جنس کی گرانی، غصے کی فراوانی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"khizer  اپنے ہاں جائز و ناجائز وجوہات کی بنا پر غصے کی فروانی ہے۔ اس سلسلے میں سب آگے ہمارا نوجوان طبقہ ہے۔ اٹھتی جوانیاں تو ویسے ہی غصے کا آتش فشاں پھٹنے کے بہانے مانگتی ہیں۔ اور اگر بدقسمتی سے ساتھ غربت اور بے روزگاری بھی لگی ہو تو غصہ کھانے کے علاوہ تو کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ نوجوان طبقے کے ساتھ ساتھ ہمارے غریب بھی غصے کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہوتے اور اس کے لئے ان کو دوش بھی نہیں دیا جا سکتا۔ غریبوں کو امیروں پر خصوصی غصہ ہوتا ہے کہ وہ سب لوٹ کر کھا جاتے ہیں۔ امیروں کو غریبوں پر غصہ ہے کہ ان کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ نوکر ہوں تو ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور ووٹر ہوں تو مطالبات بہت کرتے ہیں

 امرا کی امارت کی وجوہات میں لوٹ مار اور محنت کے علاوہ ان کی اپنے غصے پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ اور غریبوں کی غریب رہنے کی وجہ مقدر کی سختی اور سستی کے علاوہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ غصہ کھانے میں ادھار کھائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور اس معاملے میں ان کا شکار ان کے اپنے ہی گھر والے اور بھائی بند زیادہ تر شامل ہوتے ہیں۔ رکشے والے کو تانگے والے پر غصہ ہے تو بس والے کو ویگن والے سے۔

 ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما اس غصے کو خوب کیش کرانا جانتے ہیں بلکہ ان کی دکان چلتی ہی اس غصے پر ہے۔ غصہ کرنے میں سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ بندہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا – اسے اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی اور اسی کا فائدہ اٹھا کر انہیں ریاکار ملا اور مفاد پرست سیاستدان اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ مختلف فرقوں کے ملا اور مختلف جماعتوں کے لیڈر لوگوں کو آپس میں لڑا دیتے ہیں مگر اپنے طور پر جب ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہوتے ہیں – اور انہیں پبلک کو غصہ دلانے کا فن تو آتا ہے مگر مجال ہے خود غصہ کھائیں بلکہ حد درجے کے ڈھیٹ ہوتے ہیں – جو جتنا زیادہ ڈھیٹ اور غصے سے دور ہوگا وہ اتنا ہی کامیاب ہوگا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •