عید پر بھوکا رہنے والے بچوں کے باپ کا رونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہ تو سابق بریگیڈیر اعجاز شاہ کے تازہ اعتراف سے غرض ہے جو ایک پورٹل میں یوں درج ہے :

” وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے 2008 ء میں میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ میری اور جنرل کیانی کی پلاننگ تھی مسلم لیگ ق کو جتوانے کی۔ بعد میں اس کو undo بھی ہم نے ہی کیا۔ کیانی میرے بھائیوں کی طرح ہیں۔ میرے سے چھوٹے ہیں اور مجھ سے سینئر بھی نہیں مگر جنرل بن گئے۔ ق لیگ کی ڈیل بھی انہوں نے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ کروائی تھی اور نام میرا دیا تھا کہ یہ سب معاملات دیکھے گا۔ میرا موقف یہ تھا کہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ ایک ساتھ نہیں چل سکیں گی۔

نجی ٹیلی ویژن چینل پر میزبان سلیم صافی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے ڈیل جنرل کیانی نے کی تھی اس لئے انہوں نے ان کو جتوایا بھی۔ ق لیگ کو ہم جتوانا نہیں چاہ رہے تھے بس ان کو اتنی سیٹیں دلوانا چاہ رہے تھے جتنی کہ مل گئیں۔ اللہ بخشے بے نظیر کو ان کا مرڈر ہوا تو پیپلز پارٹی کو زیادہ سیٹیں مل گئیں ورنہ کیانی صاحب کا پلان تو یہی تھا کہ جتنی سیٹیں دینی ہیں، اتنی ہی دیں۔ ”

اور نہ ہی اس خبر سے کہ بجٹ کا خسارہ قابو سے باہر ہو چکا ہے، اس بارے میں وزیراعظم عمران خان کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ نہ اس سے کوئی ربط ہے کہ عمران خان نے کہا تھا میری حکومت کا پہلا سال تکلیف دہ ہوگا اور نہ اس طنز سے کوئی تعلق کہ اس کے بعد لوگ تکلیفوں کے عادی ہو جائیں گے۔

غرض ہے تو چند روز سے سوشل میڈیا پہ گردش کرتی اس وڈیو سے جس میں چالیس بیالیس سال کا ایک آدمی عید کے روز کسی نامہ نگار کو یہ بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑا تھا کہ میں نے کل سے کھانا نہیں کھایا۔ ہمارے گھر کسی نے عید کا گوشت نہیں بھیجا۔ میرے بچوں کے حال ( بھوک ) کوئی کیا جانے۔ کچھ لوگ اس روتے ہوئے مرد کے پیچھے کھڑے مسکراتے بھی دکھائی دیے تھے۔

اس وڈیو بارے بات کرتے ہوئے، حساس اور ہنسوڑ، محنتی اور ذہین، پنجاب میں پیراکی کے سابق چیمپئن اور حال، روس میں کامیاب کاروباری عبداللہ ہنجرا کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے اور اس نے کہا تھا کہ اس حکومت نے تو غریبوں کے بھرم کاپردہ اٹھا دیا ہے۔

دوسری طرف اس نے کسی اور کے اس کہے کا جواب دیتے ہوئے کہ پاکستان میں تو گرمی سے جان نکل گئی یہ بھی کہا کہ میری تو جان نکلنے کے ساتھ جیب بھی ڈھیلی ہو گئی۔ ایک اے سی چلنے کا بل اٹھارہ سے پندرہ ہزار ماہوار آتا رہا۔

یہ بھی بتایا کہ پہلے بقر عید پر قربانی کرتے تھے کہ چلو غریبوں کو مٹھی مٹھی بھر گوشت میسر آنے کے ساتھ کسی ایک کے حصے میں کھال بھی آ جائے گی جو چند سو روپوں میں بیچ لے گا لیکن اب پاکستان میں ٹینریز بند پڑی ہیں۔ کھالوں کی طلب نہیں۔ بکرے مینڈھے کی کھال کے دام تیس سے پچاس روپے لگتے ہیں۔ اس بار لوگوں نے جہاں آلائشیں پھینکیں وہی کھالیں بھی پھینک دیں، کوئی غریب لے کر بھی کیا کرتا۔

پاکستان کی زمین اور وسائل کے مالک ہونے کے علاوہ پاکستان کے عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی طاغوتی قوت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ لوگ بھوک سے کیوں روتے ہیں، لوگوں کے پیٹ سے پردہ کیوں کھسک گیا ہے۔ سفید پوشی کا بھرم بھی بھلا کیوں رکھا جائے، ان کو غرض اس سے ہے کہ کس کو برسراقتدار لا کر اپنے منسلک مفادات لیے جانا جاری رکھا جائے۔

غرض اس سے بھی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے ملک کا انتہائی جلیل القدر اعزاز، ہندوستان میں ہندوتوا کی آگ بھڑکا دینے والے نریندر مودی کو کیوں دیا اور اس سے بھی کوئی مطلب نہیں کہ جموں کشمیر میں عوام پر اسی مودی نے عرصہ حیات کیوں تنگ کر دیا۔ اعزاز دیے جانا کسی بھی ملک کا اپنا اختیار ہے اور کشمیر کے احوال پر ردعمل کرنے کے لیے ہندوستان میں ہی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کے علاوہ وہاں کے باضمیر صحافی اور ادیب کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

غرض اس سے ہے کہ کیا کشمیر کو پاکستان بنا کرکے، جو ماسوائے جذباتی خیال کے اور کچھ نہیں، پاکستان کے عوام کا مقدر تبدیل ہو جائے گا۔ پاکستان میں سیاستدانوں میں پیسے بانٹنے والے جنرل اسلم بیگ اور جنرل درانی تمام ہو جائیں گے یا سابق بریگیڈیر اعجاز شاہ سچ تب بولے گا جب جن کے متعلق کہا گیا ان کے رہنما پابند سلاسل ہوں گے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں میں لفافے تقسیم کرنے والے کو ترقی نہیں دی جائے گی۔

غرض ہے تو اس سے کہ ملک عزیز میں جسے میرا مرحوم دوست ملک روش علی گھلو بیس برس پہلے سے بحر بحرانات کہنا شروع ہوا تھا، جو گھر گھر معاشی بحران ہے ماسوائے اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد گھروں بلکہ محلوں اور بنگلوں کو چھوڑ کے، کیا اس سے نجات ممکن ہو پائے گی۔

بجٹ کا خسارہ قابو سے باہر، کشمیر کشمیریوں کا سے کشمیر بنے گا پاکستان کی جانب زقند، بار بار وہائٹ ہاوؑس کے پھیرے اور اس کے بعد کچھ ایسا ہو جانا جس کی توقع نہ کی جا رہی ہو، ایسا ہو جانے کے بعد جذباتی پراپیگنڈے کا ایک طوفان جس کا نتیجہ سب جانتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں نکلنے والا تو یاسیت کیا خارج سے انسان، جی ہاں جو واقعی انسان ہو اور اپنے علاوہ دوسروں کو بھی انسان سمجھتا ہو، ان کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہو اور خواہش کرتا ہو کہ اے کاش یہ سب دور ہو، کے اندر نفوذ نہیں کرتی؟

ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ وہ یاسیت جسے ”Endogenous depression“ کہا جاتا ہے اس کی بھی وجہ جو مخفی ہوتی ہے اور انسان کے اندر کہیں لاشعور میں جا گزیں ہوتی ہے کے اسباب بھی خارج میں ہوتے ہیں جن کا فوری ادراک کیا جانا ممکن نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •