مودی کو اماراتی ایوارڈ اور امت کا مفروضہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں ایک طویل عرصے سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں اولین اہمیت مسلم ممالک کو حاصل ہے۔ یہ پالیسی اس وقت تک درست تھی جب تک ہمیں انڈیا کے مقابلے میں عرب ممالک اور ایران کی غیر مشروط حمایت حاصل تھی۔ مگر سردار من موہن سنگھ کے انڈیا کو ایک بڑی معاشی طاقت بنانے کے بعد جب نریندر مودی نے خارجہ محاذ پر اس طاقت کا فائدہ اٹھانا شروع کیا تو یہ سب ممالک ہمیں چھوڑ کر انڈیا کے ساتھ ہو گئے۔ ابھی چند ہفتے پہلے انڈیا نے کشمیر کے زخم کو ہرا کیا ہے اور ادھر مسلسل کرفیو اور کریک ڈاؤن چل رہا ہے، اور ایسے میں امارات کی جانب سے مودی کو اپنا سب سے بڑا اعزاز دیا جانا اس زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔

دو باتیں سب کو سمجھ لینی چاہئیں۔ پہلی یہ کہ امہ کا تصور جیسا ہمارے نزدیک ہے، باقی مسلم ممالک اس کی پروا نہیں کرتے۔ ہم انہیں لاکھ برادر سمجھیں لیکن وہ ہمیں فارسی محاورے والا برادرِ خورد ہی قرار دیتے ہیں۔ دنیا کی حقیقت یہی ہے کہ امیر دوست کے مقابلے میں سگے لیکن غریب رشتے دار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے ہم غریب بھی ہیں اور عربوں کے نزدیک سگے بھی نہیں ہیں۔

اب جبکہ مسلم امہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ ہمیں نہیں بلکہ وہ مودی کو امہ کا حصہ سمجھتے ہیں، تو کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس نریندر پرست امہ کی بجائے اپنی دھرتی سے محبت کے سبق دیں اور ادھر کے مقامی ہیروز اور ثقافت پر فخر کرنا سکھائیں۔ دھرتی سے محبت دیگر محبتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ پاکستان کی جنگوں میں جا کر دیکھ لیں کہ کتنے مسیحیوں اور ہندوؤں نے اس دھرتی کے لئے جان دی ہے اور بہادری کے اعلیٰ اعزازات پائے ہیں۔

ہمارا ٹریڈ بیلنس خراب جا رہا ہے۔ زر مبادلہ کی آمد اور باہر جانے کے فرق نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے۔ کیا ہمیں اپنے ملک مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے عمرے اور حج کا کوٹہ کم نہیں کرنا چاہیے؟ ترکوں کا کوٹہ بہت کم ہے اور لوگ دس بیس برس تک حج کی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا ہم ترکی سے زیادہ امیر ہیں؟ اور یہ رمضان کے حج جتنے مہنگے عمرے ہر برس کرنے کی کیا تک ہے؟ کیا اسلام ہمیں اصراف سے منع نہیں کرتا ہے؟ کیا حج صرف صاحب استطاعت لوگوں پر فرض نہیں ہے جبکہ ہمارے ہاں قرض لے کر لوگ حج کرتے ہیں۔ ہمیں حج کا کوٹہ آدھا کرنا ہو گا اور دس سال میں کسی شخص کو صرف ایک مرتبہ حج یا عمرہ کرنے کی اجازت دینا ہو گی۔ اس بات کی وضاحت کے لئے ہم حج اور عمرے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں۔

نومبر 2018 میں عرب نیوز نے بتایا کہ اس برس تقریباً دس لاکھ افراد کو عمرے کا ویزا دیا گیا اور ان میں سے سات لاکھ نومبر تک پہنچ چکے تھے۔ ان میں سے دو لاکھ تریسٹھ ہزار پاکستان سے تھے، دوسرے نمبر پر ایک لاکھ چالیس ہزار انڈیا سے، ایک لاکھ تیس ہزار انڈونیشیا سے، چھبیس ہزار یمن سے، بائیس ہزار ملائشیا سے اور پندرہ ہزار امارات سے۔

کیا پاکستان ان تمام ممالک سے امیر ہے؟ امارات سے بندہ گاڑی میں بیٹھ کر سیدھا عمرے کے لئے پہنچتا ہے، ادھر سے صرف پندرہ ہزار جا رہے ہیں اور پاکستان سے لاکھوں۔ انڈیا کی مسلم آبادی ساڑھے اٹھارہ کروڑ ہے اور پاکستانی کی بائیس کروڑ کے قریب۔ انڈونیشیا کی کل آبادی چھبیس کروڑ سے زیادہ ہے اور اس میں سے تئیس کروڑ مسلمان ہیں۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی فی نفر 1548 ڈالر سالانہ ہے، انڈیا کی 1939 اور انڈونیشیا کی 3847 ڈالر ہے۔ یعنی یہ سب ممالک پاکستان سے زیادہ امیر ہیں۔ انڈونیشیا نہ صرف پاکستان سے زیادہ آبادی رکھتا ہے بلکہ پاکستان سے دگنے سے بھی زیادہ امیر ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان ممالک کے مقابلے میں پاکستان سے دگنے لوگ عمرہ کرنے جاتے ہیں؟

مئی 2019 کی عرب نیوز کی رپورٹ میں سعودی وزارت حج کے حوالے سے اعداد و شمار دیے گئے ہیں کہ حج اور عمرہ کے زائرین میں تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر پاکستان سے 13 لاکھ 53 ہزار، اس کے بعد انڈونیشیا سے 8 لاکھ 81 ہزار، انڈیا سے 5 لاکھ 79 ہزار، مصر سے 4 لاکھ 5 ہزار اور ترکی سے 2 لاکھ 79 ہزار جاتے ہیں۔ یہ تعداد عرب نیوز کی گزشتہ خبر سے غالباً اس لئے زیادہ ہے کہ ان زائرین میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جنہوں نے عمرے سے ہٹ کر کوئی دوسرا ویزا لیا ہو گا۔ خبر کے مطابق دس دن کے دورانیے میں اوسطاً ایک زائر 700 ڈالر یعنی سوا لاکھ روپے کے قریب خرچ کرتا ہے۔ پاکستانیوں کا حج پیکیج عموماً 40 دن کا ہوتا ہے۔ یہ دو تین ارب ڈالر بن جاتے ہیں جو پاکستانی زائرین، سعودی معیشت کی نذر کرتے ہیں۔

سعودی عرب اور امارات وغیرہ میں کام کرنے والے پاکستانی تقریباً چھے ارب ڈالر کا زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ تیل وغیرہ ہمیں کسی خاص رعایتی قیمت پر نہیں ملتا۔ زیادہ سے زیادہ منت خوشامد کر کے کچھ مدت کے لئے ادھار مل جاتا ہے۔ پاکستانی ورکرز کو تیزی سے ان ممالک سے نکالا جا رہا ہے۔ ابھی گزشتہ مہینے ہی خلیج سے سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں کو یہ کہہ کر ملازمت سے نکالا گیا ہے کہ ان کی ماسٹر آف سرجری اور ماسٹر آف میڈیسن کی ڈگری بیکار ہے جبکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی یہی ڈگری وہ قبول کر رہے ہیں۔ پاکستانی لیبر کو تنخواہ نہ دینے اور ان کی واپسی کی خبریں بھی آپ کے علم میں ہوں گی۔

مسلم ممالک میں دیکھا جائے تو صرف ترکی ہی پاکستان کا دوست ملک ہے جو دیگر مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ترکوں کی اپنی تاریخ بھی ہے۔ اپنی جنگ آزادی کی تاریخ بچوں کو پڑھاتے وقت وہ یہی بتاتے ہیں کہ جب عربوں سمیت تمام مسلم دنیا ترکی کا وجود صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی تھی تو یہ صرف موجودہ پاکستان کے مسلمان ہی تھے جنہوں نے اپنے زیور بیچ بیچ کر ترک قوم کی مدد کی تھی۔

بہتر ہے کہ ہم بھی اپ اپنے مفادات کو اس امت کے مفروضے پر فوقیت دیں جسے ہمارے علاوہ کوئی دوسرا مسلم ملک نہیں مانتا۔ او آئی سی میں بھی اب انڈیا اہم ہے اور پاکستان ایک غریب رشتے دار۔ انڈیا سے وہ پیسے کماتے ہیں، پاکستان ان سے پیسے مانگتا ہے، تو پاکستان کو وہ کیوں اہمیت دیں گے؟ جیسے پاکستان کے مقابلے میں عربوں نے انڈیا کو ترجیح دی ہے، بہتر ہے کہ ہم بھی ترکی کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات قائم کریں اور بھارت کے اس دوست کو ویسے ہی پاکستانی کیمپ میں لائیں جیسے انڈیا، پاکستان کے مسلم دوستوں کو اپنے کیمپ میں لے جا چکا ہے۔ ویسے سوچنے کی بات ہے، کیا سعودی عرب اور ایران بھی اسرائیل سے تعلقات کی پینگیں نہیں بڑھا رہے ہیں؟ پھر ہم ہی کیوں اس امت کی خاطر ایسی قربانیاں دینے پر تلے ہوئے ہیں جو ہماری بجائے انڈیا کو اپنا حصہ سمجھتی ہے؟ عربوں کے لئے فلسطین جتنا اہم ہو گا، کشمیر ہمارے لئے اس سے زیادہ اہم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1183 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar