ٹوئٹر کا مقروض بلوچستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں مانتا ہوں کہ امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹر ہینڈل سے متاثر فعال وزیراعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ ایک سال سے ٹویٹر ہینڈل کو اتنا فعال رکھا ہوا ہے کہ ان کی میڈیا ٹیم وزیراعلی کی کارکردگی سے باخبر رہنے کے لئے ان کے اکاونٹ کو دیکھ کر حکومتی کارکردگی کی خبر جاری کرتی ہے۔ بوسیدہ کاغذی نظام سے نکل کر حکومت جدید سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔ کم خواندہ وزراء نے حکومتی اقدامات اور فیصلوں سے باخبر رہنے کے لئے دوسروں کی مدد سے ٹویٹر اکاونٹ بنا کر چلانے کے لئے منشی رکھ لئے ہیں تاکہ حکومتی فیصلے گھر بیٹھے معلوم ہوں۔

لیکن میرا نقاد اور حکومتی کارکردگی سے جیلس دوست حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ کہتا ہے کہ ”بلوچستان حکومت کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ کے تمام منصوبے سابق حکومتوں کے ہیں۔ “ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ٹویٹر پر ہمہ وقت موجودگی کا وہ اعتراف کرتا ہے۔ پچاس فیصد خواندہ بلوچستان میں جس کے اکثر اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولیات کا فقدان ہے اور ان 50 فیصد پڑھے لکھے لوگوں میں بھی اکثر انگریزی زبان پر مکمل عبور نہیں رکھتے ہیں۔

صوبے میں ہر طرف ٹویٹر کا راج ہے۔ ہر شخص اپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں کی مدد سے ٹویٹر پر اکاونٹ بنا رہا ہے اور اردو سے انگریزی زبان کے مترجم سے اپنے مسئلے کی انگریزی لکھوا کر وزیراعلیٰ کو ٹوئٹ کردیتا ہے اور یوں ٹویٹر پر جواب آنے کے بعد وہ اپنے قسمت کا حال جاننے کے لئے دوبارہ مترجم کے پاس جاتا ہے۔ مسائل حل ہوں یا نہ ہوں ٹویٹر کا کاروبار صوبے میں عروج پر ہے اور مترجموں کی چاندی ہے۔ صوبائی حکومت نے ایک سال مکمل کرلیا ہے آپ یقین کریں یا نہ کریں حکومت از خود اپنی کارکردگی رپورٹ کے مطابق کامیاب ترین حکومت خود کو قرار دیتی ہے۔ اگر آپ میرے دوست کی طرح حکومتی کارکردگی سے جیلس ہیں تو آپ بھی کہتے ہیں کہ سابق صوبائی حکومتوں کے منصوبے موجودہ حکومت دیدہ دلیری سے اپنے کھاتے میں ڈال چکی ہے۔

حکومتی رپورٹ میں عوامی انڈوومنٹ فنڈز کے قیام کا ذکر ہے جبکہ عوامی انڈومنٹ فنڈ کا قیام بلوچستان کے سابق سکریٹری پی اینڈ ڈی اسفندیار کاکڑ کا مرہون منت ہے جسے انہوں نے 19 / 2018 کی پی ایس ڈی پی کا حصہ بنایا تھا۔ خالی آسامیوں کے لئے فارمولا وضع ہونے کی بات کی گئی ہے جبکہ بیس ہزار اسامیوں پرحکومتی فارمولے کو وضع ہوئے 8 ماہ گزر چکے ہیں لیکن اس کے باجود طویل خاموشی ہے۔ اور وزیراعلی کے علم میں ہونے کے باجود محکمہ تعلیم میں جونیئر ترین اہلکاروں کی کمیٹی کے ذریعے بھرتی کا عمل جارہی ہے اب اس میں کب اور کتنے میرٹ پر بھرتی ہوں گے اور کتنی پوسٹیں بندر بانٹ کا شکار ہوں گی معلوم نہیں؟

بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے قیام کا دعوی ہے جبکہ فوڈ اتھارٹی کا قیام 10 مارچ 2016 کو عمل میں لایا گیا تھا۔ موجود حکومت میں امن وامان کی بہتری کے لئے ایگل سکواڈ کے قیامِ کی نوید ہے جبکہ کوئٹہ کے شہریوں کوایگل فورس کے موٹرسائیکل سوار اہلکار شہرمیں 2018 سے نظر اتے ہیں اورسابق حکومت نے ایگل فورس کوئٹہ کا قیام 8 جون 2018 کو عمل میں لایا تھا۔ برج عزیز ڈیم کا منصوبہ بھی 2018 / 19 کی فیڈرل پی ایس ڈی پی نمبر 1263 پر شامل ہے جس کی فیزیبلٹی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔

رپورٹ میں وزیراعلی معائنہ ٹیم کا گیارہ سو اسکیمات کے معائنہ کا ذکر ہے عوام جاننا چاہتی ہے کہ اس سے حکومت کو کیا فائدہ ہوا اور کس کو بہترین کام پر داد دی گئی کس کے خلاف ناقص کام پر کارروائی کی گئی؟ آگے دوڑ پیچھے چھوڑ حکومت کو شاید معلوم نہیں کہ بی آر اے نے 19 / 2018 میں 9 بلین روپے جمع کیے ہیں جبکہ 2018 / 19 میں 8 بلین تھے۔ کوئٹہ پیکج کے تحت ائیر پورٹ سریاب روڈ، اسپینی روڈ سبزل روڈ کی کشادگی، کوئٹہ روڈ پروجیکٹ 2018 میں شروع کیا گیا تھا۔ اگرموجودہ صوبائی حکومت ویژن والی ہوتی تو سبزل روڈ پر سات ارب روپے کو ضائع ہونے سے بچاتی۔

