مذہبی رہنما، سیاسی اسلام اور نفرتوں کا کاروبار

میرا بچپن جس گھر میں گزرا وہاں ہمارے قریب ترین ہمسایے کینیڈا سے آئے ہوئے پادری مسٹر لارنس تھے۔ میرے والد صاحب جماعت اسلامی کے رکن تھے لیکن اپنے عیسائی ہمسایوں کے ساتھ ہمارے گھرانے کے بہت دوستانہ تعلقات تھے۔ ہم اکثر ایک دوسرے کو دعوت پر بلایا کرتے تھے جہاں میرے والد صاحب اور…

Read more

پاکستانی معاشرہ سیکولر سوچ کے قریب کیوں ہو رہا ہے؟

ہمارا سماج تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یہاں روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جس میں ظالم اور مظلوم کا فرق واضح ہوتا ہے۔ ان حالات میں اگر ایک طبقہ مسلسل مظلوموں کے حق میں بولے گا اور دوسرا یا خاموش رہے گا یا اگر مگر کی پیچیدگیوں میں الجھا رہے گا تو عوام اسی فلسفے کو پسند کریں گے جو مظلوم کا ساتھ دے گا۔ عام آدمی عمل دیکھتا ہے اور اس سے متاثر ہوتا ہے، فلسفوں اور نظریات کی طرف اس کا جھکاؤ اسی بنیاد پر ہوتا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں مختلف شہروں میں لاکھوں شہری کئی دن تک جس اذیت میں مبتلا رہے اس پر تمام مذہبی رہنماؤں کا رویہ مکمل سنگ دلی کا عکاس تھا۔ سب کی کوشش تھی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اپنی اپنی سیاست چمکائی جائے۔ ایسے مواقع پر اسلامسٹ دانشور بھی یا تو سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں نکالنے میں مصروف رہے یا پھر ہزاروں برس پرانے فقہی مباحث سامنے لاتے رہے جو موجودہ دور میں فرسودہ ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر جاری غنڈہ گردی، موٹر وے پر پھنسے ہزاروں شہری، غریب لوگوں کے جلتے موٹر سائیکل۔ ان تمام مناظر سے نظریں بھی چرائی گئیں، ان کے جواز بھی تراشے گئے اور کئی بار ان واقعات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی طبقہ شدید قسم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا ہے۔

Read more