پرنس اینڈریو کا 1000 سے زائد خواتین سے جنسی تعلق رہا مگر انہیں نوعمر بچیوں میں دلچسپی نہیں: قریبی حلقوں کا دعویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے سکینڈل میں ملوث ارب پتی جیفری ایپ اسٹائن کی زیر حراست خود کشی کے بعد اب برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کو ان دعووں کا سامنا ہے کہ انہوں نے 1000 سے زائد خواتین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔

ڈیلی سن کے مطابق، پرنس اینڈریو کے قریبی دوست کہتے ہیں کہ شہزادہ اینڈریو کی زندگی میں جنسی تعلقات ایک ‘بڑی چیز’ ہیں، تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ پرنس اینڈریو ‘کم عمر لڑکیوں’ کے ساتھ جنسی افعال میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

کم سن بچیوں کو جنسی غلام بنانے کے الزامات میں گرفتار ارب پتی ایپ اسٹائن کے ساتھ پرنس اینڈریو کے قریبی تعلقات کی خبریں بہت پہلے سے گردش میں تھیں تاہم ایپ اسٹائن کی خودکشی کے بعد ان خبروں میں مزید تفصیلات کا اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں پرنس اینڈریو (ڈیوک آف یارک) میڈیا کی کڑی نگرانی میں رہے ہیں۔ اس دوران ان کی ایسی تصاویر سامنے آئیں جن میں انہوں نے عمر رسیدہ سرمایہ دار ایپ اسٹائن کی 17 سالہ ‘جنسی غلام’ ورجینیا رابرٹس کی کمر کے گرد بازو لپیٹ رکھا ہے۔

تاہم ، پرنس اینڈریو کے قریبی حلقے اصرار کرتے ہیں کہ اینڈریو صرف ‘معمول کے جنسی تعلقات’ قائم کرتے ہیں اور وہ نوعمر لڑکیوں کے ساتھ کبھی نہیں سوئے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ ڈیوک آف یارک نے اپنے شاہی فرائض اور اپنے اہل خانہ کی ذمہ داریوں کے ساتھ ایک ‘پلے بوائے’ طرز زندگی کو متوازن کر رکھا ہے۔

پرنس اینڈریو کا اندرونی حلقہ دعویٰ کرتا ہے کہ نت نئے جنسی تعلقات کی خواہش ہی کا نتیجہ ہے کہ پرنس اینڈریو نے سارہ فرگوسن سے قربت کے باوجود ان سے دوبارہ شادی نہیں کی۔ ان کے دوست کہتے ہیں، کہ پرنس اینڈریو ‘شراب نہیں پیتا، سگریٹ نہیں پیتا اور اس نے کبھی منشیات استعمال نہیں کیں تاہم وہ اس کی زندگی میں جنسی تعلقات کو کلیدی جگہ حاصل ہے۔

جب وہ چھوٹا تھا تو اسے رینڈی اینڈی کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس کی وجہ اس کی حد سے بڑھی ہوئی جنسی خواہش ہی تھی۔ برطانیہ کے تجارتی سفیر کے طور پر اور دیگر شاہی فرائض کی انجام دہی میں اسے پوری دنیا کے سفر کرنے کا موقع ملتا تھا جہاں اسے خوبصورت خواتین تک کھلی رسائی حاصل تھی اور اس نے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔’

شہزادہ اینڈریو کو 1990 کی دہائی میں ایپ سٹائن سے تعارف کرایا گیا تھا۔ ایپ سٹائن کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کے جرم میں 13 ماہ کی سزا بھگتنے کے بعد بھی اس کا دوست رہا حالانکہ تب وہ رجسٹرڈ جنسی مجرم بن چکا تھا۔

ایپ سٹاین کی ‘جنسی غلام’ ورجینیا رابرٹس نے عدالتی دستاویزات میں الزام لگایا ہے کہ جب وہ 17 سال کی تھی تو اسے ڈیوک آف یارک کے ساتھ جنسی تعلقات کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اس نے دعوی کیا ہے کہ اینڈریو تین بار اس کے ساتھ سویا تھا، تاہم شاہی محل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

ڈیوک آف یارک کے قریبی دوست اصرار کرتے ہیں کہ اگرچہ پرنس اینڈریو کے ایک ہزار سے زیادہ خواتین کے ساتھ ‘مراسم’ رہے ہیں لیکن اسے نوعمر لڑکیوں میں دلچسپی نہیں ہے کیونکہ خوبصورت عورتیں اسے ‘دلکش’ سمجھتی ہیں۔

شہزادہ اینڈریو نے رواں ہفتے اہنی سابقہ ​​اہلیہ سارہ فرگوسن کے اسپین میں گولف کھیل کر ان فوری معاملات کو جھٹکنے کی کوشش کی۔ سابق جوڑا اسپین میں چھٹیاں منا رہا ہے۔ شہزادہ اینڈریو کی سارہ فرگوسن کے ساتھ قربت اسی لئے ہے کہ اسے ‘استحکام’ کی ضرورت ہے۔ ایک دوست کے مطابق، پرنس اینڈریو کی رومانوی دلچسپیاں بہت کم عرصے کے لئے ہوتی ہیں۔

طلاق شدہ جوڑے اینڈریو اور فرگی کو گذشتہ ہفتے ملاگا ایئرپورٹ پر ایک نجی جیٹ جہاز سے اترتے ہوئے دیکھا گیا، اس وقت تک نیویارک میں ایپ اسٹائن کی خودکشی کی خبر آ چکی تھی۔

ڈیوک آف یارک اور ڈچس آف یارک لیموزین کے ذریعہ لگژری ستوگراینڈی ریزورٹ میں چلے گئے۔ دونوں 2009 سے لے کر اب تک 38 ملین ڈالر کی اس جائیداد پر ایک ساتھ چھٹیاں مناتے رہے ہیں۔

بکنگھم پیلس نے رواں ہفتے کے ایک بیان میں کہا: ‘جیفری ایپ سٹاین کے مبینہ جرائم کی حالیہ خبروں سے ڈیوک آف یارک کو صدمہ پہنچا ہے… اور یہ خیال بھی کراہت آمیز ہے کہ ڈیوک آف یارک نے اس قسم کی سرگرمیوں کی کبھی تائید کی ہو، کجا یہ کہ وہ ان میں شریک رہے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •