کوئی قدم تو آگے بڑھائیں‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی کا محاورہ ہے Actions speak louder than words” اس کا ترجمہ کچھ اس طرح کا بنتا ہے کہ “عملی اقدامات، الفاظ سے اونچا بولتے ہیں”۔ 5 اگست کو نریندر مودی نے عملی قدم اٹھایا اور ہم ابھی تک وہی الفاظ دہرائے چلے جا رہے ہیں جو سنتے سنتے تیسری نسل بڑھاپے میں داخل ہو رہی ہے۔ میں انتظار میں ہی رہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت کوئی تو نئی بات کرے گی مگر ابھی تک مایوس ہوں۔

ایک واقعہ مختلف حکمرانوں کا نام لے کر سنایا جاتا ہے جو آپ نے کئی مرتبہ سنا اور پڑھا ہو گا، نام کی بحث میں جائے بغیر یاد دلاتا ہوں۔

ایک بچے کی دعویدار دو مائیں سامنے آ گئیں اور حکمران سے انصاف مانگا، حکمران نے دونوں دعویدار ماؤں کی بات سننے کے بعد کہا کہ بچے کے دو حصے کر کے ایک حصہ ایک کو اور دوسرا حصہ دوسری دعویدار کو دے دیا جائے، یہ فیصلہ سن کر جعلی ماں نے کوئی اعتراض نہ کیا اور حقیقی ماں چلا اٹھی کہ یہ بچہ میرا نہیں، اسے زندہ رہنے دو، بے شک دوسری عورت ہی کے پاس رہے۔ حکمران جان گیا کہ اصلی ماں کون ہے۔

اس وقت کشمیری عوام پر بھارتی فوج جو مظالم توڑ رہی ہے اور جس طرح کہ سب کو نظر آرہا ہے کہ دنیا تو بعد کی بات خود مسلم دنیا کے حکمران کیا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، مجھے آپ بتائیں کہ حقیقی ماں یا کشمیری قوم کا حقیقی درد رکھنے والے پاکستانی کو کیا کرنا چائیے۔ کیا ہم وہی کہتے رہیں جو کہہ کر ابھی تک وہیں بیٹھے ہیں جہاں بیٹھے تھے یا آگے بڑھ کر کوئی قدم اٹھائیں جس طرح مودی نے اٹھایا۔

اسی بات کو ایک اور طرح سے دیکھیں، ہر خاندان میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن اگر اس خاندان کا کوئی بچہ یا عورت کا اغوا برائے تاوان ہو جائے تو پھر بالکل نئی صورت حال بن جائے گی، اب باہمی جھگڑے ختم اور بچے یا عورت کی بازیابی کی لئے تمام خاندان کی مشترکہ توانائیاں اکھٹی کرنا ہوں گی۔ اس وقت یہ بحث کرنے کا موقع نہیں ہو گا کہ بچے کا اغوا غیر قانونی ہے یا غیر اخلاقی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ بچہ اغوا کرنے والے سے نہ صرف بات بلکہ منت ترلہ کرنا پڑے گا اور ہر ناجائز بات بھی ماننا پڑے گی۔ اس کی وجہ اغوا کرنے والے کی وہ طاقت ہے جو اس وقت وہ اس معصوم بچے یا عورت پر رکھتا ہے۔ لہذا اس بچے کی سلامتی باقی تمام چیزوں پر بھاری ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ انتہائی ظلم کا شکار ہوا خاندان الٹا پیسہ دینے یعنی مزید ظلم کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بالکل ویسا ہی ہوا ہے، اور ہو رہا ہے۔ مودی نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے ستر لاکھ افراد کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا ہے اور ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بحث چھیڑ کر بیٹھے ہیں۔ ہم اس خطے اور قوم کے جائز دعویدار ہیں یا نہیں، بھارت نے درست کیا یا ظلم، یہ اصولی یا قانونی باتیں اس وقت بے معنی ہو چکی ہیں۔ اپنی طرف بھی نظر دوڑا لیں، جس طرح ایک خاندان، بچہ اغوا ہونے پر ایک ہو جاتا ہے کیا اس طرح آپ کو اپنا سیاسی منظر ایک نظر آرہا ہے؟ یا ابھی تک وہی 2018 کے الیکشن کی تقریریں جاری ہیں؟ وہ چور، یہ ڈاکو اور بس۔ جس دن بلاول بھٹو سکردو میں مودی کو جا للکارتا ہے اسی دن شام کو حکومتی ترجمان بلاول کے باپ اور پھوپھی کی لفظی مرمت کرتے ہیں۔ اپنی تمام اپوزیشن کو جیل میں ڈال کر ہمارا وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتا ہے کہ اس نے اپوزیشن کو دیوار سے لگا رکھا ہے۔ عرب حکمرانوں کو برا بھلا کہنے سے کیا حاصل ہوگا، ان کی جگہ آپ ہوتے اور پاکستان کو اسی طرح دیکھتے، جیسے وہ دیکھ رہے ہیں تو آپ کا فیصلہ کیا ہوتا۔ کوئی کیسے مانے کہ آپ کی قومی قیادت واقعی کشمیر کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ کیا آپ نے قومی سیاسی جماعتوں کی کوئی کانفرنس دیکھی؟ کیا حکومت نے اپنے ملک میں ہی تمام اختلافات کو پس پشت ڈالنے کی بات کی؟ کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تمام قیادت کے ساتھ کھڑے ہو کر دنیا کو بتایا کہ ہمارے تمام اختلافات ایک طرف مگر کشمیر پر ہم ایک ہیں؟ یہ وہ وقت تھا اور ہے کہ حکومت جیل میں پڑے ہوئے سیاسی لیڈروں کو بھی ایوان میں لاتی مگر نہیں، سب کی سب روایتی باتیں، اور باتیں ہی باتیں۔ بے معنی اور بے مغز باتیں۔

اب سوچیں کہ وہ قدم کیا ہو سکتا ہے؟ ایٹمی جنگ؟ یا روایتی جنگ؟

جذبات اپنی جگہ، جنگ میدان میں لڑی جاتی ہے اور اس میں طعنے وغیرہ زیادہ کام نہیں آتے۔ دوسری بات ہمارا قومی رویہ کہ ہم شور مچاتے رہیں، پاکستانی فوج جانے اور بھارت جانے۔ کیا اس طرح جنگ لڑی جاتی ہے؟ جس حالت کو ہم پہنچ چکے ہیں وہاں جنگ ایک ہی صورت میں ہو گی جب ہم پر جنگ مسلط ہی کر دی جائے، جس کے بعد ظاہر ہے، جو ہو گا، وہ ہوگا، مگر ہم خود حملہ کر دیں، ایسا کر کے ہم کیا حاصل کریں گے، سب جانتے ہیں۔

تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کریں کیا؟ اور یہ ہی وہ سوال ہے جس پر تمام قومی قیادت کو ایک چھت تلے تمام اختلاف بھلا کر بیٹھنا لازم تھا، مگر کیا ایسا ہوا؟ یا ہونے کی توقع ہے؟ جواب ہے نہیں، پھر کیوں کوئی یہ سمجھے کہ آپ واقعی کشمیر پر سنجیدہ ہیں۔ میرے نزدیک بات کو روایتی دائروں سے باہر نکلنا ہو گا۔ وہ کیا ہو سکتی ہیں؟ بھارت بات کرنے کو تیار نہیں، نہ سہی۔ کیا ہم اسلام آباد میں تمام متعلقہ سفیروں کی کانفرنس بلا کر بھارت کو کوئی پیشکش نہیں کر سکتے؟ اگلے ماہ اقوام متحدہ کے سامنے غیر روایتی حل پیش نہیں کر سکتے؟

مثلآ یہ کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر کی پرانی خصوصی حیثیت بحال کر دے تو ہم لائین آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد ماننے کو تیار ہیں۔ اس وقت تو اپنی حالت یہ ہے کہ یہ آفر کرنا بھی شاید کافی نہ ہو لیکن بات شروع تو ہو، دنیا کو پتہ چلے کہ واقعی پاکستان،کشمیر کی حقیقی ماں ہے اور کشمیری قوم پر ہونے والے بھارتی ظلم کو روکنے کے لئے اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہونے تک کو تیار ہے۔

ویسے بھی کارگل کے بعد دنیا ہمیں بتا چکی ہے کہ اس کے نزدیک لائین آف کنٹرول، بین الاقوامی سرحد کی حیثیت ہی رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک تجویز یا مثال ہے، قومی قیادت مل کر بیٹھے، اس میں قوم کے تمام طبقات کے ہنرمند افراد مل کر سوچیں کہ کشمیریوں پر ظلم کو کس طرح ختم کریں تو اس سے بہتر حل یا قابل عمل تجاویز سامنے آسکتی ہیں مگر کیا ایسا ہو رہا ہے۔ جواب نہیں میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود بھی اس مسلے کے حل میں مخلص تو ہیں مگر زیادہ سنجیدہ نہیں تو عربوں کو کیوں برا بھلا کہتے ہیں۔

 آخری بات یہ کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم کشمیری عوام کی سلامتی کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں تو آخری حد ہمیشہ ایٹمی موت ہی کیوں ہوتی ہے، زندہ رہتے ہوئے موت سے قبل کی ناپسندیدگی کیوں گوارا نہیں؟ اس راستے پر چلنے سے کم از کم امید تو رہے گی کہ مستقبل میں اگر ہم خوشحالی اور طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو زمینی حقائق بدل جائیں گے۔ اس کی ایک بہت بری، گھٹیا یا تلخ مثال یہودی قوم اور اسرائیل ہے۔

سیدھی بات ہے کہ جو جنگ میدان میں جیتی نہ جا سکتی ہو، وہ مذاکرات سے کبھی نہیں جیتی جاتی۔ جس طرح بھارت بھی جنگ کر کے آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان حاصل نہیں کر سکتا صرف نعرے بازی کر رہا ہے مطلب میدان میں وہ تسلیم کرتا ہے کہ ہمارا حصہ وہ حاصل نہیں کر سکتا۔ لیکن نعرہ ہے کہ پاکستان سے بات ہو گی تو صرف آزاد کشمیر پر، ہمیں اس وقت عین اسی طرح بھارت کی اس بات کو ماننے کا اعلان کر کے فوراً مذاکرات کی حامی بھرنی چائیے جس طرح اغوا شدہ بچے کے والدین اغوا کرنے والوں سے کرتے ہیں مگر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن یہاں بھی اگر ہم دیر لگائیں گے، چور چور کے نعرے، جذباتی تقریریں وغیرہ تو پھر وہی حاصل کریں گے جو اب تک کیا ہے۔ البتہ کشمیری عوام کا خدا خواستہ وہ حال ہو جائے گا جو فلسطینی قوم کا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •