‘‘ میں تھوڑی نرمی لائے۔ کشمیر میں زندگی ذرا ’’معمول‘‘ کے مطابق ڈھلتی نظر آئے۔ چند ہنگامے بھی ہوجائیں۔ احتجاجی مظاہرے کسی صورت جاری رہیں تو امریکی دبائو کے تحت ستمبر کے مہینے میں مودی-عمران ملاقات کا بندوبست بھی ہوسکتا تھا۔

ٹرمپ نے مگر مودی کے اس دعویٰ پر اعتبار کرلیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارت کے ’’قابو‘‘ میں ہیں۔ حالات پر اگر نئی دہلی کا کنٹرول ’’برقرار‘‘ ہے ۔ وہ قابو سے باہر جاتے نظر نہیں آرہے تو ٹرمپ اس ممکنہ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ 5 اگست والے بھارتی اقدام کو بلکہ بآسانی ہضم کرلے گا۔پاکستان کو بھی ’’حقیقت پسند‘‘ رویہ اختیار کرنے کو مجبور کیا جائے گا۔

وطنِ عزیز کے بے شمار ’’حقیقت پسند‘‘مفکرین بہت تواتر سے ان دنوں پاکستانی معیشت کی زبوں حالی کا ذکر فرمارہے ہیں۔اس کی روشنی میں جنگ سے گریز کی تلقین ہورہی ہے۔ ’’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ والا مصرعہ بھلادیا گیا ہے۔ FATF کی جانب سے لہرائی تلوار کے تذکرے بھی ہیں۔’’وقت اچھابھی آئے گا‘‘کی امید دلاتے ہوئے ’’غم نہ کرزندگی پڑی ہے ابھی‘‘ والا ماحول بنایا جارہا ہے۔

حالات سے بہت مایوس ہوا میں بدنصیب خود کو فی الوقت عمران خان صاحب کے خطاب پر غیر جانب دارانہ تجزیے کے قابل محسوس نہیں کررہا۔ صرف یہ حقیقت یاد دلاتے ہوئے یہ کالم ختم کرنا ہوگا کہ بوسنیا کی آزادی’’بین الاقوامی رائے عامہ‘‘ کی بدولت نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے وزیر اعظم یہ بات فراموش کرگئے کہ امریکہ کا ایک کلنٹن نامی صدر ہوا کرتا تھا۔اس نے سربیا کی نسل پرست حکومت کو فضائی بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے بندے کا پتر بننے کو مجبور کیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •