ہمارا سماج تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یہاں روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جس میں ظالم اور مظلوم کا فرق واضح ہوتا ہے۔ ان حالات میں اگر ایک طبقہ مسلسل مظلوموں کے حق میں بولے گا اور دوسرا یا خاموش رہے گا یا اگر مگر کی پیچیدگیوں میں الجھا رہے گا تو عوام اسی فلسفے کو پسند کریں گے جو مظلوم کا ساتھ دے گا۔ عام آدمی عمل دیکھتا ہے اور اس سے متاثر ہوتا ہے، فلسفوں اور نظریات کی طرف اس کا جھکاؤ اسی بنیاد پر ہوتا ہے۔
تحریک لبیک پاکستان کے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں مختلف شہروں میں لاکھوں شہری کئی دن تک جس اذیت میں مبتلا رہے اس پر تمام مذہبی رہنماؤں کا رویہ مکمل سنگ دلی کا عکاس تھا۔ سب کی کوشش تھی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اپنی اپنی سیاست چمکائی جائے۔ ایسے مواقع پر اسلامسٹ دانشور بھی یا تو سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں نکالنے میں مصروف رہے یا پھر ہزاروں برس پرانے فقہی مباحث سامنے لاتے رہے جو موجودہ دور میں فرسودہ ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر جاری غنڈہ گردی، موٹر وے پر پھنسے ہزاروں شہری، غریب لوگوں کے جلتے موٹر سائیکل۔ ان تمام مناظر سے نظریں بھی چرائی گئیں، ان کے جواز بھی تراشے گئے اور کئی بار ان واقعات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی طبقہ شدید قسم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا ہے۔
Read more