وزیراعلی شکایت سیل کا قیام تو عمل میں آ گیا ہے لیکن بہتر ہوتا اگر کارکردگی میں یہ بتایا جاتا کہ کتنی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان میں سے کتنی حل ہو چکی ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں ڈے کیئر سینٹر کا قیام صرف 9 خواتین ارکان اسمبلی کے لئے عمل لایا گیا ہے جن میں سے شاید دو کے شیر خوار بچے ہوں گے ان کے لئے یہ عظیم کارنامہ سرانجام دیاگیا ہے ایسا کسی سکول یا ہسپتال میں ہوتا تو کارکردگی تصورہوتی، کوئٹہ کے ہسپتالوں میں انسیزیٹرز کی بحالی یعنی سابق حکومتوں کی خریدی گئی انسیزیٹرزمیں کچرے کو جلانا بھی کوئی کام ہے؟ جس کو حکومت اپنی کارکردگی گردانتی ہے۔

ناقص ادویات بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاون بہتر ہوتا اور اعداد و شمارشیئر کیے جاتے کہ کتنے لوگوں کو اس مکروہ کاروبار میں گرفتار کیا گیا ہے اور کتنوں کو سزائیں دلائی گئی ہیں؟ صوبے کے تمام سیوریج و دیگر پلانٹس کی بحالی، میرے جیلس دوست کی معلومات کہ مطابق کوئٹہ کے علاوہ کسی بھی دوسرے ضلع میں سیوریج کا نظام نہیں اور یہ بھی سابق حکومت کا بنایا ہوا منصوبہ ہے اور کوئٹہ کے شہری بہتر بتا سکتے ہیں کہ بارش کی چار بوندوں کے بعد شہر میں سیوریج نظام کی موجودگی کا یقین کیا جاسکتا ہے؟

اور واٹر پلانٹس بھی اس حکومت سے پہلے کے لگے ہوئے ہیں۔ ایک دفعہ گندے پانی کی کاشت میں ٹریکٹر چلانے سے کوئی کارکردگی ثابت نہیں اور فوٹو سیشن کی بجائے مستقل خاتمہ کرکے کریڈیٹ لیا جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا متعدد سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا دورہ، یہ بھی کوئی انہونی نہیں اس سے قبل بھی وزراء اعلی سکولوں کالجز کے دورے کرتے رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم میں 60 ہزار ملازمتوں کی تصدیق کا عمل بھی سابق دور حکومت میں اس وقت کے ڈی جی خزانہ ہمایوں خان کی مرہون منت ہے جس نے اس بڑے اسکینڈل کی نشاہدہی کی۔

ہاں اگر حکومت درحقیت سنجیدہ ہے تو نادرا سے معاہدہ کیوں نہیں کرتی؟ 500 ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء کا تو بظاہر یوں تاثر قائم ہو رہا ہے کہ یہ منصوبے حکومت نے کاغذی حد تک بنائے ہیں۔ اگر فنڈز جاری کیے ہیں تو منصوبے بنتے ہی فنڈز کے لئے ہیں اس میں حکومت کو حیران ہونے کی کیاضرورت ہے؟ وزیراعلیٰ کا اہم امور پر ویڈیو کانفرنسز سے خطاب، یوں تاثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ حکومتی شخصیات ایک دوسرے کی شکل دیکھے بغیر عوام کے مسائل کا حل نکال سکتی ہیں۔

محکمانہ کارروائیوں کا آغاز بیڈا ایکٹ قائم، یہ قانون پہلے سے وجود رکھتا ہے ایک سال میں کتنے ملازمین اس قانون کے تحت برطرف کیے گئے ہیں؟ پٹ فیڈر کچھی کینال منصوبے، سابق حکومتوں کے دور میں فیڈرل پی ایس ڈی پی سے مکمل کروائے گئے ہیں۔ محکمہ فنانس میں جدید نظام متعارف کروانے کے حکومتی اقدام کے جواب میں میرا جیلس دوست کہتا ہے کہ یہ نظام 2016 میں حکومت بلوچستان نے یورپی یونین کے تعاون سے شروع کرایا تھا جس کو اس سال یورپی یونین اپنے پی ایف ایم پروجیکٹ کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے نئے تعمیر شدہ او پی ڈی کی عمارت کا افتتاح جبکہ اس پر 2013 میں کام شروع ہوا تھا اور اس سال تکمیل ہوئی ہے۔

امید ہے کہ صوبائی حکومت اب اپنے پروگرام کی تشہیر کرے گی اور سابق حکومتوں کے پروجیکٹس کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے غازی بننے کی ناکام کوشش نہیں کرے گی اور ویسے بھی وزیراعلی کے پاس پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا طاقت ور ترین قلمدان بھی موجود ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ میرے جیلس دوست کو خدا ہدایت دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •