تخلیقی تخریب اور مذہبی مدارس

تخلیقی تخریب یا Creative Destruction معیشت کا ایک تصور ہے۔ اس کی سادہ تعریف یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی پرانے طریقے، اشیاء اور خدمات متروک ہوتی جاتی ہیں اور ان کی جگہ جدید اشیاء و خدمات لیتی رہتی ہیں۔ انسان کی تخلیقیت تخریب کا کام کرتی ہے اور اس سے نئے امکانات جنم لیتے ہیں۔

اسی اصول کو سماج کے مختلف اداروں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ غلامی ایک دور میں سماج کا ناگزیر ادارہ تھا مگر جب مشینوں نے انسانوں کا کام سنبھالا تو اس کی ضرورت باقی نہ رہی اور پوری دنیا سے یہ ادارہ مٹ گیا۔

Read more

جتھوں میں تقسیم معاشرہ

سانحہ ساہیوال پر آنے والا فیصلہ کسی کے لیے غیر متوقع نہیں تھا اس کے باوجود ہر دل اداس ہے، لہجوں میں غصہ در آیا ہے، آنکھیں اشکبار ہو گئی ہیں۔ سب کو علم ہے کہ کونسا طاقتور ادارہ پردے کے پیچھے ڈوریاں ہلا رہا تھا، اس طرف اشارے بھی کیے جا رہے ہیں اور کھل کر نام بھی لیا جا رہا ہے لیکن عدل و انصاف کے دیوتا آسائش بھری وادیوں میں محو خواب ہیں۔ اس سے قبل ہم

Read more

وارث میر میرے محسن کیوں ہیں؟

میرا خاندان جماعت اسلامی سے وابستہ تھا جس کے باعث بچپن سے ہی ایسا ماحول ملا کہ مولانا مودودی کے لکھے ایک ایک لفظ سے تقدیس کی بوندیں ٹپکتی نظر آتی تھیں۔ ان کا بیان کردہ ہر نکتہ احترام آمیز حیرت میں مبتلا کر دیتا تھا اور خیال آتا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک شخصیت پر انفرادی و اجتماعی زندگی سے جڑا ہر راز آشکار کر دیا ہے۔ ان کے خیالات پر تنقید کرنے کی نہ جسارت تھی

Read more

مذہبی رہنما، سیاسی اسلام اور نفرتوں کا کاروبار

میرا بچپن جس گھر میں گزرا وہاں ہمارے قریب ترین ہمسایے کینیڈا سے آئے ہوئے پادری مسٹر لارنس تھے۔ میرے والد صاحب جماعت اسلامی کے رکن تھے لیکن اپنے عیسائی ہمسایوں کے ساتھ ہمارے گھرانے کے بہت دوستانہ تعلقات تھے۔ ہم اکثر ایک دوسرے کو دعوت پر بلایا کرتے تھے جہاں میرے والد صاحب اور مسٹر لارنس کے درمیان خوب مذہبی بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ دونوں اپنے اپنے مذہب کے سچے ہونے کے حق میں دلائل دیتے تھے، اس بحث

Read more

پاکستانی معاشرہ سیکولر سوچ کے قریب کیوں ہو رہا ہے؟

ہمارا سماج تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یہاں روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جس میں ظالم اور مظلوم کا فرق واضح ہوتا ہے۔ ان حالات میں اگر ایک طبقہ مسلسل مظلوموں کے حق میں بولے گا اور دوسرا یا خاموش رہے گا یا اگر مگر کی پیچیدگیوں میں الجھا رہے گا تو عوام اسی فلسفے کو پسند کریں گے جو مظلوم کا ساتھ دے گا۔ عام آدمی عمل دیکھتا ہے اور اس سے متاثر ہوتا ہے، فلسفوں اور نظریات کی طرف اس کا جھکاؤ اسی بنیاد پر ہوتا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں مختلف شہروں میں لاکھوں شہری کئی دن تک جس اذیت میں مبتلا رہے اس پر تمام مذہبی رہنماؤں کا رویہ مکمل سنگ دلی کا عکاس تھا۔ سب کی کوشش تھی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اپنی اپنی سیاست چمکائی جائے۔ ایسے مواقع پر اسلامسٹ دانشور بھی یا تو سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں نکالنے میں مصروف رہے یا پھر ہزاروں برس پرانے فقہی مباحث سامنے لاتے رہے جو موجودہ دور میں فرسودہ ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر جاری غنڈہ گردی، موٹر وے پر پھنسے ہزاروں شہری، غریب لوگوں کے جلتے موٹر سائیکل۔ ان تمام مناظر سے نظریں بھی چرائی گئیں، ان کے جواز بھی تراشے گئے اور کئی بار ان واقعات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی طبقہ شدید قسم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا ہے۔

Read more