یوٹیلٹی اسٹورز کی ڈوبتی کشتی کا سہارا، عمرلودھی صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا مل گیا ہے۔ چودہ ہزار ورکرز بے روزگار ہونے سے بچ گئے ہیں۔ ادارے کو مالی بحران سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیا گیا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایک سال سے خالی پڑے سٹوروں کی رونقیں اب بحال ہوچکی ہیں۔ سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی اسٹوروں پر دستیابی، مہنگائی سے تنگ عوامی حلقوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

یہ سب تب ممکن ہوا جب اس غریب پرور ادارے کی باگ ڈور ایک محنتی، ایماندار، مخلص، قابل اور پروفیشنل شخصیت کے ہاتھوں میں آگئی۔ یہ یوٹیلٹی اسٹورز میں کام کرنے والے چودہ ہزار ورکروں کی خوش قسمتی ہے کہ جن کو عمر لودھی جیسا سربراہ مل گیا ہے۔ ان کی بطور منیجنگ ڈائریکٹر (MD) تعیناتی کے بعد ملازمین نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔ اپنے نئے سربراہ کے ساتھ بھرپور تعاون اور دن رات محنت کرنے کا عہد بھی کردیا ہے۔

آپ کو وہ دن یاد ہوں گے جب اخبارات اور ٹیلی ویژن پر یوٹیلٹی اسٹورز کی مالی بحران، اشیائے خوردونوش کی عدم دستیابی اور مالی بے ضابتگیوں کی خبریں عام تھیں۔ آپ کو وہ وقت بھی یاد ہوگا جب ملازمین کو اپنے روزگار کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔ ورکروں کے تنخواہ کے لئے بھی فنڈز نہیں تھے۔ وہ اپنے روزگار اور ادارے کو بچانے کے لئے اسلام آباد کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ عوام ہو یا ملازمین ہر کوئی اس ادارے کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر پریشان تھا۔

وزارت صنعت و پیداوار نے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز دی تھی کہ اس ادارے کو بند کردیا جائے۔ کیونکہ حکومت اس مشکل حالت میں مزید نقصان برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کوبخوبی علم تھا کہ ایک ادارے کے بند ہونے سے کیا مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان کو اندازہ تھا کہ اس ادارے کو ختم کرنے پر چودہ ہزار ورکروں کے ساتھ ساتھ ادارے سے جڑے دیگر لوگوں کا بھی معاشی قتل ہوسکتا تھا۔ اس ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ادارے کو بند کرنے سے انکار کردیا۔ اور ہدایات دی کہ ادارے میں قابل لوگوں کی تعینات عمل میں لائی جائے اور ادارے کو بحران سے نکالا جائے تاکہ اسٹورز کو اپگریڈ کرکے بہتر طریقے سے چلایا جاسکے۔ حکومت کی نظر میں عمر لودھی صاحب ہی وہ شخصیت تھی جو یوٹیلٹی سٹورز کو تباہی کے اس دہانے سے نکال کر دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا کرسکتا تھا۔

حکومت نے عمر لودھی صاحب کو بطور مستقل منیجنگ ڈائریکٹر (MD) یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن تعینات کردیا۔ یہ حکومت وقت کا ایک بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔ عمر لودھی صاحب نے اس ادارے کی باگ ڈور سنبھال لی۔ انہوں نے اس وقت چارج سنبھالا جب ادارے میں افراتفری کا عالم تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ منہ کھول کے سامنے کھڑا تھا۔ میڈیا میں ادارے کی ختم ہونے کی خبریں چل رہی تھی۔ ورکرز یونین نے ہیڈ آفس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا ہوا تھا۔

کمپینیوں نے سامان کی فراہمی بند کردی تھی۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا تھا کہ کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ ادارہ دوبارہ بحال ہو سکے گا۔ اس سنگین بحران اور ان تمام تر مشکل حالات سے آگاہی کے باوجود عمر لودھی صاحب نے اسے اپنے لئے بطور چلنج قبول کیا۔ کہتے ہیں ہمت مردان مدد خدا۔ جب عمر لودھی صاحب نے نیک نیتی اور خلوص سے ادارے کو بحران سے نکالنے کا عہد کیا تو خداوند کریم نے مدد فرمائی اور روز بروز ادارے کے حالات بہتر ہونے لگی۔

ایم ڈی صاحب نے بڑے پیشہ وارنہ طریقے سے مسائل پر قابو پالیا۔ سب سے پہلے ملک کے تمام 6 ہزار اسٹوروں پر سامان کی دستیابی کا مسئلہ تھا ملک بھر کے تمام سٹورز خالی پڑے تھے۔ کمپنیوں سے کامیاب مذاکر ات کے بعد سٹوروں پر سامان کی ترسیل شروع ہوگئی۔ آج الحمدللہ تمام سٹورز پر پچاس فیصد سے زیادہ سامان دستیاب ہے۔ اور روز بروز سٹورز کی سیل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے درجنوں ایم ڈی تعینات کردیئے لیکن یوٹیلٹی سٹورز کی تاریخ میں عمر لودھی صاحب وہ واحد ایم ڈی ہیں جنہوں نے پورے پاکستان کے تمام سٹوروں کا دورہ کیا ہے۔

وہ اپنے دورے کے دوران ملازمین سے ایک ایک چیز کے حوالے سے بریفنگ لیتے ہیں۔ اس وقت یوٹیلٹی سٹورز کو کمپیوٹرایز کرنے پر کام ہورہا ہے۔ بہت جلد ایک ہزار سے زائد بڑے سٹوروں کو ہیڈ آفس اسلام آباد سے لنک کردیا جائے گا۔ اگلے چند مہینوں میں پاکستان کے بڑے شہروں میں میگا سٹورز بھی کھول دیے جائیں گے۔ آنے والے وقتوں میں یوٹیلٹی سٹورز اپنی پراڈکٹ بھی متعارف کرونے والا ہے۔ جس سے کم آمدنی والے افراد اور مستحق افراد استفادہ کریں گے۔

ایم ڈی صاحب نے مشکل حالات کے باوجود رمضان المبارک میں عوام کے لئے ایک بہترین پکیج دیا۔ اور آج بھی یوٹیلٹی سٹورز پر سامان بازار سے بہت کم قیمت پر دستیاب ہے۔ عمر لودھی صاحب کی تعیناتی کے بعد جس طرح سے کام ہورہا ہے اگر اسی طرح کام جاری رہا تو آئندہ ایک سال میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ایک کامیاب ادارے کے طور پر سامنے آئے گا۔

(عمر لودھی صاحب یوٹیلٹی سٹورز کے لئے ہما ثابت ہورہے ہیں۔ )

کہا جاتا ہے ہما جس شخص کے سر پر بیٹھ جائے یا جس شہر، گاؤں سے اس کا گزر ہو اس انسان، شہر یا پھر اس گاؤں کی قسمت بدل جاتی ہے۔ ہما کسی بھی علاقے سے گزرنا اس علاقے کی خوش قسمتی سمجھی جاتی ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی خوش قسمتی تھی کہ جس کے سرپرستی عمر لودھی صاحب نے اٹھائی ہے۔ ان دنوں عمر لودھی صاحب گلگت بلتستان کے دورے پر ہیں۔ ان کے دورے سے قبل ہی اشیائے خوردونوش کی بہت بڑی کھیب گلگت بلتستان کے سٹورز پر پہنچ گئی ہے۔

یہ تاریخ کا پہلا ایم ڈی ہے جس نے گلگت بلتستان کا رخ کیا ہے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے گلگت شہر، ہنزہ کے ہر اسٹور کا دورہ کیا ہے اور اسی طرح گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں اسٹورز کا تفصیلی دورہ کریں گے۔ ان کے اس دورے سے ان علاقوں کی قسمت بھی بدل جائے گی۔ امید کہ جاتی ہے ایم ڈی صاحب گلگت بلتستان کے لئے اس نیاب پرندہ ہما ثابت ہوں گے۔ اور گلگت شہر سمیت تمام اضلاع کے مرکز میں ایک ایک میگا/ سپر اسٹورز کی منظوری دیں گے۔ جس سے نہ صرف عوام کو سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش بازار سے کم قمیت پر دستیاب ہوں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •