حرم میں جنسی ہراسانی: دہائی ہے رب کعبہ کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان کہے لفظوں کا بوجھ بڑا ہی بھاری ہوتا ہے، اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ غریب کی خالی جیب کی طرح، جس کے ساتھ ”چلنا“ ہی نہیں ”جینا“ بھی دشوار ہوتا ہے۔ ہم بھی گزشتہ پانچ ماہ سے یہی بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ایک جنگ تھی جو اندر ہی اندر برپا تھی، کہیں یا چپ رہیں؟ فیصلہ کٹھن تھا۔ اللہ بھلا کرے ”ہم سب“ والوں کا جنہوں نے بڑی ”جرات“ سے اس موضوع پر مضامین شائع کر کے ہماری ہمت کو بڑھایا ہے۔

ایک لڑکی جس نے نماز پڑھنا سیکھا تو شوق شوق میں ”تہجد“ بھی ادا کرنے لگی۔ اللہ کے بارے میں ”جانا“ تو اس کا گھر کا دیکھنے کی خواہش بھی ”پنپنے“ لگی۔ اساتذہ نے بتایا کہ ”مسجد“ بھی اللہ کا گھر ہے توجہاں کہیں بھی مسجد تعمیر ہوتے دیکھی اپنے جیب خرچ سے اللہ کے گھر کی تعمیر میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔ دل ہی دل میں یہ دعا کہ میرے رب یہ آپ کے گھر میں دیا ہے تو اسی کو اتنا بڑھا کے واپس کرنا کہ ”کعبہ“ دیکھ آؤں۔ طلب اتنی شدید کہ خوابوں میں کئی بار ”زیارت“ کی لیکن اس کے باوجود ”تڑپ“ بڑھتی گئی۔

ایک زمانہ تھا جب اللہ کا اتنا ”خصوصی کرم“ تھا کہ اکثر دیکھے گئے خواب سچ ثابت ہوئے۔ دل ہی دل میں ”آس“ بڑھتی گئی کہ یہ خواب بھی ضرور سچے ہوں گے۔ عرصہ گزرا بلاوے کے انتظار میں، جب کسی اور کو جاتے دیکھتے تو رب سے ”چپکے چپکے“ اک شکوہ کرتے کہ مالک ہمارے ابھی کتنے ”گناہ“ باقی ہیں جو بلاوے کی راہ میں ”حائل“ ہیں؟ جانے والے خوش نصیبوں کو حسرت سے دیکھتے اور دعا کی درخواست ان کے ہمراہ کر دیتے۔

رب کے اپنے فیصلے ہیں، بلاوا آیا بھی تو کب؟ جب شوہر ملک سے باہر، دو چھوٹے بچوں کا ساتھ۔ ساس اور دیور عمرہ کر کے واپس آئے تو ہم نے بھی عمرہ کے لئے درخواست جمع کرا دی۔ خوش نصیبی ایسی کہ امی، ابو اور دادا کے ساتھ جانے کی ”سعادت“ نصیب ہوئی۔ اس برس فروری میں جب انڈیا نے شرارت کی تھی، پاکستان سے سعودیہ جانے وال ”آخری“ فلائٹ ہماری تھی۔

وہ خوابوں کی تعبیر کا دن تھا۔ فلائٹ کی دیری، انتظار کی کوفت، نیند کی کمی سب فراموش کیے ہم بخوشی روانہ ہوئے۔ احرام باندھے، آنکھوں میں خوشی کے آنسو لئے بیس گھنٹوں بعد ہم اپنے ”رب“ کے گھر تھے۔ پہلی بار ”کعبہ“ روبرو تھا اور ہم تھے کہ ”مانگے“ جاتے تھے۔ وہ کیفیت لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ امی کا ہاتھ تھامے طواف کیا یوں لگا کہ رب نے اپنے گھر کو ہماری ”مہمان نوازی“ کے لئے خالی کرا دیا ہے اور دل چاہا کہ ابھی کعبہ سے لپٹ جاؤں اور اک عمر کی ”تشنگی“ کو مٹا لوں۔ لیکن ہماری ایک ساتھی نے یہ کہہ کر واپس کھینچ لیا کہ حالت احرام میں بوسہ منع ہے۔ ہم رب کے گھر تھے یہی کافی تھا، عمرہ ادا کر لیا تو یوں لگا کہ ”سکون“ پا لیا۔

فجر کی نماز ادا کر کے واپس ہوٹل گئے اور ناشتے کے بعد جو سوئے تو ظہر کی خبر لائے۔ طے یہ ہوا کہ امی اور ہم ایک ساتھ رہیں گے اور ابو دادا کا خیال رکھیں گے۔ امی ساتھ ہوتی تھیں تو طواف کرنا بہت آسان لگتا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، دعائیں پڑھتے، ذکر کرتے کب سات چکر مکمل ہو جاتے معلوم ہی نہیں ہوتا تھا۔

ہراسانی کاپہلا تجربہ ”ہجر اسود“ کو بوسہ دیتے وقت ہوا۔ جب ہمارے ہاتھ پہ ایک سیاہ فام حبشی نے کاٹ لیا۔ ہم حیرانی سے اسے دیکھے جاتے تھے کہ یہ کتنا غیر مہذب اور بیوقوف ہے کہ ”رب“ کے گھر آ کر ایک خاتون کے ہاتھ پر کاٹ رہا ہے۔ کیا اسے نہیں معلوم کہ وہ کس ”مقام“ پہ کھڑا ہے؟ ہمارے لئے یہ مقام حیرت تھا کہ رب کے سامنے گناہ کرنے والے رب کے ”گھر“ آ کر بھی اس سے باز نہں آتے؟

اگلے چودہ دنوں میں کئی پاکستانی خواتین سے ملاقات ہوئی اور سب کے ”ہراسانی“ کے تجربات مختلف تھے۔ عورت کو سیکس کی جنس سمجھنے والوں کی یہاں بھی کمی نہیں تھی۔ دوران طواف ہاتھوں سے کندھوں تک ”چٹکی“ کاٹنا تو معمولی سی بات ہے۔ ہاتھ جہاں تک پہنچ پائے اور جہاں کاٹ کے زیادہ ”تسکین“ ملے یا عورت زیادہ ”ہراساں“ ہو، چٹکی کاٹ لی جاتی ہے۔ اور اگر اکیلی خاتون نظر آئے تو اس کو ہراساں کرنا ”عین عبادت“ یا ”فرض“ سمجھا جاتا ہے۔ اور معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ”ہراساں“ کرنے والوں میں زیادہ تعداد اپنے ”پیارے پاکستانیوں“ کی ہوتی ہے۔

ہمیں کئی ایسی خواتین ملیں جو اپنے ”محرم“ سے بچھڑ گئیں تو اس لئے رو رہی تھیں کہ اجنبی مردوں سے اپنے ہوٹل کا راستہ کیسے پوچھیں؟ اگر وہ کہیں اور لے گئے تو؟ کتنی خواتین کو ہم ان کے ہوٹل تک ”بحفاظت“ چھوڑ آئے کہ ہم فطری طور پر بہادر ہیں اور راستے بھی ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔

سیاہ فاموں سے کیا گلہ کرنا؟ ان کی تو خواتین بھی اپنے مردوں سے بڑھ کر خواتین کو ”ہراساں“ کرتی ہیں۔ کعبہ کو اپنی ”جاگیر“ سمجھتی ہیں۔ اپنے پاکستانی بھائیوں سے ”التجا“ ہے کہ اگر رب نے آپ کو اپنے گھر حاضری کی سعادت بخش ہی دی ہے تو خدارا اس ”گھر“ کی حرمت کو پامال نہ کریں۔ کتنی خواتین ہیں جو آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ”ہجر اسود“ کے بوسے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ آپ کو کیا معلوم کے وہ اپنی کتنی ”خواہشیں“ ادھوری چھوڑ کر ایک ”رب کے گھر“ کی چاہ میں عمر بھر کی جمع پونجی لٹا کر پہنچتی ہیں۔ کتنی حسرت سے دور بیٹھ کر کعبہ دیکھتی ہیں اور آنسو بہائے جاتی ہیں۔ اگر شیطان زیادہ ہی تنگ کرے تو ”لبیک“ کی جگہ ”لاحول ولا “ پڑھ لیا کریں، خاصا افاقہ ہو گا۔

سعودی حکومت کو بھی چاہیے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لئے کوئی ”ٹھوس“ اقدام کرے۔ شرطوں کی فوج جو سارا دن ”یلہ“ کی گردان کرتی ہے وہ دوران طواف خواتین کی حفاظت پہ دھیان دے۔ اگر یہ بھی نہیں تو اتنا خیال رکھ لے کہ یہ رب کا گھر ہے اور اس کہ ”حرمت“ اور تقدس سب سے بڑھ کر ہے۔ جس طرح مسجد نبوی میں روضہ رسول پہ حاضری کی ”ٹائمنگ“ ہیں اسی طرز پہ کعبہ میں بھی کوئی انتظام ہو جائے۔ اگر بادشاہ چاہے تو کچھ بھی نامکمن نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •