بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے: بلاول بھٹو کے لئے نوبل انعام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کائنات اپنے سینے میں ہزاروں بھید چھپائے بیٹھی ہے بعض اوقات کوئی اتفاق یا حادثہ ان پو شیدہ رازوں کو بل بھر میں عیاں کر دیتا ہے۔ جیسے کہ 1800 کی ہائی میں برطانوی فارماسسٹ جان ولکر کے ہاتھوں ما چس کی ایجاد، زمین پر گرتے ہوئے سیب کو دیکھ کر کشش ثقل کی دریافت، الیگزینڈر فلیمنگ کی لیب میں اتفاقیہ پھپھوندی کا نمودار ہونا اور پنسلین کی دریافت وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح گذشتہ روز بلاول بھٹو صاحب نے یہ کہہ کر کہ ”بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے، بارش زیادہ آتا ہے تو پانی زیادہ آتا ہے“، علم ِ آبی ذخائر کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

اس معلوماتی بیان نے ماہرینِ آبی ذخائر کی سو چ وفکر کو نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ تحقیق کی وہ منزلیں جن کو سر کرنے کے لیے ماہرین دن رات تگ و دو کر رہے تھے۔ بلاول بھٹو صاحب نے ایک ہی جست میں طے کر لیں نیز ماہرین جو تفریط آب اور ا فراط آب کی وجوہات بتانے سے آج تک ”قاصر“ تھے۔ بلاول بھٹو صاحب نے بیک جنبش لب ان کی یہ دیرینہ مشکل بھی آسان کر دی۔ بلاول بھٹو نے مذکورہ بیان میں ”بارش“ کے لیے مذکر صیغہ استعمال کر کے ان اُردو شعراء کو بھی اپنی اصلا ح کا موقع فراہم کیا ہے، جوآج تک اپنی تخلیقات میں بارش کے لیے مونث کا صیغہ برتتے رہے ہیں۔

تصنیف و تالیف میں مصروف قومی و نجی ادروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقات میں بارش کا لفظ برتنے سے پہلے ماہر لسانیات جنابِ بلاول بھٹو صاحب سے مشاورت ضرور کر لیں۔ مجھے بلاول صاحب کے فرمودات سن کر حضرت اقبالؒ کا فرمایا ہو ا یاد آگیا، کہ آداب فرزندی کا سیکھنا مکتب کی کرامت نہیں بلکہ فیضان نظر کا کرشمہ ہے۔ یاد رہے کہ بلاول صاحب کی تعلیم و تربیت پیران پیر اعلی حضرت جناب آصف علی زرداری صاحب کے زیرِ سرپرستی تکمیل پائی ہے۔

یہ انہی کا فیضانِ نظر ہے کہ وہ سیاسی و سماجی شخصیت ہونے کے باجود سائنسی و لسانی مو ضوعات پر بھی قوم کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ کسی قوم کو ایسا رہنما مل جائے جو سماجی معاشی لسانی اور سائنسی علوم پر دسترس رکھتا ہو تو میرے خیال میں قوم کو بارگاہِ خدا میں سجدہ شکر بجا لا چاہیے۔ ، ہم بلاول بھٹو صاحب کو کائنات کے پوشیدہ رازوں کو آشکا ر کرنے اور اہل زبان کی اصلاح کر نے پر خرا ج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان ہر قسم کے سیاسی، صوبائی اور لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر بلا ول بھٹو صاحب کا نام نوبل انعام کے منتخب کرے گی۔ مزید یہ کہ حکومت فوری طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کا قلم دان بلاول صاحب کو سونپ کر علم دوستی اور وطن پرستی کا ثبوت دے گی۔

ہم انتہائی عاجزی سے یہ بھی التماس کرتے ہیں کہ تحقیقی اور تعلیمی اداروں میں سائنسی موضوعات پر بلاول صاحب کا ماہانہ بنیادوں پر لیکچرکا اہتمام کیا جائے۔ تا کہ ہمارے ادارے سائنس و تحقیق کے میدان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرسکیں۔ بلاول صاحب کے فرموداتِ عالیہ کو درسی کتا بوں کے سرورق کی زینت بھی بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس اقدام پر طلبا میں سائنسی و لسانی شعور بیدار ہوگا۔ نیز علم دوستی اور مادری زبان سے محبت پروان چڑھے گی۔ جس کے ثمرات آنے والے زمانوں میں نمودار ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •