وارث میر میرے محسن کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا خاندان جماعت اسلامی سے وابستہ تھا جس کے باعث بچپن سے ہی ایسا ماحول ملا کہ مولانا مودودی کے لکھے ایک ایک لفظ سے تقدیس کی بوندیں ٹپکتی نظر آتی تھیں۔ ان کا بیان کردہ ہر نکتہ احترام آمیز حیرت میں مبتلا کر دیتا تھا اور خیال آتا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک شخصیت پر انفرادی و اجتماعی زندگی سے جڑا ہر راز آشکار کر دیا ہے۔ ان کے خیالات پر تنقید کرنے کی نہ جسارت تھی اور نہ ہی سکت۔ بس انہیں پڑھتے تھے اور سر دھنتے تھے۔

نویں جماعت میں گھر کے ساتھ موجود عیسائی مشنریوں کی تمام لائبریری پڑھ ڈالیں، تثلیث کا فلسفہ کچھ سمجھ میں آیا، کچھ نہ آیا لیکن اس کچی عمر میں بھی مولانا صاحب کی تحریروں نے اسلام کی حقانیت پر ایمان برقرار رکھا۔۔۔ کینیڈا سے آئے مسیحی خاندان کے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں بچپن گزرا لیکن اپنے مذہب پر یقین کی جڑیں کہیں سے بھی کمزور نہ ہو پائیں۔۔

پھر جوان ہوئے، مطالعہ وسیع ہوا۔۔۔ سبط حسن کی سوچ اور فکر پرویز سے آگہی نصیب ہوئی۔۔ یہ دونوں شخصیات ۔۔۔ اور بعد ازاں ان جیسے بے شمار سوچنے والوں کے خیالات جاننے کا موقع ملا لیکن شکوک و شبہات کے سب دروازوں پر مولانا صاحب کی عقیدت اور ہیبت کی کنڈی لگی ہوئی تھی۔۔ گریجوایشن میں فلسفے کا مضمون منتخب کیا تو حیرت سے بھری ایک نئی کھڑکی کھلی۔۔ لیکن اس کے باہر جب بھی جھانکنے کی کوشش کی، سیدنا مودودی کو خشمگیں نظروں سے گھورتے پایا۔۔ اس دوران علم نفسیات کی شد بد نصیب ہوئی اور فرائیڈ، ژونگ وغیرہ کے خیالات سے تعارف میسر ہوا تو پتا چلا کہ اس موضوع کو بھی مودودی صاحب نے طنز و تشنیع کے تیشے سے چھلنی کیا ہوا تھا۔

کتابیں پڑھنے کا شوق لاحق تھا۔ علم و دانش کے تازہ جھونکے فصیل عقل پر دستک دینے آتے تو تفہیمات، تنقیہات اور دینیات جیسی کتب سے دلائل کی دھونکنی چلنا شروع ہو جاتی۔ جب من کے مندر میں کسی کو دیوتا بنا کر پوجنا شروع کر دیا جائے تو پھر انسان اسی کے اردگرد دیوانہ وار طواف کرنے لگتا ہے۔ ن م راشد کے کوزہ گر کو اس کی بیوی شانوں سے ہلا کر سوال کرتی اور اپنے ویران گھر پر نظر کرنے کو کہتی۔ مگر بچپن سے عقیدت کے درخت نے جسم و جاں کے ہر گوشے میں جڑیں پھیلائی ہوئی تھیں، اس لیے تمام اختلافی آوازیں بہرے کانوں پر رائیگاں جاتی تھیں۔

پھر یوں ہوا کہ افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی اور جب وہاں سے واپس آئے تو دل میں کچھ نہ کچھ بکھر چکا تھا۔

اس بے قراری کے لمحات میں کسی نے پروفیسر وارث میر کی کتاب ‘کیا عورت آدھی ہے’ تھما دی اور میں نے بے دلی سے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ جوں جوں کتاب آگے بڑھتی گئی میری دلچسپی اس میں بڑھتی گئی اور آنکھیں کھلتی گئیں۔ مولانا مودودی کی کتاب ‘پردہ’ پر وارث میر نے جو تنقید کی، اس کی روشنی میں اس کتاب کو دوبارہ پڑھا اور دل نے حیران ہو کر فیصلہ صادر کیا کہ یہ تنقید درست ہے۔۔۔

اس کتاب نے دل و دماغ میں محشر بپا کر دیا۔۔۔ عقیدت کی زنجیریں پہلے کمزور پڑیں اور پھر ٹوٹ گئیں۔۔ ذہن پر چھائی سبز انقلاب کی کائی چھٹنے لگی۔۔۔ اور تازہ خیالات کا ایک چشمہ نمودار ہونے لگا۔۔۔

پروفیسر وارث میر کی انگلی پکڑ کر حریت فکر کی شاہراہ پر قدم دھرے تو پھر آج تک مڑ کر واپس نہیں دیکھا۔۔ یہ شاہراہ وسیع تر ہوتی گئی، اس میں تشکیک کے کئی موڑ آئے، سچائی کی تلاش میں ناکامیوں نے دل گرفتہ کیا، اپنے محدود ذہن کی نارسائی نے چڑچڑا کر دیا، دانشوروں، مفکروں، مذہبی عالموں اور فلسفیوں کی گوناگوں آوازوں نے ذہن کی وادی میں چہار سو ایک محشر بپا کر دیا، کبھی گمراہی کی قدر سیکھی اور کسی جگہ راہ راست پر چلنے کی خرابیوں سے آگہی نصیب ہوئی۔۔۔ ان تمام کیفیات سے گزرتے وقت وارث میر صاحب بار بار یاد آئے اور امید بندھاتے رہے کہ یہ سفر بہرحال تمام ہو گا۔

حق کی جستجو آج بھی جاری ہے، تشکیک ذہن کے ایک وسیع حصے پر مستقل طور پر قابض ہے اور مایوسیاں آج بھی دامن گیر رہتی ہیں لیکن فکر و علم کے اس وسیع صحرا میں جہاں بھی یقین، ایمان اور اطمینان کے نخلستان میسر آتے رہے ان کے لیے ہمیشہ وارث میر کا احسان یاد رکھا ہے جنہوں نے نہ صرف سوچ پر چھایا جمود توڑا بلکہ فکر نو کو قبول کرنا اور اسے حتی الامکان عقل کی کسوٹی پر پرکھنا بھی سکھایا۔

آج جب یہ خبر سامنے آئی کہ حکومت نے ان کے نام سے منسوب انڈر پاس کا نام بدل دیا ہے تو شدید اداسی روح میں سرایت کر گئی۔ نہ جانے سچائی کے سراب کے پیچھے بھاگتے مجھ جیسے کتنے لوگوں نے پروفیسر صاحب کی انگلی پکڑ کر روایتی سوچ سے ہٹ کر سوچنا سیکھا ہو گا۔ آج بھی ان کے لکھے کالم سامنے آ جائیں تو فکر کے کئی نئے در وا ہو جاتے ہیں۔

زندہ قومیں اپنے دانشوروں کی قدر کرتی ہیں اور انہیں رول ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ہمارے دامن میں ویسے بھی گنے چنے نام ہی بکھرے ہیں۔ اگر ہم ذاتی غصے کے باعث انہیں اجتماعی یادداشت سے مٹانے کے درپے ہو گئے تو اس سے سماج کا تہذیبی پہلو کمزور پڑ جائے گا، تاریکی کی قوتوں کو مضبوطی ملے گی اور علم کی روشنیوں سے جگمگاتی روحوں کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ پی ٹی آئی حکومت کے بدترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ اسے ہر صورت واپس لینا چاہیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •