یہ اندھا قانون ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”پلیز میری ماں کو بلا دو۔ میرے بابا کو بلا دو۔ مجھے مت مارو۔ چھوڑ دو مجھے گھر جانے دو۔ مجھے بہت درد ہورہا۔ میری ماں میرا انتظار کررہی ہوگی۔ میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ مجھے اور نہ مارو۔ بس کر دو میں ہاتھ جوڑتا ہوں۔ “

یہ وہ آخری الفاظ تھے 15 سالہ نوعمر بچے ریحان کے جسے گزشتہ دنوں بہادرآباد کے علاقے میں چوری کے الزام میں ”مہذب شہریوں“ نے بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے موت کی نیند سلادیا۔ وہ رو رو کر تشدد کرنے والے افراد سے ہاتھ جوڑ کر التجائیں کرتا رہا۔ مگر میرے دیس کے مہذب معاشرے کے باعزت شہری درندوں کا روپ دھار چکے تھے۔ وہ نہتے ریحان کو رسیوں سے باندھ کر اس پر بدترین تشدد کررہے تھے۔ کوئی اس کو مکے اور لاتیں مار رہا تھا۔ تو کوئی اس کے سر اور کمر پر ڈنڈوں کا وار کررہا تھا۔

اور وہ کمسن بچہ درد سے چلا رہا رہا تھا۔ اور بری طرح روئے جارہا تھا۔ وہیں کسی اکھاڑے کے پہلوان کو خیال آیا اور اس نے آواز لگائی، ”اس چور کی پتلون اتارو اس کو برہنہ کردو۔ “ تو وہاں موجود لوگ تیزی سے زخمی ریحان کی طرف لپکے اور اس کی پینٹ اتار کر اس کو برہنہ کردیا۔ اور پھر ایک نہ تھمنے والا ڈنڈوں اور پتھروں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ میرے وطن کے اعلیٰ با وضع شہری اور خود ساختہ ریاست مدینہ کی رعایا خاموشی سے یہ منظر دیکھ کر محظوظ ہورہی تھی۔ اور کم سن ریحان کی چیخ و پکار پر قہقہے لگا رہی تھی۔ خود ساختہ ریاست مدینہ کے اکثر شہری ہاتھ میں موبائل تھامے اس دردناک منظر کی ویڈیو یہ سوچ کر ریکارڈ کر رہے تھے کہ ان مناظر کو وائرل بھی تو کرنا ہے۔

یہ ہے میرے دیس کا جنگل کا قانون۔ یہ ہے خود ساختہ ریاست مدینہ کا ظالمانہ نظام جہاں طاقتور ہمیشہ کمزور پر وار کرکے خود کو تیس مار خاں سمجھتا ہے۔ جہاں مرغی و انڈے کے چور کے لئے سزائے موت مقرر ہے، مگر قومی خزانے کے اربوں روپے لوٹنے والے حکمرانوں کو یہ قوم سر پر بٹھاتی ہے ان کی مجرمانہ سرگرمیوں پر ان کی حمایت کرتی ہے۔ ان کی وکالت کرتی ہے۔

تہتر سال سے ہر آمر و جمہوری حکمران میرے دیس کی غریب اور مظلوم عوام کو چونا لگا رہا ہے۔ ان کے خون پسینے کے محصولات کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہا ہے۔ ان کی محنت کی کمائی پر اپنے بڑے بڑے محل تعمیر کر رہا ہے۔ اور میرے دیس کے عوام اور باعزت و مہذب شہری ان ہی کرپٹ و جابر حکمرانوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کے کالے کرتوتوں کی بڑھ چڑھ کر وکالت کرتے ہیں۔ اور ہر پانچ سال بعد ان کو ووٹ دے کر ہمارے سروں پر مسلط کردیتے ہیں۔ تب ان میں سے کسی کی اتنی مجال نہیں ہوتی کہ ان کرپٹ و جابر حکمرانوں سے سر اٹھاکر ان کے کالے کرتوتوں پر سوال بھی کر سکے۔ مگر ننھے ریحان جیسے معمولی نہتے مبینہ چوروں پر اپنی پنجہ آزمائی کرتے ہیں۔ اور خود ہی تفتیش کرتے ہیں اور خود ہی انصاف بھی کرتے ہوئے انھیں سزائے موت دے دیتے ہیں۔

کیا ایسے خطرناک جنگلی درندوں کی درندگی روکنے کے لئے اس ملک میں کوئی قانون ہے یا نہیں؟ کیا میرے دیس کے پڑھے لکھے معزز شہری اس قدر بے سنگدل ہوچکے ہیں کہ ان کے سامنے درندگی کا ننگا کھیل کھیلا جارہا ہو اور وہ اس ظلم اور بربریت کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے خاموش تماشائی بنے اس سفاکی پر محظوظ ہورہے ہیں۔ ہم واقعی انتہائی بے حس قوم ہیں ہماری غیرت مر چکی ہے شرم نام کی کوئی چیز نہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں اگر ایسا ایک بھی واقعہ ہوجاتا تو وہاں کے عوام اور حکمران ہل جاتے۔

مگر افسوس صد افسوس میرے دیس کے حکمرانوں کا ایک مذمتی بیان تک سامنے نہیں آیا۔ کہاں ہے خودساختہ ریاست مدینہ کے خلیفہ حضرت عمران خان صاحب، کہاں ہے کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر عارف علوی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صاحب، گورنر سندھ عمران اسماعیل صاحب۔ کیا ان میں سے کسی نے اس غریب ریحان کے والدین سے ہمدردی کے دو الفاظ بھی بولے؟

اس زمانے میں جسے ترقی یافتہ زمانہ کہاجاتا ہے، ایسے سفاک غاشم جو ظلم کی تمام تر حدود پارکر چکے ہیں، مظلوم ولاچار انسانوں پر تنہائی میں ظلم نہیں کرتے بلکہ اس دور جدیدمیں اپنے ظلم کی داستان کو پوری دنیا میں عام کرنے کے لئے انٹرنیٹ کا بھی سہارا لیتے ہیں، اور ویڈیو وائرل کرکے انسانیت کے جذبہ سے لبریز انسانوں کو یہ کہنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ کیا انسان بھی اس طرح سے درندگی کر سکتا ہے؟

اس سے قبل 2011 میں بھی اس سے ملتا جلتا سانحہ کراچی میں رونما ہوا تھا، نام تھا سرفراز شاہ۔ اس کو بھی ملزم قرار دینے والے ملک کے جانباز سپاہی تھے۔ 2017 مردان کے علاقے میں قائم ایک جامعہ میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام پر طالب علم مشال خان کو تشدد کرکے ہلاک کیا۔ ایسا ایک منظر ہم نے اپنے آنکھ سے دیکھا جہاں نہتے شہری پر پولیس نے گولی چلائی اور وہ مصروف شاہراہ پر دم توڑ گیا۔ اور چند ساعت بعد بریکنگ نیوز آئی کہ ”شاہراہ پاکستان پر دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات کرتے ہوئے پولیس مقابلے میں ڈاکو ہلاک۔ “

ہم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ کبھی کسی کو اسلام کے نام پر کافر کہہ کر تو کبھی کسی بہو بیٹی کو شک میں مبتلا ہو کر سنگسار کردیا جاتا ہے۔ اور کبھی نہتے شہری کو ڈاکو کہہ کر نا صرف ملزم قرار دیتے ہیں، بلکہ جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بہت سی معصوم جانیں تو اِس آزاد ریاست میں شک اور غلط فہمی کی بنیاد پر لی جاتی ہیں۔

افسوس کی بات ان شہریوں کے ہاتھ بھی ہمیشہ غریب مفلس نادار ہی آتے ہیں۔ کبھی ہم نے دیکھا نہ سنا کہ کسی وڈیرے زمیندار کے خلاف کسی شہری نے آواز اٹھائی ہو۔ یا کبھی کسی خودکش بمبار کو شہریوں نے پکڑ کر نشانِ عبرت بنایا ہو۔ یہاں اندھا قانون ہے۔ سول ڈیفنس کے نام پراس طرح ظلم وجبر کرنے پر عوام کو کیا ذرہ برابر ترس نہیں آیا؟ مگر اپنی طاقت و غرور کے نشے سے چور جب انسان جنگلی درندہ بن جاتا ہے تو تنتیجتاً پھر ایسے ہی واقعات جنم لیتے ہیں۔

افسوس آج دنیا سے انسانیت ختم ہوتی نظر آرہی ہے، ہر طرف جبرو تشدد، خون ریزی، نا حق ظلم و زیادتی، کمزوروں ومسکینوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، ایسالگتاہے مظلوموں، بے کسوں بے سہارا لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، درندگی اپنے پورے شباب پر ہے، غریبوں پر ظلم و زیادتی تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔

آخر میں ارباب اختیار سے گزارش ہے اس واقعہ میں ملوث تمام افراد خواہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں، ان کو ایسی عبرتناک سزا ملنی چاہیے کہ آئندہ کوئی کسی کمزور کے ساتھ اس طرح کی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دس بار سوچے۔ یہ نہ ہو کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی امیر اپنا اثر و رسوخ دکھاتے ہوئے اس غریب خاندان کو ڈرا دھمکا کر یا پیسے کی چمک دمک دکھا کر رہائی پا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •